پاکستانتازہ ترین

سپریم کورٹ نے نیب ملزمان کی طویل حراست کا نوٹس لے لیا

اسلام آباد: (23 اکتوبر 2020) نیب مقدمات میں ملزمان کو طویل عرصہ حراست میں رکھنا ناانصافی ہوگی۔ سپریم کورٹ نے نیب ملزمان کی طویل حراست کا نوٹس لے لیا۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ گرفتاری کے علاوہ ملز مان کو ان کےپاسپورٹ بنک اکائونٹس اور جائیداد سے بھی کنٹرول کیا جا سکتا ہےسپریم کورٹ نے ڈائریکٹر فوڈ پنجاب محمد اجمل کی درخواست ضمانت کی سماعت کے دوران نیب ملزمان کی طویل حراست کا نوٹس لیا۔ نیب مقدمات میں ملزمان کی طویل عرصہ حراست کو ناانصافی قرار دیتے عدالت نے کہا کہ ملزمان سے معاشرے یا ٹرائل کو خطرہ ہو تو حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔ پرتشدد فوجداری اور وائٹ کالر کرائم کے ملزمان میں فرق کرنا ہوگا۔نیب ملزمان کے کنڈکٹ کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ سپریم کورٹ کے دورکنی بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ ملزمان کو گرفتار کرنے کے علاوہ طریقے بھی استعمال ہو سکتے۔ ملزمان کے پاسپورٹ بنک اکاؤنٹس اور جائیداد کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ وکیل صفائی عابد ساقی نے بتایا کہ احتساب عدالت کے مطابق ان کے پاس اسی ریفرنس زیرالتواء ہیں اگست 2020 میں ملزم پر فرد جرم عائد کی گئی۔ ملزم چودہ ماہ سے نیب کی حراست میں ہے۔جسٹس یحیحی آفریدی کے استفسار پر نیب کے وکیل عمران الحق نے بتایا کہ نیب کسی ریفرنس میں بھی تاخیر نہیں کرے گا صرف تاخیر پر ضمانتیں ہوئیں تو ہر ملزم ضمانت مانگے گا روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل کے عدالتی فیصلے سے خوش ہیں۔ نیب بھی چاہتا ہے کہ مقدمات جلد ختم ہوں۔ سپریم کورٹ نے احتساب عدالت لاہور سے ٹرائل میں تاخیر کی وجوہات طلب کرتے ہوئے سماعت نومبر کے تیسرے ہفتے تک ملتوی کردی۔

یہ بھی پڑھیں  ڈسکہ: 10یوم قبل گھر سے مدرسہ جانے والے نوجوان کا سراغ نہ مل سکا، پولیس کارروائی کرنے سے گریزاں

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker