تازہ ترینعلاقائی

اوکاڑہ:پنجاب حکومت کے حکم پر باپ بیٹے کو برہنہ کرکے تشددکرنے والا ایس ایچ اومعطل

okaraاوکاڑہ(محمد مظہررشید)وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے حکم پر باپ بیٹے کو برہنہ کرکے تشددکرنے کے مقدمہ میں ایس ایچ او تھانہ صدر دیپالپورکو معطل کردیا گیا ہے لیکن عملہ کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی جبکہ پولیس بجلی چوری کے مقدمہ میں شہید ہونے والے کانسٹیبل کے اصل قاتلوں تک پہنچنے میں ابھی تک ناکام ہے مدعی مقدمہ کی گرفتاری سے شہید کا خون رائیگان جانے کا امکان ہے وزیر اعلیٰ پنجاب نے دو روز قبل ڈسٹرکٹ پولیس آفیسراوکاڑہ راجہ بشارت محمود،ایس پی انوسٹی گیشن محمد اختر خان اور ڈی ایس پی دیپالپور امتیاز بھلی کو بجلی چوری کے مقدمہ میں گرفتار باپ بیٹے کو برہنہ کرکے انہیں تھانہ میں ایس پی انوسٹی گیشن اوکاڑہ کی موجودگی میں تشددکا نشانہ بنانے اور باپ سے بیٹے کو بدفعلی کا نشانہ بنانے کے الزامات کی پاداش میں اوایس ڈی بنادیاتھاجبکہ آئی جی پنجاب کو تھانہ صدر دیپالپور کے تمام عملہ کے خلاف سخت کاروائی کرنے کا حکم دیتے ہوئے انہیں عبرت کا نشان بنانے کا عندیہ دیا ہے جس پر تھانہ صدر کے ایس ایچ او محمد علی چدھڑ کو معطل کردیا گیا ہے لیکن کسی دیگر اہلکار کے خلاف کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی چند روز قبل اوکاڑہ کے نواحی گاؤں چک نمبر37ڈی میں محکمہ واپڈا اور پولیس تھانہ صدر دیپالپورنے بجلی چوروں کے خلاف کریک ڈاؤ ن کیا تو وہاں پر بجلی چوروں اور اہل دیہہ نے ان پر مسلح ہوکر حملہ کردیا جس سے ایک پولیس کانسٹیبل احمد علی شہید ہو گیا جبکہ دیگر کئی اہلکار زخمی ہو گئے پولیس تھانہ صدر دیپالپور نے ستر افرادکے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرکے درجنوں افرادکو گرفتار کرلیا ان گرفتار افراد میں ایک شخص جمشید موہل، اس کے بیٹا زبیراور افتخار کو ایس پی انوسٹی گیشن کی موجودگی میں برہنہ کرکے تشددکرنے اور ان کو بدفعلی کرنے کے الزامات کے بارے ڈی پی او اوکاڑہ کو مطلع کیا گیا جنہوں نے انوسٹی گیشن انچارج مہر مشتاق سمیت دودیگر کانسٹیبل اور واپڈا اہلکاروں کے خلاف تھانہ سٹی دیپالپور میں مقدمہ درج کرادیا اور ان ملزم باپ بیٹا کو رہا کردیاان تمام حالات کو میڈیا نے خوب کوریج دی جس پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے ڈی پی او ،ایس پی انوسٹی گیشن اور ڈی ایس پی دیپالپور کو اوایس ڈی بنادیا اور اس واقعہ کو انتہائی شرمناک قراردے کر تھانہ صدر دیپالپور کے پورا عملہ کو سخت سزادینے کا حکم دیا ہے معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو ڈی پی او اوکاڑہ کی طرف سے یہ رپورٹ دی گئی تھی کہ ایس پی انوسٹی گیشن کی موجودگی کی خبربے بنیاد ہے مگر وزیر اعلیٰ پنجاب نے خفیہ رپورٹ طلب کی تو اس میں ایس پی انوسٹی گیشن کی موجودگی کو ظاہر کیا گیا تھا اس بناء پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے یہ قدم اٹھایا ان حالات میں شہید کانسٹیبل احمد علی کے قاتلوں تک پہنچنا ناممکن ہورہا ہے جس سے اسکا قتل رائیگان جانے کا خدشہ ہے*

یہ بھی پڑھیں  آزاد کشمیر حکومت کا درآمد شدہ مشیر باتدبیر

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker