تازہ ترینصابرمغلکالم

ڈیجیٹل پاکستان پروگرام۔نئے سفر کا آغاز

پاکستان ڈیجیٹل پروگرام جدیدت کی طرف ایک انتہائی اہم قدم ہے جس کے ذریعے ہر پاکستانی کی انٹرنیٹ تک رسائی کو نہ صرف یقینی بنایابلکہ اسے ہر شخص کا بنیادی حق قرار دیا جائے گا،ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے تحت لوگ روز مرہ کے کام اسمارٹ فون کو استعمال کرتے ہوئے محفوظ اور تیزی سے کر سکیں گے،ای گورمنٹ کے مشن میں حکومتی عمل سے کاغذی کاروائی کا خاتمہ شامل ہے اور یوں تمام حکومتی خدمات ڈیجیٹل ہو جائیں گی،اس پروگرام کے تحت نوجوانوں کی صلاحیتوں کو مزید فروغ حاصل ہو گا اور انہیں روزگار کے بہترین مواقع میسر ہوں گے،حکومت ایسی کمپنیوں کو پھلنے پھولنے کا بھرپور موقع فراہم کرے گی ایسا پروگرام وقت کی ضروت بھی ہے جب ملک میں نوجوانوں کی اکثریت بے روزگاری کے ہاتھوں بری طرح پریشان حال ہے ایسے میں حکومت کو اس سے بڑھ کر بھی انقلابی اور ہنگامی اقدامات کرنا ہوں گے جس سے عام آدمی کی اجیرن زندگی میں بہار آ سکے،پاکستان ڈیجیٹل پروگرام کو عملی شکل دینے کے لئے اسلام آباد میں افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس سے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان نے کہاپاکستان کوڈیجیٹل خطوظ پر استوارکرنے کا عزم کر رکھا تھا کیونکہ ڈیجیٹل پاکستان ہمارا مستقبل ہے جس کے ذریعے دنیا کی دوسری سب سے بڑی نوجوان آبادی کا ملک ہونے کی بدولت ہماری آبادی طاقت بن جائے گی مجھے پہلے ڈیجیٹل پروگرامز پر توجہ دینا چاہئے تھی کیونکہ یہ ہمارے نوجوانوں کے لئے بہت ضروری ہے مگر اس میں تاخیر ہو گئی دنیا آگے جا رہی ہے ہم پیچھے رہ گئے ہیں اب ہماری پوری توجہ ڈیجیٹل پاکستان منصوبے پر ہو گی جس کے ذریعے ہم نوجوانوں کی صلاحیتوں دنیا بھر کے سامنے لائیں گے اور اس چیز سے ہمارا نوجوان ہماری طاقت بن جائے گاہم اس کا بھرپور فائدہ اٹھائیں گے،ہمیں بڑا مشکل وقت ملا آپ شاید پانچ سال تک مجھ سے یہی سنتے بھی رہیں ہمیں خسارا ملا،روپیہ دباؤ کا شکار تھاتمام خسارے کا سب سے زیادہ اثر روپے پر پڑااسی بنیاد پر مہنگائی کی لہر بھی آئی،ماہرین کے مطابق ہمارا روپیہ 300تک جا سکتا تھااسے کم کرنے کے لئے ہمارے پاس پیسے بھی نہیں تھے لیکن ہم نے اسے ایک حد تک روک لیا،ہماری معاشی ٹیم نے بہت محنت کی،ای گورنس سے کرپشن کا خاتمہ ہو جائے گاہمارے معاشرے میں کرپشن نیچے تک سرایت کر چکی ہے کرپشن ہمیشہ اوپر سے شروع ہوتی ہے جنہوں نے کرپشن شروع کی وہ تو بیرون ملک بھاگ گئیمگر اب ہمیں اس کا خاتمہ کرنا ہے ہماری پوری کوشش ہے کہ ای گورنس سے ہم کرپشن کا خاتمہ کر دیں کرپشن کا خاتمہ لوگوں کی زندگی آسان بنانے کا واحد ذریعہ ہے،حکومت اور عوام کے درمیان تعلق ہی زندگی میں آسانیاں پیدا کرتا ہے،قطاروں میں کھڑا نہیں ہونا پڑتا اب سب کچھ آپ کے موبائل فون پر ہی جائے گا،ہم نے19سال قبل شوکت خانم میں ای گورنس کا آغاز کیاجس سے پرچیاں،چھوٹی موٹی چوری وکرپشن کے تمام ذرائع ختم ہو گئے بلکہ پورا ادارہ ہی تبدیل ہو گیا،ای گورنس تمام حکومتی اداروں میں لاگو کرنا چاہتے ہیں ہمیں شدید مزاحمت کا بھی سامنا ہے لیکن اس کے باوجود آنے والے دنوں میں ہماری حکومت ڈیجیٹل پاکستان کے لئے پورا زور لگا دے گی،وزیر اعظم نے اس پروگرام کی سربراہ تانیہ ایروس اور اسٹیٹ بینک کے سربراہ رضا باقرکے کردار کو مثالی قرار دیتے ہوئے کہا ثانیہ ایروس گوگل جبکہ رضا باقر آئی ایم ایف میں اہم ترین عہدوں پر پر