تازہ ترینعلاقائی

اوکاڑہ:حوالات کے اندر باپ بیٹے اورقریبی عزیز کو مکمل برہنہ کر کے پولیس کا بد ترین تشدد

okaraاوکاڑہ ( محمد مظہررشید)نہ زمین پھٹی نہ آسمان گرا ،اوکاڑہ میں پولیس گردی کا دل ہلا دینے والا واقعہ ،حوالات کے اندر باپ بیٹے کو ان کے ایک قریبی عزیز کے ہمراہ مکمل برہنہ کر کے پولیس کا بد ترین تشدد ،پولیس اہلکار دونوں باپ بیٹوں کو زبردستی پیشاب پینے پر پر مجبور کرتے رہے جبکہ اسلحہ کے زور پر باپ بیٹے کو ایک دوسرے سے زبردستی بد فعلی کرواتے رہے ،ڈی پی او اوکاڑہ نے اس واقعہ کو عام وقوعہ سمجھتے ہوئے صرف انویسٹی گیشن انسپکٹر کو معطل کرتے ہوئے مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا تفصیلات کے مطابق تین روز قبل اوکاڑہ کے نواحی گاؤں37ڈی میں بجلی چوروں کے خلاف آپریشن کے دوران اہل علاقہ نے حملہ کر کے واپڈا کی ٹیم اور پولیس پارٹی کے متعدد افراد کو زخمی کر دیا تھا جبکہ اس واقعہ میں پولیس کا ایک کانسٹیبل شہید بھی ہو گیا تھا جس کا مقدمہ37ڈی کے رہائشی متعدد افراد کے خلاف درج تھا گذشتہ روز پولیس کے انویسٹی گیشن انسپکٹر مہر مشتاق نے پولیس پارٹی کے ہمراہ ریڈ کرتے ہوئے 37ڈی کے رہائشی جمشید اوراس کے بیٹے زبیر کو ان کے ایک عزیز افتخار کے ہمراہ شک کی بنا پر گرفتار کر کے حوالات میں بند کر دیا اس کے بعد مہر مشتاق نے واپڈا کے ایس ڈی او راشد سومرو،لیاقت علی اور سرور سلیمی کو تھانہ بلوایا اور ان کو کہا کے حوالات میں موجود شناخت کر کے بتاؤ کے کن افراد نے ہمارے اوپر حملہ کیا تھا واپڈا ملازمین نے زبیر اور اس کے والد جمشید اور افتخار کو شناخت کرتے ہوئے کہا کے انہی افراد نے حملہ کیا تھا جس کے بعد انسپکٹر مہر مشتاق نے اپنے ساتھی ملازمین کے ہمراہ پولیس گردی کی بھیانک تاریخ رقم کرتے ہوئے باپ بیٹے اور ان کے ساتھی کے تمام کپڑے اتروا کر ان کو برہنہ کر کے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کے بعدان تینوں افراد کو نہ صرف پیشاب پینے پر مجبور کیا جاتا رہا بلکہ ان کو اسلحہ کے زور پر ایک دوسرے سے زبردستی بد فعلی کرنے پر بھی مجبور کیا گیا اس واقعہ کی خبر میڈیا پر آنے کے بعد ڈی پی او راجہ بشارت خود موقع پر پہنچے اور دو گھنٹے کی تفتیش کے بعد انہوں نے صرف انسپکٹر مہر مشتاق اور ایس ڈی او اربن راشد مومرو،ایس ڈی او حویلی لیاقت علی اسسٹنٹ لائن سپرنٹنڈنٹ سرور سلیمی اور نامعلوم کلرک کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم جاری کیا جن کے حکم پر ان تمام افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا جبکہ ڈی پی او نے زبیر اور اس کے والد جمشید کو شخصی ضمانت پر رہا کر دیا پولیس گردی کا شکار ہونے والے با پ بیٹے نے میڈیا کو قرآن پر ہاتھ رکھ کر بتایاکے ان کے خلاف بہت ظلم ہوا ہے اگر ہمیں انصاف نہ ملا تو خادم اعلیٰ میاں شہباز شریف کی رہائش گاہ کے باہر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیں گے۔اس واقعہ کے بعد ڈسٹرکٹ بار نے پولیس گردی کے خلاف احتجاجا عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کرتے ہوئے ہڑتال کی اور آئی جی پنجاب کو واقعہ کا نوٹس لے کے ذمہ دارارن کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ۔آخری اطلاع آنے تک شہر میں اس واقعہ کے خلاف لوگوں میں پولیس کے خلاف نفرت پائی جا رہی ہے *

یہ بھی پڑھیں  عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت پر الزامات مگرثبوت ندارد

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker