تازہ ترینعلاقائی

بھائی پھیرو:کرونا سےمزدوروں کو بچانے کے لیے کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔حاجی رمضان

بھائی پھیرو(نامہ نگار) بھائی پھیرو۔انڈسٹریل زون کی اڑھائی سو فیکٹریوں میں ملک کے کونے کونے سے آئے ہزاروں مزدوروں کی وجہ سے اس علاقے میں کورونا پھیلنے کا شدید خطرہ ہے۔پنجاب حکومت اور مقامی انتظامیہ نے اس علاقے میں کرونا وائرس سے بچنے کے کوئی حفاظتی اقدامات نہیں کیے۔فوری طور پر صنعتی زون میں بسنے والے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بچانے کیلیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔جماعت اسلامی کے ممبران اسمبلی اور سینیٹراس مسئلے کو اسمبلیوں اور سینیٹ میں اٹھائیں گے۔ان خیالات کا اظہار جے آئی کسان بورڈ پاکستان کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات حاجی محمد رمضان نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ نہ صرف دنیا بھر میں بلکہ ہمارے ملک میں بھی کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کیلیے حکومت نے لوگوں کے ایک جگہ اکٹھے ہونے،ملنے جلنے،چھونے اور نزدیک سے سانس لینے سے وائرس کے پھیلنے کے خطرات کے پیش۔ نظرسکول،کالج،یونیورسٹیاں،مدارس،شادی ہال اور سینیما تک بند کر کے احسن اقدامات اٹھائے ہیں مگر شاید ابھی تک ان کی نظر ملوں میں اکھٹے کام کرنے والے ان لاکھوں مزدوروں کی زندگیاں بچانے کے اوپر نہیں پڑیں۔انہوں نے کہا کہ بھائی پھیرو کے علاقے میں قائم انڈسٹریل زون کی اڑھائی سو کے قریب فیکٹریوں میں ملک کے کونے کونے سے آئے روزانہ لاکھوں مزدور اکھٹے کام کرتے ہیں اور ان مزدوروں کی تعداد سکولوں کالجوں اور شادی ہالوں میں اکھٹے ہونے والے افراد سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔انہوں نے ماہرین اور حکمرانوں سے سوال کرتے کہا کہ اگر سکولوں کالجوں اور شادی ہالوں میں جمع ہونے وائرس پھیلنے کا خطرہ ہے تو پھر ان فیکٹریوں میں اکھٹے کام کرنے والے مزدوروں سے وائرس پھیلنے کا خطرہ نہیں؟؟انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں کام کرنے والے صنعتی اداروں میں ملک کے کونے کونے سے آنے والے مزدورروزانہ اکھٹے ہو کر کام کرتے ہیں اور ان کی تعداد سکولوں کالجوں اور شادی ہالوں میں جمع ہونے والے افراد سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کہا جا رہا ہے کہ ابھی تک پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں کوئی مریض ٹریس نہیں ہوا جبکہ زیادہ تر مریضوں کا تعلق صوبہ بلوچستان اور سندھ سے ہے۔حالانکہ بھائی پھیرو کے اس صنعتی زون میں ہزاروں کی تعداد میں کام کرنے والے مزدوروں کا تعلق چاروں صوبوں اور متاثرہ صوبوؓ سندھ اور بلوچستان سے ہے۔اور پھر صنعتوں کیلیے سینکڑوں ٹرک ڈرائیور اور ہیلپر روزانہ ہزاروں ٹن بار برداری کا مال اس علاقے میں دوسرے صوبوں سے لاتے اور لیجاتے ہیں۔اگر خدا نخواستہ ایک بھی متاثرہ شخص اس علاقے میں آگیا تو پھر نہ صرف صنعتی زون بلکہ پورے پنجاب میں کرونا وائرس پھیلنے کا شدید خطرہ ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا بھائی پھیرو کے صنعتی زون میں بھی کرونا وائرس کے پھیلنے کے خطرات کی روک تھام کیلیے ہنگامی اور فوری اقدامات کیے جائیں اور اس علاقے میں مریضوں کیلیے قرنطینہ کہ سہولتیں فوری طور پر فراہم کی جائیں،ہسپتالوں میں اس بیماری کے بچاؤ کیلیے ضروری ادویات،سہولیات،ٹیسٹ کے طبی اوزار اور ڈاکٹر مہیا کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ ابھی تک نہ ہی پنجاب حکومت اور نہ ہی ضلع قصور کی انتظامیہ نے اس علاقے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔انہوں نے کہا کہ جلد ہی جماعت اسلامی کے ممبران قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ممبران اس مسئلے اسمبلیوں اور سینیٹ میں اٹھائیں گے

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker