تازہ ترینعلاقائی

پھولنگر: چارٹر آف ڈیمانڈنہ مانا گیا تو ملک گیر احتجاج ہو گا۔شوکت چدھڑ

بھائی پھیرو(نامہ نگار)بھائی پھیرو۔کسانوں کے زرعی مداخل پر غیر منصافہ درجنوں ٹیکس لگا کرحکمرانوں نے کروڑوں کسانوں کے ساتھ ظلم کی انتہا کر دی۔کسانوں کے حقوق کیلیے احتجاجی تحریک شروع کر دی ا اسلام آباد میں لاکھوں کسان اپنے مال مویشی اور بال بچوں سمیت دھرنا دیں گے اور مطالبات منوا کر دم لیں جے آئی کسان بورڈ پاکستان کے مرکزی صدر چوہدری شوکت علی چدھڑ کا بھائی پھیرو کے صحافیوں کی طرف سے والہانہ استقبال۔پھول پتیاں نچھاور،صحافیوں نے پھولوں کی مالائیں ڈال کر شوکت علی کو دولھا بنا دیا۔اس موقع پر بھائی پھیرو پریس کلب کے سرپرست اعلی حاجی محمد رمضان،صدر میاں خالد رفیق،پھولنگر پریس کلب کے سرپرست ظفر اقبال چوہدری،نیشنل پریس کلب پھولنگر کے صدر چوہدری ندیم سندھو،یونین آف جرنلسٹ پھولنگر کے صدر ڈاکٹر لطیف،پنجاب پریس کلب پھولنگر کے صدر ڈاکٹر سعید الحسن نظامی اور جماعت اسلامی کے مقامی امیر مقبول احمد کمبو نے صدر شوکت علی چدھڑ کو ہار اور مالائیں پہنا کر والہانہ استقبال کیا اور ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔اس موقع پر موجود صحافیوں کی بہت بڑی تعداد سے خطاب کرتے کسان بورڈ پاکستان کے صدر چوہدری شوکت چدھڑ نے کہا کہ ٹڈی دل،تیل اور بجلی کی بڑھتی قیمتوں اور حکومت کی ناقص زرعی پالیسیوں سے زراعت تباہ اور کسان بد حال ہو چکے ہیں۔ہم حکومت کو درج ذیل مطالبات پیش کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ حکمران ان مطالبات کو مان لیں وگرنہ جلد ہی ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔انہوں نے حکومت کو درج ذیل
چارٹر آف ڈیمانڈپیش کرکے وارننگ دی کہ اگر یہ نہ مانا گیا تو ملک گیر احتجاج ہو گا۔
1)زرعی مداخل،کھاد،بیج،زرعی آلات اورادویات پر جنرل سیلز ٹیکس ختم کیا جائے۔2)گندم کی قیمت 1500چاول اری کی قیمت1600،باسمتی کی 2500گنے کی280 اور کپاس کی 4000 روپیہ فی من اور تمباکو کی 220 فی کلو سپورٹ پرائس مقرر کیاجائے۔3)کھاد کی فروختگی کو پرنٹ ریٹ کے مطابق یقینی بنایا جائے اور ہر بوری پر قیمت لکھی جائے۔4)ملک بھر میں چھوٹے چھوٹے ڈیم بنائیں جائیں۔5)ٹیل کے کاشتکاروں کو نہری پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔اور پانی چوری روکنے کیلیے سخت قوانیں بنائے جائیں۔6)زرعی ٹیوب ویلز کا مناسب فلیٹ ریٹ مقرر کیا جائے اور لوڈ شیڈنگ ختم کی جائے۔7)زرعی قرضہ جات کو بلا سود کیا جائے۔8) گنے کے کاشتکاروں کو سابقہ سیزن کے بقایا جات دلائیں جائیں اورگنے کی CPRکو چیک کا درجہ دیا جائے۔9) پاکستانی فروٹس اور سبزیوں کی Exportکو بڑھایا جائے اور جگہ جگہ کولڈ سٹوریج بنائے جائیں۔10)بے زمین کاشتکاروں کو زمین، دریا برد مالکان کو متبادل رقبے،سرکاری مزارعین اور چولستان کے کاشتکاروں کو حقوق ملکیت دیئے جائیں۔سرکاری و غیر سرکاری زمینوں کو قبضہ گروپوں سے واگزار کرایا جائے۔11)لینڈ ریکارڈ سنٹرزسے کرپشن ختم کر کے یہ سنٹر ہر پٹوار سرکل میں بنائے جائیں۔12)زرعی پالیسیاں بنانے کیلیے ماہرین زراعت اور کسان تنظیموں کو ہر سطح پر نمائندگی دی جائے۔13)مکی کی فصل کے کاشتکاروں کے مسائل حل کیے جائیں۔

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker