شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / پاکستان / بیگم کلثوم نواز کی پہلی برسی آج منائی جارہی ہے

بیگم کلثوم نواز کی پہلی برسی آج منائی جارہی ہے

لاہور(پاک نیوز)سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ اور تین بار کی خاتون اول کا اعزاز رکھنے والیکلثوم نواز کی پہلی برسی آج منائی جارہی ہے، مرحومہ طویل علالت کے باعث گذشتہ سال لندن کے ہارلے اسٹریٹ میں انتقال کرگئیں تھیں۔۔ سترہ اگست دو ہزار سترہ کو اچانک خبر آئی کہ بیگم کلثوم نواز بیماری کے باعث پی آئی اے کی پرواز پی کے سات پانچ سات سے لندن روانہ ہوگئی۔لندن پہنچنے کے چھ دن بعد بائیس اگست دو ہزار سترہ کو کلثوم نواز کے گلے کے کینسرکی تشخیص کی گئی ، ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ کینسر ابتدائی اسٹیج پر ہے اور علاج ممکن ہے،بیگم کلثوم نواز لندن میں کینسر سے لڑ رہی تھیں اور ان کی بیٹی مریم نواز آبائی نشست پر ان کی الیکشن مہم چلارہی تھیں،سترہ ستمبر کو ضمنی انتخاب میں بیگم کلثوم نواز فاتح قرار پائیں، لیکن وہ حلف بھی نہ لے سکیں۔بیگم کلثوم نواز کی کینسر کے خلاف جنگ ایسی چھڑی کہ موت تک جاری رہی، ہارلے اسٹریٹ لندن میں اکتیس اگست دوہزار سترہ کو پہلی جبکہ نو ستمبر دوہزار سترہ کو دوسری سرجری کی گئی،ان موقعوں پر نواز شریف بھی موجود تھے،اکیس ستمبر دو ہزار سترہ کو ہونیوالی تیسری سرجری کو کامیاب قرار دے کر بیگم کلثوم نواز کو ان کے بیٹے حسن نواز کے فلیٹ پر منتقل کردیا گیا۔ستائس ستمبر دوہزار سترہ کو بیگم کلثوم نواز کی حالت بگڑنے پر انہیں ہارلے اسٹریٹ کلینک دوبارہ داخل کروادیا گیا،اور پھر کیمو تھراپی کا ایسا سلسلہ شروع ہوا جس نے بیگم کلثوم نواز کو بستر کے ساتھ چپکا دیا۔گیارہ اکتوبر دوہزار سترہ کو پہلی کیموتھراپی کی گئی، دوسری یکم نومبر، تیسری نومبر کے آخری ہفتے، چوتھی بائیس دسمبر، پانچویں نو جنوری دوہزار اٹھارہ جبکہ چھٹی اور آخری کیمو تھراپی فروری دو ہزار اٹھارہ میں کی گئی،فرق نہ پڑنے پر انیس اپریل کو ریڈیو تھراپی کرنا پڑی۔بائیس اپریل دو ہزار اٹھارہ کو خبر ملی کے کینسر پورے جسم میں پھیل گیا ہے،پندرہ جون دوہزار اٹھارہ کو بیگم کلثوم نواز کو ہارٹ اٹیک کے بعد انتہائی نگہداشت وارڈ منتقل کر دیا گیاجبکہ تین جولائی دوہزار اٹھارہ کو پھیپھڑوں کا آپریشن بھی کرنا پڑا، جس کے بعد انکی طبعیت بگڑتی چلی گئی،اور انہیں وینٹی لیٹر پر شفٹ کیا گیا۔اور آخر کار بیگم کلثوم نواز لندن کے ہارلے اسٹریٹ کلینک میں ایک سال پچیس دن کینسر جیسے موذی مرض سے لڑائی کے بعد گیارہ ستمبر دوہزار اٹھارہ کو ہمت ہار گئیں

یہ بھی پڑھیں  کراچی دھماکے پر وزیراعظم کا نوٹس، ذمہ داروں کیخلاف فوری کارروائی کا حکم

What is your opinion on this news?