کشش مراعات کے تحت کام کر رہے تھے ان کا انہیں چھوڑا کر پاکستان آنا بہت مشکل فیصلہ تھا مگر انہوں نے پاکستان کی خدمت کے لئے ایسا کر دکھایا وقت ثابت کرے گا کہ ان کا یہ فیصلہ ملک کے لئے کتنا سود مند ثابت ہوا اور یہ ان کی زندگی کا ایک اہم موڑ ثابت ہو گا،پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اس منصوبے پر ایک عرصہ سے سوچ رہی تھی جس کا مقصد ای گورنس قائم کرتے ہوئے تمام معلوماے کو الیکٹرائیکلی محفوظ کیا جا سکے تا کہ عوام کے لئے سیکیورٹی بڑھ جائے اور ان کی حکومت تک رسائی آسان ہو جائے یہی وجہ ہے کہ اب حکومت نے موجودہ دور کے ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر کا از سر نو جائزہ لینے کے بعد اسے متعارف کرایا ہے جہاں صارفین اسمارٹ فون کی مدد سیاپنے تمام روز مرہ کے کام تیز رفتاری اور محفوظ طریقے سے سر انجام دے سکیں گے،ڈیجیٹل پاکستان پروگرام کی سربراہ تانیہ ایروس نے اپنے خطاب میں کہاچھ ماہ قبل کسی ملنے والے نے وزیر اعظم پاکستان کو ای میل کی کہ اگر ای گورنس کا آغاز کرنا ہے تو تانیہ سے رابطہ کیا جائے یہیں سے رابطوں کا آغاز ہواپہلے وزیر اعظم کی ٹیم پھر جہانگیر ترین نے ان سے ملاقات کی پاکستانی حکومت کے آئیڈیاز سننے کے بعدمیں نے پاکستان کے لئے کچھ کرنے کا عزم کر لیا،وزیر اعظم عمران خان نے ملاقات میں پوری بات واضح کی کہ تانیہ مسائل کی فہرست بہت لمبی ہے لیکن تم نے گھبرانا نہیں انہیں نے میرا اعتماد اور عزم دیکھ کر مجھے کہا کہ تمہیں پاکستان کی ترقی میں جرور حصہ ڈالنا ہو گا اب میں صرف پاکستانط کی ترقی دیکھتی ہوں،لوگ پوچھتے ہیں کہ ان کا سیاسی ایجنڈا کیا ہے جواب دیتی ہوں صرف پاکستان کی ترقی،ڈیجیٹل پاکستان کا مقصد ہنر مندی اور خواندگی پیدا کرنا ہے،ہم نے اگر سائنسی اور ٹیکنالوجی کی طرف منتقل ہونا ہے تو اسے کم سے کم عمر میں شروع کروانا ہو گابچوں میں ایسی تعلیم عام کرنا ہوگی،پاکستان میں یونیورسٹی سے4سال بعد نوجوان جو نصاب پڑھ کر نکل آتا ہے وہ دیگر دنیا سے بہت پرانا ہو چکا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ عالمی معیشت میں حصہ لینے کے قابل نہیں ہمارا نصاب قدیم اور طلبا کو جدید مہارتوں پر نظر رکھنے سے روکتا ہے ،اسی سطع کو ابھی ٹھیک نہ کیا گیا تو اس کے اثرات ہمیں 10سے20سال بعد نظر آئیں گے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں،نصاب کو بہتر بنائے بغیر ایسا کرنا نا ممکن ہے،ملک میں سرمایہ کاروں کے لئے آسانیاں پیدا کی جائیں تا کہ نئی ٹیکنالوجی کمپنیاں لانے میں مشکل پیش نہ آئے، تانیہ ایروس 20سال قبل پاکستان چھوڑ کر امریکہ چلی گئی تھیں انہوں نے پہلے امریکہ کی برانڈ یونیورسٹی سے بائیولوجی اور اکنامکس میں بی ایس کی ڈگریاں لیں پھرسسپاچو سئس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سیایم بی اے کیاایک اسمارٹ اسفک ڈایگوک کی بنیا رکھی اور بطور ڈائریکٹر کام کیا،7سال پہلے گوگل میں ملازمت اختیار کی انہیں جنوبی ایشیا میں کنٹری مینجر کے طور تعینات کیا گیا وہ2008سے2016تک اس عہدے پر فائز رہیں پھر انہیں پاکستان میں گوگل پروڈکٹ لانچ کرنے کا موقع ملا جس پر وہ امریکہ سے سنگا پور آفس منتقل ہو گئیں، پاکستان نے ای گورنس کا عندیہ 17اکتوبر کو کامیاب جوان پروگرام کی افتتاحی تقریب کے دوران دیا تھا اس پروگرام میں 10لاکھنوجانوں کو میرٹ پر قرض دیئے جا رہے ہیں 25ارب روپے صرف خواتین کے لئے مختص ہیں اس پروگرام کے تحت بھی اسلام آباد میں