تازہ ترینعلاقائی

بھائی پھیرو:مویشیوں میں پھیلنے والی پر اسرار بیماری اور ناقص خوراک کھانے سے سینکڑوں مویشی ہلاک

بھائی پھیرو(نامہ نگار)بھائی پھیرو۔مویشیوں میں پھیلنے والی پر اسرار بیماری اور ناقص خوراک کھانے سے سینکڑوں مویشی ہلاک۔ فیکٹریوں کی تیار کردہ جعلی اور زہریلی خوراک کھانے سے مویشیوں کی شرح اموات میں بے پناہ اضافہ،محکمہ لائیو سٹاک کے افسران لمبی تان کر سو گئے۔کروڑوں روپے کے سینکڑوں مویشی ہلاک ہونے سے کسان کنگال بن گئے۔۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ چند دنوں میں بھائی پھیرو اور گردونواح میں مویشیوں میں ایک پر اسرار بیماری پھیل چکی ہے۔عام کسان اس بیماری کو گل گھوٹو کی بیماری سے تعبیر کرتے ہیں۔اس بیماری سے موضع کامونگل،گگہ سرائے،مراٹی والا اور گردونواح میں اب تک سینکڑوں مویشی مر چکے ہیں مگر محکمہ لائیو سٹاک لمبی تان کر سو رہا ہے۔محکمہ لائیو سٹاک کو ملنے والی ویکسین اور کرم کش ادویات با اثر افراد کے مویشیوں کو مفت لگا دی جاتی ہے جبکہ دو نمبر اور جعلی ویکسین عام کسانوں کے مویشیوں کو لگا کر ٹرخا دیا جاتا ہے۔اسی طرح بعض فیکٹری مالکان مویشیوں کی ناقص،زہریلی اور مضر صحت خوراک تیار کر کے مویشیوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں اور یہ زہریلی خوراک کھانے سے اب تک لاکھوں روپے کے سینکڑوں مویشی لقمہ اجل بن چکے ہیں اور گردونواح میں مویشیوں کی شرح اموات میں ناقابل یقین حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔جگہ جگہ ناقص پھک،ہسپتالوں کی خون آلوداور زہریلی ادویات سے آلودہ کاٹن ویسٹ،کیڑے مکوڑوں سے بھری رائس پالش،مضر صحت زہریلے رنگ اور دیگر مواد سے تیار کی جانے والی زہریلی خوراک سے بھی کئی جانور ہلاک ہو چکے ہیں۔کسان بورڈ تھانہ بھائی پھیرو کے رہنما احمد جمال ایڈووکیٹ نے بتایا کہ مویشی مرنے سے کسان کنگال بن چکے ہیں انہوں لائیوسٹاک کے ملازمین اور افسران نے من مانیوں کی انتہا کر رکھی ہے یہی وجہ ہے کہ ناقص کھل اور ونڈا بیچنے والوں کو کھلی چھٹی دے دی گئی ہے جو کہ سراسر زیادتی اورناانصافی ہے۔ مطالبہ کیا اس فیکٹری سمیت ارد گرد میں قائم دیگر خوراک بنانے کی فیکٹریوں کے خلاف بھی سخت کاروائی کی جائے اور مویشیوں کو فوری طور پر ویکسن لگائی جائے اور بیمار مویشیوں کا علاج کیا جائے اور متا ثرہ کسانوں کی امدادکی جائے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button