شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / پھولنگر:پرائیویٹ ہسپتال(دین)خون کی غلط رپورٹ دینے پر لواحقین کا پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ

پھولنگر:پرائیویٹ ہسپتال(دین)خون کی غلط رپورٹ دینے پر لواحقین کا پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ

بھائی پھیرو(نامہ نگار)تاجر کے بیٹے کی غلط رپورٹ دینے پر لواحقین کا پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ۔بھائی پھیرو،سرائے مغل،پتوکی اور گردونواح میں پرائیوٹ کلینیکل لیبارٹریوں نے مریضوں کی زندگیاں داو پر لگا دیں۔ناتجربہ کار عملہ نے جعلی رزلٹ دیکر مریضوں کو لوٹنا شروع کر دیا۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز یہاں کا مقامی تاجر ملک محمد اکرم بوٹا اپنے ایک سال کے بیٹے اسماعیل کے علاج کیلیے پتوکی کے پرائیویٹ ہسپتال دین ہسپتال لے کر گیا تو ڈاکٹروں نے اسے کہا کہ بچے کو خون کی کمی ہے اسے فوری طور پر خون کی ایک بوتل نہ لگائی گئی تو بچہ زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔باپ نے جب خون کا گروپ پوچھا تو دین ہسپتال میں قائم نعیم ڈائیا گنوسٹکس لیباریٹری کے انچارج نے بچے کا خون ٹیسٹ کرنے کے پندرہ سو روپے لیکر بتایا کہ بچے کیلیے اے پازیٹو خون کی ضرورت ہے۔کچھ دن بعد جب گزشتہ روز بچے کا باپ اے پازیٹو خون کا ڈونر لیکر ہسپتال پہنچا تو لیبارٹری والے نے خون میچ کرنے کے پھر دو ہزار روپے بٹور لیے اور ریزلٹ آنے کے بعد کہا کہ بچے کے خون کا گروپ تبدیل ہو گیا ہے اور اب او پازیٹو خون کی ضرورت ہے۔بد نصیب باپ نے دونوں رپورٹوں پر دو مختلف بلڈ گروپ دیکھ کر چیخنا چلانا شروع کر دیا تو ہسپتال کے عملے نے انہیں دھکے دیکر ہسپتال سے نکال دیا۔بچے کے چچا اور جے آئی یوتھ کے مقامہ رہنما ملک محمد عثمان نے ساتھیوں کے ہمراہ مقامی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا،مظاہرین سے خطاب کرتے ملک عثمان نے کہا کہ بھائی پھیرو،سرائے مغل،پتوکی اور گردونواح کے علاقوں میں قائم میڈیکل لیبارٹریوں نے ڈاکٹروں سے ساز باز ہو کر راتوں رات امیر بننے کیلیے ناتجربہ کار سٹاف کے ذریعے اپنا مکروہ دھندہ شروع کررکھا ہے جب کہ سادہ لوح عوام ڈاکٹروں کے مشورے کے مطابق ان پرائیوٹ لیبارٹریوں پر اپنے مریضوں کو لے جاکر لٹنے پر مجبور ہیں۔جب کہ ان لیبارٹریوں کے رزلٹ بھی جعلی اور غیر تسلی بخش ہوتے ہیں ان لیبارٹریوں کے نا تجربہ کار سٹاف نے ڈاکٹروں سے کمیشن مقرر کر رکھے ہیں اور وہ علاج کیلئے آنے والے مریضوں کو انہی لیبارٹریوں سے اپنے میڈیکل ٹیسٹ کروانے پر مجبور بھی کرتے ہیں اور یہ لیبارٹریوں والے ان ڈاکٹروں کو ڈیلی یا ہفتہ وار ان کا حصہ ان کو بھیجتے ہیں ان لیبارٹریوں پر آنے والے مریض اکثر غیر مطئمن دکھائی دیتے ہیں اور وہ لیب سے ملنے والے رزلٹ سے بھی مطمئن نہیں ہوتے۔نوجوان رہنما ملک عثمان اور اسکے ساتھیوں نے سی او ہیلتھ قصور، ڈپٹی کمشنر قصور،وزیرصحت پنجاب اور ہیلتھ کیئر کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ دین ہسپتال پتوکی کی نعیم ڈائیا گنوسٹکس اور دیگر لیبارٹریوں میں ناتجربہ کار سٹاف کے ذریعے مریضوں کو لوٹنے والے اس بااثر مافیا کے خلاف اور غیر معیاری لیبارٹریوں کو فوری طور پر سیل کر کے ان کے خلاف محکمانہ کاروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ بھی پڑھیں  ایک ہی رات میں تین دکانوں کو لوٹ لیا گیا،نوٹس لینے کا مطالبہ

What is your opinion on this news?