Download WordPress Themes, Happy Birthday Wishes
شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / پاکستان / کابینہ میں واپسی، متحدہ کا انکار، آئندہ مذاکرات اسلام آباد میں ہونگے: پرویز خٹک

کابینہ میں واپسی، متحدہ کا انکار، آئندہ مذاکرات اسلام آباد میں ہونگے: پرویز خٹک

کراچی(پاک نیوز) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی حکومت نے اپنی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کو ایک مرتبہ پھر کابینہ میں شمولیت کی دعوت دیدی تاہم متحدہ نے انکار کر دیا جبکہ آئندہ مذاکرات اسلام آباد میں ہوں گے۔پاکستان تحریک انصاف کا وفد پی ٹی آئی سینئر رہنما جہانگیر خان ترین کی سربراہی میں ایم کیو ایم کے مرکز بہادرآباد پہنچا تو ان کے ساتھ وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک، ایم پی اے فردوس شمیم نقوی، وفاقی وزیر اسد عمر، خرم شیر زمان، حلیم عادل شیخ بھی ہمراہ تھے۔پی ٹی آئی وفد کے حکومتی وفد نے ایم کیو ایم قیادت سے ملاقات شروع کی تھی، ایم کیو ایم وفد کی قیادت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کر رہے تھے جبکہ عامر خان، کنور نوید جمیل، فیصل سبزواری، امین الحق، نسرین جلیل اور محمد حسین بھی ہمراہ تھے۔ملاقات کے دوران ایم کیو ایم نے حکومتی وفد کے سامنے چار اہم مطالبات رکھے، مطالبات میں حیدرآباد میں یونیورسٹی کا قیام شامل ہے، حیدرآباد کے لیے ترقیاتی بجٹ، کراچی کیلئے 162 ارب کے پیکیج پرعملدرآمد اور ایم کیوایم کے بند دفاتر کھولنے کا مطالبہ کر دیا۔ملاقات کے دوران پی ٹی آئی سینئر رہنما جہانگیر ترین نے ایم کیو ایم پاکستان کو دوبارہ کابینہ میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ متحدہ مسائل اہم ہیں مگر سب چیزیں ایک دم ٹھیک نہیں ہوسکتیں۔ خالد بھائی ہم چاہتے ہیں آپ ساتھ رہ کر ملک و کراچی کی خدمت کریں۔مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ اتحادیوں کے درمیان کچھ غلط فہمیاں پیدا ہوگئی تھی، مسائل کا حل نکالیں گے، اتحادی جماعت کے ساتھ جو وعدے کیے گئے ہیں وہ پورے کریں گے، متحدہ کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ہمارا موقف سنا، اب فیصلے ہماری اتحادی جماعت نے کرنا ہے۔ امید ہے خالد مقبول صدیقی دوبارہ کابینہ میں آئیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری معیشت خراب ہو رہی تھی اس کے لیے ہم نے سخت فیصلے کیے، جس کے اثرات جلد عوام کے سامنے آئیں گے، اگلے تین سالوں میں حالات بالکل ٹھیک ہوجائیں گے اور یہ نظر بھی آتا جائے گا۔ ایک ڈوبا ہوا ملک، تباہ شدہ ملک ترقی کی طرف جاتا ہوا نظر آئے گا۔وفاقی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ہماری نیت صاف ہے، ہم نے جھوٹ وعدے نہیں کیے، ڈیڑھ سال سے ایم کیو ایم کے ساتھ تھے آئندہ بھی رہیں گے۔ پاکستان تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کبھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گی کیونکہ دونوں جماعتوں کے درمیان کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے بلکہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جو حل ہو جائیں گے۔پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ غلط فہمیاں جو پھیل رہی ہیں وہ ختم ہو جائیں گی، مسلم لیگ ق، گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس سمیت دیگر اتحادی بھی ہمارے ساتھ ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگلی میٹنگ کے دوران مسنگ پرسنز، دفاتر کھولنے اور ایم کیو ایم کے تحفظات کے معاملے پر آئندہ میٹنگ اسلام آباد میں ہو گی۔ اسلام آباد میں ملاقات نتیجہ خیز ثابت ہو گی۔ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ حکومت وفد بڑے یقین کے ساتھ آیا ہے، خوشگوار ماحول میں مذاکرات ہوئے ہیں، وفاقی حکومت میں شامل ہونے سے پہلے ہم نے اپنے مطالبے رکھے تھے اور غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا تھا، حکومتی وفد کے ساتھ اچھی بات ہوئی ہے۔ ہمارے مطالبات میں ذاتی مفاد شامل نہیں۔ وزارت ہمارے مطالبے کا کبھی بھی حصہ نہیں رہی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ ملاقات کے دوران سندھ کے شہری مسائل کے بارے میں حکومتی وفد کو آگاہ کیا تھا، 18 ویں ترمیم کے ذریعے قوم کو دھوکا دیا گیا۔ ہم سندھ کے شہریوں کا مقدمہ لڑ رہے ہیں، شہری علاقوں پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔پریس کانفرنس کے دوران تحریک انصاف کے سینئر رہنما جہانگیر خان ترین کا کہنا تھا کہ گندم کے حوالے سے بتانا چاہتا ہوں کہ دو ماہ قبل 4 لاکھ ٹن دے دی تھی۔ تین لاکھ ٹن گندم وفاق کے پاس پڑی ہوئی جو صوبہ سندھ کو ملنی ہے۔ یہ معاملہ جلد ٹھیک ہو جائے گا۔ ای سی سی جلد فیصلہ کرے گی، آٹے کی قیمت جلد کم ہو گی۔اس سے قبل جہانگیر ترین کی قیادت میں حکومتی وفد نے گورنر سندھ عمران اسماعیل سے ملاقات کی جس میں مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔حکومتی وفد میں گورنر پنجاب چودھری سرور، وفاقی وزیر پرویز خٹک، اسد عمر اور حلیم عادل شیخ شامل ہیں، حکومتی وفد کی ایم کیو ایم رہنماؤں سے کچھ دیر بعد بہادر آباد میں ملاقات ہوگی۔اس موقع پر گورنر سندھ عمران اسماعیل کا کہنا تھا عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے کیلئے وسائل بروئے کار لائے جائیں گے، صوبے کی ترقی کیلئے وفاق کا بھرپور تعاون قابل تحسین ہے۔

یہ بھی پڑھیں  ڈسکہ: 10افراد نے نوجوان کو اغوا کر کے سر مونڈ دیا سنگین نتائج کی دھمکیاں

What is your opinion on this news?