ہی منعقدہ ایک تقریب میں چیک تقسیم کئے گئے اس پروگرام کے تحت10لاکھ نوجوانوں نے20دن میں قرضے کے لئے اپلائی کیا،ای گورنس کی وجہ سے اس قرضہ کے حامل نوجوانوں کو بھی بہت فائدہ میسر ہو گا،اس موقع پر وزیر اعظم نے کہاحکومت چھوٹے اور درمیانی درجے کے کاروبار کی سہولت دے رہی ہے ہم کاروبار میں حائل تمام رکاوٹوں کو ختم کر دیں گے،برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں ٹیکسٹائل کی تمام ملز یہودیوں کی ملکیت تھیں بعد میں یہاں سے پاکستانی گئے مزدوری کی محنت کی پھر وہی کاروبار پاکستانیوں کے ہاتھ میں آ گیا،کامیاب معاشروں اور جو پیچھے رہ جاتے ہیں ان معاشروں میں فرق یہ ہے کہ کامیاب معاشروں میں میرٹ کے ساتھ ساتھ کاروبار شروع کرنے کے مواقع اور سہولتیں دی جاتی ہیں پھر جس نوجوان کے اندر جنون اور جذبہ موجود ہوتا ہے وہی معاشرے میں بہت اوپر نکل جاتا ہے،میرٹ کا پہلا قدم ہی ایک آن لائن نظام ہے جس میں کوئی سفارش نہین چلتی جو بھی کوالیفائی کرے وہ آگے جائے جس طرح آج لوگوں کو قرض دینے میں بڑی کامیابی ملی،کاروبار میں پہلے وسائل کی عدم دستیابی پھر رکاوٹیں برباد کر دیتی ہیں ورلڈ بینک بھی یہ ماننے پر مجبور ہوا کہ پاکستان 28پوائنٹ اوپر آ چکا ہے،گوگل کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں انٹر نیت کی بدولت لامحدود مواقع میسر آ رہے ہیں صارفین کی تعداد میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے غیر ملکی کمپنیوں کی دلچسپی غیر معمولی ہے یہی حالات رہے توپاکستان جلد دنیا کی پانچویں بڑی ابھرتی میعشت بن جائے گا،چین بھی چی پیک کے ذریعے انٹر نیٹ کے شعبہ میں 820کلومیٹر لمبی فائبر آپٹیکل بچھانے کے منصوبے کے قریب ہے،23ستمبر کو ڈیجیٹل پروگرام کی وجہ سے ہی بر صغیر کی تاریخی دستاویزات کو دیجیٹل کرنے کا آغاز ہوامغل دور میں ملنے والی 5لاکھ دستاویزاتمیں سے محکمہ آرکیوزنے27فائلوں کا انتخاب کرتے ہوئے انہیں ڈیجیٹل کرنے کی منظوری دی اس کے ئلے خصوصی طور پر4بڑے اسکینرز بھی منگوائے گئے،1849سے1886تک کے نو آبادیاتی دور کے لاہور ریذیڈنسی،ستلج حدود،ہوم جنرل دیپارٹمنٹ، ریوینیو ڈیپارٹمنٹ،جوڈیشل ڈپارٹمنٹ،پولیٹیکل ڈیپارٹمنٹ،بغاوتی ٹیلی گرام اور ایجنسیوں کا ریکارڈ شامل ہے،27ستمبرکو عالمی بینک کی جاری رپورٹ کے مطابق پاکستان کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے والے پہلے 20ممالک کی فہرست میں 14ویں نمبر پر پہنچ چکا ہے،30سمتبر کو حکومت نے ڈیجیٹل ٹرانزیکشن کو مزید وسعت دینے کے لئینیاپے نامی کمپنی کو لائسنس جاری کر ادیا،اس کے ذریعے صارفین موبائل ایپ کے ذریعے قابل قبول متعلقہ ڈیبٹ کارڈ سیرقم نکالی اور ادائیگی کی جا سکے گی،13نومبرکو پاکستان پوسٹ نے الیکٹرک منی آرڈرز سروس متعارف کروا دی،صارفین کو مزید سہولیات دینے کے ئلے کام جاری ہے،یہ الیکٹرانک منی آرڈرز کی سہلوت ملک بھر کے25اضلاع کے 93پوسٹ آفس جنرلز میں متعارف ہوئئی جس میں بہت جلد مزید وسعت ہو گی اس کے تحت پاکستان پوسٹ کا نمائندہ 24گھنٹوں کے اندر رقم موصول کرنے والے کے گھر تک پہنچائے گا، پاکستان پوسٹ ملک بھر میں 13ہزار ڈاکخانوں کو ڈیجیٹل پاکستان پروگرام کی وجہ نیٹ ورک میں لر کر لاجسٹک سہولتوں میں اضافہ کرنے جا رہا ہے،پاکستان ڈیجیٹل پروگرام ایک قابل تحسین پروگرام ہے جس کے تحت عوام کی متعدد مشکلات میں،کرپشن کے دروازے بند اور ترقی کی راہیں کھلیں گی۔

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker