تازہ ترینعلاقائی

پھولنگر: ڈاکٹرز،پیرامیڈیکل سٹاف اور جدید مشینری کی کمی کے باوجود روزانہ درجنوں مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ڈاکٹر محمد آصف

بھائی پھیرو(نامہ نگار)بھائی پھیرو میں کروڑوں روپے سے بننے والا،،پھول ٹراما سنٹر،،ایک انتھیزیا ڈاکٹر کی سیٹ خالی ہونے کی وجہ سے آپریشن کرنے سے قاصر۔عملہ کی کمی کی وجہ سے حادثاتی مریضوں کے آپریشن کرنے کی بجائے سیریس مریضوں کو لاہور ریفر کر دیا جاتا ہے۔جدید میڈیکل مشینوں کی کمی کی وجہ سے درجنوں مریض لاہور ریفر۔عوامی سماجی حلقوں کا تبدیلی حکومت سے ٹراما سنٹر کانوٹس لینے کا مطالبہ۔ ڈاکٹروں،پیرامیڈیکل سٹاف اور جدید مشینری کی کمی کے باوجود روزانہ درجنوں مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔انچارج ڈاکٹر محمد آصف کا موقف۔۔تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت لاہور سے 50کلومیٹر دور بھائی پھیروواقع ہے علاقہ کی آبادی چار لاکھ افراد پر مشتمل ہے۔ممبر قومی اسمبلی سردار طالب نکئی کے حلقہ میں بھائی پھیرو شہر میں قائم سول ہسپتال میں عوام کومیڈیکل کی ناکافی سہولتیں ہونے کی وجہ سے یہاں کروڑوں روپے کی لاگت سے شہر سے دور بنگہ بلوچاں میں پر ایک،،پھول ٹراما سنٹر،،تعمیر کروایا مگر افسوس کہ کئی سال قبل بننے والے اس ٹراما سنٹر میں دو انتھیزیا ڈاکٹروں کی سیٹوں میں سے ایک انتھیزیا ڈاکٹر کی سیٹ عرصہ دراز سے خالی پڑی ہے اور نہ ہی اس ہسپتال میں صحت کی بحالی کیلیے پیرا میڈیکل سٹاف کا عملہ پورا ہے۔ اور یہاں ہسپتال نام کی کوئی سہولت نہیں بلکہ پھول ٹراما سنٹر یہاں کے مریضوں کو کانٹا سنٹر کی طرح چھبنے لگا ہے۔ ایک انتھیزیا ڈاکٹر کی عدم موجودگی اور عملہ پورا نہ ہونے کی وجہ سے یہاں اکثر مریضوں کا آپریشن نہیں کیا جاتا بلکہ ان مریضوں کو لاہور ریفر کر دیا جاتا ہے۔ہسپتال میں کروڑوں روپے کی جدید ترین مشینری اور لاکھوں روپے کی ادویات اور آپریشن کرنے کے اوازار اور دو سپیشلسٹ ڈاکٹر بھی موجود ہیں مگر صرف بے ہوش کرنے کا ایک ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سے سب پڑے پڑے بے کار ہو رہے ہیں۔ عملہ پورا نہ ہونے کی وجہ سے یہ ہسپتال نہ صرف یہاں کے حکمرانوں بلکہ تبدیلی حکومت کی گڈ گورنس کا منہ چڑا رہا ہے۔اس ہسپتال میں انتھیزیا ڈاکٹروں کی دو سیٹیں منظور ہیں مگر یہاں ایک انتھیزیا ڈاکٹر نہیں جو آپریشن کیلیے مریضوں کو بے ہوش کرنے کیلیے ضروری ہوتا ہے۔نیروسرجن کی ایک سیٹ منظور ہے مگر یہاں کوئی نیرو سرجن ڈاکٹر نہیں۔ اسی طرح ای سی جی کی دونوں سیٹیں خالی ہیں۔محکمہ صحت کی نااہلی اور غفلت کی وجہ سے ٹراما سنٹر میں صرف دو ڈاکٹر ہیں اورزچہ بچہ کی سہو لت موجود نہ ہے۔ ہسپتال کا اللہ ہی حافظ ہے۔ملتان روڈ پر حادثات اور فیکٹری ایریا ہونے کی وجہ سے روزانہ کئی مریض دور دور سے آتے ہیں مگر انتھیزیا ڈاکٹر موجود نہ ہونے کی وجہ سے انہیں لاہور ریفر کر دیا جاتا ہے۔ شباب ملی بھائی پھیرو کے رہنما ملک محمد عثمان، ملک ریاست،امیدوار کونسلرمقبول احمد کمبوہ،سابق کونسلر زاہد محموداوردیگر عوامی سماجی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب اورمحکمہ صحت کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقہ کے کروڑوں روپے کے ٹراما سنٹر کی حالت زار کا نوٹس لیکر عملہ پورا کیا جائے اور انتھیزیا ڈاکٹر فوری طور پر مہیا کیا جائے تاکہ یہاں آپریشن کیے جا سکیں اور کروڑوں روپے کی مشینری اور ادویات کو بے کار ہونے سے بچایا جا سکے۔انچارج ٹراما سنٹر ڈاکٹر محمد آصف نے اپنا موقف بتاتے کہا کہ ڈاکٹروں،پیرامیڈیکل سٹاف اور جدید مشینری کی کمی کے باوجود روزانہ درجنوں مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے اور شدیدزخمیوں کے مشکل ترین آپریشن کرکے مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے

یہ بھی پڑھیں  مطالعہ سُنن ابوداؤد شریف

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker