شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / بھائی پھیرو:اُبلتے گٹر او رسڑکوں پر بہتا سیوریج کا گندا پانی شہریوں کے لئے عذاب بن گیا

بھائی پھیرو:اُبلتے گٹر او رسڑکوں پر بہتا سیوریج کا گندا پانی شہریوں کے لئے عذاب بن گیا

بھائی پھیرو(نامہ نگار) بھائی پھیرو میں اُبلتے گٹر او رسڑکوں پر بہتا سیوریج کا گندا پانی شہریوں کے لئے عذاب بن گیا۔محتسب اعلی اور اعلی حکام کو درخواستیں دینا جرم بن گیا۔اور درخواستیں دو بلدیہ عملہ کا شہریوں کو ٹکا سا جواب۔ وزیر اعلی سے مسئلہ حل کرانے کا مطالبہ۔تفصیلات کے مطابق بارشوں کے نتیجہ میں بھائی پھیرو کے مختلف بازاروں،محلوں اور گلیوں میں میں ڈالے جانے والے سیوریج پائپوں کا گندا پانی گلیوں اور بازاروں میں بہنے لگا۔گلیاں اور بازار ندی نالوں میں تبدیل ہوگئے۔بھائی پھیرومیں محلہ ملک پورہ سمیت دیگر محلوں میں جہاں پر عرصہ دراز سے سیوریج کا گندا پانی بہنے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔لوگوں کیلیے مساجد میں جا کر نماز پڑھنا بھی مشکل بن چکا ہے جبکہ مریضوں کو ہسپتال لے جانا اور مرنے والوں کے جنازے لیجانا بھی ناممکن بن چکا ہے۔ گندے پانی کی وجہ سے مچھروں کی بہتات کی وجہ سے شہری ملیریا اور ڈینگی بخار جیسی موذی امراض میں مبتلا ہونے لگے۔بدبو دار پانی کی وجہ سے شہریوں کو سانس لینا بھی محال عوام الناس کی طرف سے کئی بار انتظامیہ کو شکایات کی گئیں لیکن انتظامیہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔۔جماعت اسلامی کے مقامی امیرڈاکٹر داود پرویز مغل،زونل امیر مقبول حسین کمبوہ اورلوگوں کی بہت بڑی تعداد کا کہنا تھا کہ حکومت ایک طرف کلین اینڈگرین پاکستان کا نعرہ لگاتی ہے تو دوسری طرف لوگوں کی شکایات کے باوجود بھی نکاسی آب جیسے گھمبیر مسائل کو حل کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں آتی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی روز سے محلہ ملک پورہ کے لوگ بلدیہ عملہ کو بند سیوریج کو کھولنے کیلیے درخواستیں دے رہے ہیں مگر عملہ ٹس سے مس نہیں ہوتا۔بلکہ انہوں نے اعلی حکام اور محتسب اعلی کو بھی درخواستیں دیں مگر ان درخواستوں پر بلدیہ عملہ سیخ پا ہو گیا اور جب بھی ببلدیہ سے رابطہ کیا جاتا ہے تو آگے سے عملہ مزاق اڑاتے ہوئے کہتا ہے کہ اور درخواستیں دو ہم اپنی مرضی کریں گے۔عوامی سماجی اور صحافتی حلقوں نے وزیر اعلی پنجاب اور ڈی سی قصور سے مطالبہ کیا ہے کہ بھائی پھیرو کا سب سے دیرینہ مسئلہ نکاسی آب ہے کو فوری طور پر حل کیا جائے۔تاکہ شہریوں کی مشکلات کا ازالہ ممکن ہوسکے۔

یہ بھی پڑھیں  آزاد عورت کا ا لمیہ

What is your opinion on this news?