تازہ ترینعلاقائی

جب تک دوسروں کے حقوق کا اخترام نہ کیا جائے گااس وقت تک کسی سے بھی اپنا حق بھی نہیں مانگ سکتے،ڈی پی او سیالکوٹ

downloadڈسکہ (نامہ نگار ) جب تک دوسروں کے حقوق کا اخترام نہ کیا جائے گااس وقت تک کسی سے بھی اپنا حق بھی نہیں مانگ سکتے ملکی قوانین اور سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں بھٹہ خشت کی صنعت کو جبری مشقت سے پاک بنا کر کے ضلع سیالکوٹ کو ملک بھر میں ماڈل کے طور پر پیش کریں گے اس سلسلے میں حکومت کے ساتھ ساتھ مفاد عامہ کی تنظیموں سے بھی بھرپور مدد لی جائے گی کیونکہ معاشرے میں سماجی تنظیموں کے مثبت کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ ان خیالات کا اظہار ڈسڑکٹ پولیس آفیسرمحمدگوہر نفیس نے جبری مشقت خاتمہ کے لیے قائم کردہ نگران کمیٹی اور ر سپارک چائلڈ رائٹس کمیٹی سیالکوٹ ، کمیونٹی ڈویلپمنٹ کنسرن اور سحر پاکستان کے تعاون سے بھٹہ خشت کی صنعت سے جبری مشقت کا خاتمے کے سلسلے میں منعقدہ اجلاس سے کلیدی خطاب کے دوران کیا۔ا س موقع پر صدر سیالکوٹ ایون صنعت و تجارت شیخ عبدا لمجید ساؤتھ ایشیا پارٹنرشپ پاکستان کے ایگزیکٹو ڈا ئریکٹر محمد تحسین،پائلر کراچی کے ڈاکٹر علی ارسلان،بی ایل ایف کی محترمہ سیدہ غلام فاطمہ، مہر صفدر علی ، ، ممبران صوبائی اسمبلی چوہدری اکرام ،ذوالفقار غور ی ،سی سی ایچ ڈی کے زاہد حسین، اے این سی ای کے راجہ عباس علی، ، صدر بھٹہ مالکان ایسوسی ایشن میاں محمد اکرم، ای ڈی او سی ڈی فیض نعیم وڑائچ ، ڈسڑکٹ آفیسر سوشل ویلفئرمحمد نواز خاں، ڈی او لیبر ملک بشارت علی، ڈائریکٹر اظہر منہاس صدر ڈسٹرکٹ بار ملک مشتا ق ، ممتاز ماہر قانون و کالم نویس آصف بھلی ایڈووکیٹ اور شاہد میر ایڈووکیٹ بھی بطور خاص موجود تھے جبکہ بڑی تعداد میں این جی اوز اوربھٹہ مالکان کے نمائندگان بھی موجود تھے ۔اجلاس میں نظامت کے فرائض ممتازسماجی رہنما عبدالشکور مرزا نے سرانجام دئیے جبکہ سپارک چائلڈ رائٹس کمیٹی کے کوآرڈینٹر محمد ارسلان خان نے معاونت کی۔ اجلاس کی صدرات ڈسڑکٹ کوآرڈینشن آفیسر سیالکوٹ افتخار علی ساہو نے کی۔ ڈی پی او محمد گوہر نفیس نے جبری مشقت کے خاتمے کے لیے پولیس کے کر دار کا ذکر کرتے ہوئے کہا اگر محکمہ سوشل سیکورٹی اور محکمہ لیبر اپنے فرائض ادا کرتا تو پولیس کو اس کام میں آگے نہ آنا پڑتا اگر اب بھی بھٹہ مالکان رضاکارانہ طور پر بھٹہ مزدوروں کو کم از کم اجرت دینا شروع کر دیں تو جبری مشقت کے خاتمے کی ابتداء ہوسکتی ہے۔ اور سیالکوٹ کے بھٹہ مالکان پورے ملک میں ایک قائدانہ مثال پیش کر سکتے ہیں۔ مہمان خصوصی محمد تحسن نے اپنے خطاب میں کہا کہ مجبور اور مظلوم انسانوں کی داد رسی کے لیے اول تو قانون ہی نہیں بنائے جاتے اگر بن بھی جاتے ہیں تو ان پر عمل درآمد بھی نہیں ہوتا۔سیالکوٹ میں جبری مشقت کے قانون کے عملی اطلاق سے بھٹہ مزدوروں کی زندگیوں میں انقلاب آسکتاہے ملک کے دیگر حصوں کے لیے بھی یہاں سے رہنمائی لی جاسکتی ہے۔ ڈ اکٹر علی ارسلان نے سیالکوٹ پولیس کی طرف سے جبری مشقت کے قانون پر عمل درآمدکو مثبت انداز میں دیکھنے اور اس سے خطے کے دیگر ممالک میں بطور نمونہ پیش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔محترمہ سیدہ غلام فاطمہ اور مہر صفدر علی نے بھٹہ مزدوروں کے حالات کار بہتر بنانے کے لیے نیک نیتی سے قانون پر عملدرآمد کرنے کو وقت کا اہم تقاضا قرار داد دیا۔ صدر سیالکوٹ ایون صنعت و تجارت شیخ عبدا لمجید نے مشاورتی عمل شروع کرنے کو سراہا تاہم اس مسئلے کو حل کرتے وقت عالمی سرمایہ داری نظام کے اداروں ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کی طرف سے پاکستان کو غلام بنا نا اور مرضی کے فیصلے تھوپنے کی طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ رکن صوبائی اسمبلی چوہدری محمد اکرام اور صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ملک مشتاق نے بھٹہ مالکان کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ ڈسڑکٹ آفیسرکوآرڈینشن افتخار علی ساہو نے صداررتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جبری مشقت کے خاتمے کے لیے نگران کمیٹی برائے خاتمہ جبری مشقت کو مزید فعال بنا کر اس کام کو اسی جوش اور ولولے سے پایاء تکمیل تک پہنچایا جائے گا جس طرح فٹ بال کی صنعت کو بچوں کی مزدوری سے پاک بناکر دنیا بھر میں ایک منفرد مثال قائم کی گئی تھی۔ آخر میں سپارک چائلڈ رائٹس کمیٹی کے کوآرڈینٹر محمد ارسلان خان نے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ بہت جلد بھٹہ مالکان سے مشاورت کرکے سیالکوٹ کوجبری مشقت سے پاک کر دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button