تازہ ترینعلاقائی

بھائی پھیرو: ایس ایچ او تھانہ سٹی نے اپنے پیٹی بھائیوں کے خلاف منشیات کا مقدمہ درج کردیا

بھائی پھیرو(نامہ نگار)بھائی پھیرو۔ تھانہ سٹی بھائی پھیرو کے ایس ایچ او نصر اللہ بھٹی نے اپنے پیٹی بند بھائیوں پانچ پولیس افسران کے خلاف منشیات کے مقدمہ میں خرد برد کرنے کے جرم میں مقدمہ درج کر کے حوالات میں بند کر کے فرض شناشی کا ریکارڈ قائم کر دیا۔انسداد منشیات کا پانچ تھانوں کا انچارج سب انسپکٹر منظور احمد نے کروڑوں روپے کی ہیروین برآمد کر کے بیچ کھائی اور منشیات فروشوں سے بھائی رشوت لے کر ساز باز ہو گیا۔ اپنی تعیناتی کے دوران تحصیل پتوکی کے پانچوں تھانوں میں منشیات بند کرانے کی بجائے منشیات فروشوں کو کھلی چھٹی دے دی۔عوامی سماجی حلقوں کی طرف پانچوں تھانوں میں درج منشیات کے مقدمات کا چیف جسٹس سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز تھانہ سٹی بھائی پھیرو کے ایس ایچ اوانسپکٹر نصر اللہ بھٹی نے اپنے ہی پیتی بند بھائیوں ایس ایچ او تھانہ سٹی پتوکی ملک طارق،انچار ج نارکاٹکس یونٹ تحصیل پتوکی سب انسپکٹر منظور، اے ایس آئی غلام عباس نائب محرر شوکت علی اور کانسٹیبل احسان الہی کے خلاف منشیات کے مقدمہ میں خرد برد کرنے اور منشیات فروشوں سے ساز باز ہونے کے جرم میں مقدمہ نمبر 230/20بجرم,218,,120,155,409,,21ت پ درج کر کے پانچوں کو حوالات میں بند کر دیا،درج کرائی گئی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ مذکور ہ پولیس افسران نے مورخہ 4-2-20کو بد نام زمانہ منشیات فروشوں ناصر ارشد اور محمد کلیم کے قبضے سے کروڑوں روپے کی 17کلو ہیروین برآمد کی اور ان پر دو مقدمات 66/20اور67/20تھانہ پتوکی میں درج کروائے جن میں صرف گیارہ کلو منشیات برآمد کرنے کا مقدمہ درج کیا جبکہ کروڑوں روپے کی چھ کلو ہیروئین خرد برد کر لی۔ بعد میں ملزمان سے برآمد شدہ ساری سترہ کلو ہیروین غائب کر کے لیبارٹری کو ایسے نمونے بھیجے گئے کہ انکا رزلٹ negitive آ گیا اس طرح مذکورہ پولیس افسران نے منشیات فروشوں کو بری کروانے کے لئے ہیرا پھیری کر کے کروڑوں کما لئے۔پتا چلنے پر ڈی پی او قصور زاہد مروت نے انکوائری کے بعد نصر اللہ بھٹی کی مدعیت میں مقدمہ درج کرا کے مذکورہ بد عنوان پولیس افسران کو حوالات میں بند کر دیا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ملزم سب انسپکٹر منظور تحصیل پتوکی کے پانچ تھانوں کا انسداد منشیات یونٹ کا انچارج تھا اور اس نے تمام تھانوں کے اندر بے گناہ لوگوں پر منشیات کے جھوٹے مقدمات بنوا کر اور اصلی منشیات فروشوں کو رعایت دے کر کروڑوں روپے کمائے۔درجنوں مقدمات درج ہونے کے باوجود علاقے میں منشیات فروشی کا دھندہ عروج پر رہا۔جبکہ کئی بے گناہوں پر منشیات کے جھوٹے مقدمے بنا کر انہیں جیل کی سلاخوں میں بند کر دیا گیا۔اس مقدمہ کے بعد پانچوں تھانوں میں درج ہونے والے سینکڑوں منشیات کے مقدمات پر سوالات اُٹھ گئے ہیں اور عوامی سماجی حلقوں نے چیف جسٹسس سپریم کورٹ، چیف جسٹسس ہائی کورٹ اور وزیر اعظم پاکستان کے مطالبہ کیا ہے کہ تحصیل پتوکی کے پانچوں تھانوں میں درج منشیات کے مقدمات کی جوڈیشل انکوائر ی کروائی جائے اور منشیات فروشوں سے ساز باز ہونے والے پولیس افسران کو سخت سزا دی جائے جبکہ جرت مندانہ فیصلہ کرنے والے ڈی پی اور قصور زاہد مروت اور انسپکٹر نصر اللہ بھٹی کو تعریفی اسناد اور ایوارڈ دے کر نقدانعامات دئیے جائیں

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker