تازہ ترینعلاقائی

پاکستان کیلیے سب سے بڑا خطرہ دہشت گردی نہیں بلکہ پانی ہے،سردار ظفرحیسن

sardar zafarلاہور (پ ر ) کسان بورڈ پاکستان کے مرکزی صدر سردار ظفر حسین خاں،جنرل سیکرٹری ملک محمد رمضان روہاڑی ،سینئرنائب صدر چوہدری منظور احمد گجرصوبہ پنجاب ( جنوبی )کے صدر ملک فیاض الحسن بھٹہ،صوبہ پنجاب ( وسطی ) کے صدر نور الہی تتلہ ، ،اور سیکرٹری اطلاعات حاجی محمد رمضان نے اپنے مشترکہ بیان میں امریکی میڈیا کے جریدے،،: دی اٹلانٹک : ،،THE ATLANTIC،،کی رپورٹ پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے کہا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے آقا امریکہ کے جریدہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی نہیں بلکہ پانی ہے کیونکہ پاکستان ان ملکوں میں شامل ہے جہاں پانی کا ذخیرہ کرنے کی استعداد صرف 30 دن ہے ۔جبکہ بین الاقوامی ادارے 100 دن کے ذخیرے کی سفارش کرتے ہیں۔کسان بورڈ کے رہنماؤں نے کہا کہ حکمرانوں اورانڈس واٹر کمیشن کے افسران کی نااہلی کی وجہ سے انڈیا پہلے ہی سینکڑوں بند بنا کر دریائے چناب ،جہلم اور سندھ کے 90%پانی سے پاکستان کو محروم کرچکا ہے ۔ بھارتی سپریم کورٹ نے تیس دریاؤں کو آپس میں جوڑنے کا حکم دیکر انڈیا کی آبی دہشت گردی کے منصوبے کو مزید تقویت دے دی ہے ۔انڈیا کے تعمیر شدہ ڈیموں اور دریاؤں کو آپس میں جوڑنے کے منصوبے کی تکمیل کے بعد پاکستان کے تمام دریا مکمل طور پر خشک ہو جائیں گے اور یہاں نہ ہی پینے اور نہ ہی زراعت کیلیے پانی کا قطرہ تک بھی دستیاب نہ ہوگا۔ پاکستان شدید مشکلات کا شکار ہے ۔ پاکستان اور بھارت کے مابین آبی جارحیت کو انٹرنیشنل سطح پر اجاگر کرنے کے لئے پاکستانی حکمرانوں کوبھر پور کردار ادا چاہیے۔ اب بھارتی جارحیت دنیا بھر میں کھل کر سامنے آ چکی ہے اور بھارت نے آبی جارحیت کے محاذ کھول دیئے ہیں ایک طرف پاکستان کی طرف بہنے والے دریاؤں کو اپنی حدود میں کنٹرول کرکے پانی پر اپنا قبضہ جما رہا ہے ۔ جو کہ آفاقی نظام زندگی ، زمینی حقائق ، اور عالمی قوانین کی سراسر خلاف ورزی ہے ۔ اس وقت موجودہ حکومت دہشت گردی اور انرجی کی کمی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیکر نمائشی اقدامات کرکے قوم کی توجہ اصل مسئلے سے ہٹانا چاہتی ہے۔ کسان بورڈ کی نظر میں پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ پانی کی کمی اور انڈیا کی آبی دہشت گردی کا ہے ۔مگر حکمران آبی دہشت گرد انڈیاسے محبت کی پینگیں بڑھا کر پانی کی کمی کے مسئلے کو نظر انداز کر رہے ہیں۔کسان بورڈ مطالبہ کرتا ہے کہ حکمراں پانی کو قومی اثاثہ قرار دیں اور انڈین آبی دہشت گردی سے پیدا پانی کی کمی کے مسئلے کو ترجیح دی جائے ۔اگر انڈیا نے ہمارے دریاؤں پر بندھ باندھ کر ہمارا پانی بند کر دیا تو پھر نہ بجلی کی کمی پوری ہوسکے گی اور نہ ہی ہماری معیشت بہتر ہوسکے گی بلکہ ہمارے ملک کا وجود ہی خدا نخواستہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔انرجی بحران کا واحد حل ڈیموں کی فوری تعمیر ہے تاکہ ہمارا ملک بنجر اوصحرا بننے سے بچ سکے ۔

یہ بھی پڑھیں  بلدیہ ٹیکسلا کی حدود میں گندا پانی ابل کر گلیوں میں پھیل گیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker