تازہ ترینصابرمغلکالم

احتساب اور سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ

پاکستان میں احتساب کی راہ میں حائل آخری رکاوٹ اس وقت دور ہو گئی جب سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیف جسٹس جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس مظہر عالم خان اور جسٹس یحیٰ خان پر مشتمل تین رکنی بینچ نے لاکھڑا پاور پلانٹ کرپشن کیس میں از خود نوٹس کی سماعت کے دوران حکم جاری کیا کہ تمام احتساب عدالتیں آئندہ سے روزانہ کی بنیاد پر کیسز کی سماعت اور ایک ماہ میں فیصلہ سنانے کی پابند ہو ں گی،چیر مین نیب ٹرائل میں تاخیر کے ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کریں استغاثہ کے گواہان کی حاضری یقینی اورٹرائل میں تاخیر کے ذمہ داران افسران و اہلکاران کے خلاف سخت محکمانہ کاروائی کریں،عدالتیں غیر ضروری التوا نہ دیں اور احتساب عدالت کراچی پیش رفت سپریم کورٹ جمع کرانے کی پابند ہو گی،حکومت کو مزید 120احتساب عدالتوں کے فوری قیام کا بھی حکم،مستقل سیکرٹری قانون کی تعیناتی اور نیب رولز پر رپورٹ طلب،چیف جسٹس گلزار احمد نے نیب رولز سے متعلق بھی رپورٹ طلب کر رکھی تھی،نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایاکہ نیب رولز وزارت قانون میں زیر التوا ہیں،عدالت اعطمیٰ نے 120نئی عدالتوں سے متعلق بھی استفسار کیا جس پر حکومت نے یقین دہانی کرائی کہ ان کا قیام بہت جلد ہو جائے گا،اس وقت ملک بھر میں صرف 24نیب کورٹس کام کر رہی ہیں،اس اہم ترین پیش رفت کے دوسرے روزسپریم کورٹ نے بینک قرضوں کی عدم ادائیگی پر رہن شدہ جائیداد کی نیلامی اور قبضہ میں لینے کو درست قرار دے دیا،درخواست گزار رشید احمد نے اپنی جائیداد قرض کے عوض بینک میں رکھوائی تھی اور رقم واپس کرنے کی بجائے پہلے ہائی کورٹ کا سہارا لیا پھر سپریم کورٹ جا پہنچا اور استدعا کی کہ فنانس ایکٹ کے سیکشن 15کو کالعدم قرار دیا جائے،چیف جسٹس کی سبربراہی میں قائم پانچ رکنی بینچ نے نہ صرف درخواست گزار کی سرزنش کی بلکہ اس سیکشن کو بھی قانونی قرار دیتے ہوئے کہا بینکوں کو جائیداد نیلام یا قبضہ میں لینے کا مکمل اختیارحاصل ہے سپریم کورٹ نے دوران سماعت کہا کہ نادہندہ کو پہلے14۔14روز کے دو نوٹس جاری کئے جائیں جبکہ تیسرا اور حتمی نوٹس30دن کا ہو گا،تیس دن کے بعد بینک بغیر کسی عدالتی مداخلت کے رہن میں رکھی گئی جائیدادکو اپنے استعمال،فروخت یامتعلقہ جائیداد سے حاصل ہونے والا کرایہ بھی وصول کرنے کا حقدار ہو گا،حکومت نے اس فیصلہ کو انتہائی خوش آئند قرار دیا کیونکہ اس سے قبل بینک رہن شدہ جائیداد کو قبضہ میں لینے کی کوشش کے دوران عدالتی پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتے تھے اسی وجہ سے بینکوں نے قرضہ دینے سے انکار کر رکھا تھا،بینک نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبہ کوبھی فنانس نہیں کر رہے تھے،تیسرے روز بھی سپریم کورٹ میں کرپشن کیس کی ایک سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی،یہ سماعت ڈائریکٹر فوڈ پنجاب محمد اجمل کی درخواست ضمانت پر ہوئی جو کہ گذشتہ11ماہ سے نیب کی تحویل میں ہیں،اس موقع پر عدالت نے نیب حراست میں ملزمان کی تحویل حراست کو نا انصافی قرار دیتے ہوئے کہااسی وجہ سے نیب مقدمات منطقی انجام تک نہیں پہنچ پاتے،سپریم کورٹ کی جانب سے نیب مقدمات کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کا حکم احتساب کی جانب اہم ترین قدم ہے کیونکہ اعلیٰ شخصیات کے مقدمات ان گنت ہتھکنڈوں کی بنیاد پر التوا کا شکار رہتے ہیں،عدالتیں بھی تاریخ پر تاریخ دیتی چلی جاتی ہیں،پراسیکیوشن اپنا کام نہیں کرتی،کئی دہائیوں کے مقدمات فریز پڑے ہیں،سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور سابق وزیر ا علیٰ شہباز شریف پر 1998میں رائے ونڈ روڈ سے جاتی عمرہ تک مبینہ طور پر غیر قانونی تعمیر کرانے کا اپریل2000میں نیب کے مطابق اس سڑک کی تعمیر میں قومی خزانے کو تقریبا126ملین روپے کا نقصان ہوا،20سال ہوچکے ہیں تاہم ابھی تک اس کا ریفرنس دائر نہیں کیا جا سکا،نواز شریف نے س دوران اسی سڑک کو مزید چار فٹ چوڑا کرایا مزید لاگت آئی مگر نیب حرکت میں آنے کے بعدبے حرکت ہو گیا،پارک لین اسٹیٹ میں پہلی مرتبہ آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کا نام 2009میں آیا مگر اس کیس میں فر جرم رواں سال10 اگست کو عائد کی گئی، حالانکہ موجودہ چیرمین نیب نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد ہی فرمایا تھا کہ اب مقدمات میں طوالت نہیں ہو سکی احتساب کو جلد از جلد فیصلہ سازی تک پہنچایا جائے گا،اب ایک بار پھر دو روز قبل چیرمین نیب جاوید اقبال نے ایک اجلاس جس میں نیب آپریشنزاینڈ پراسیکیوشن ڈویژن اور تما م ریجنز کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا میں کہاکہ بد عنوانی سے پاک پاکستان کے لئے کرپشن کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے پر عزم ہیں،نیب کے تمام تر مقدمات کی پیروی کے لئے پراسیکیوشن ڈویژن کی تشکیل نو کی گئی جس میں تجربہ کا پراسیکیوٹرز کو شامل کی گیا ہے،اس وقت احتساب عدالتوں سے سزا دلوانے کا تناسب تقریبا 69.8فیصد ہے جو پاکستان میں انسداد بد عنوانی کے دیگر اداروں کی نسبت سب سے بہتر ہے،نیب کی جانب سے اب تک 466ارب روپے ریکور کر کے قومی خزانے میں جمع کرا ناایک ریکارڈ ہے،پاکستان میں بدعنوانی ایسے ہے جیسے باپ کا مال ہو،لاکھڑا پاور پانٹ کیس ہی جس کی سماعت کے دوران احتساب سے متعلق نئی راہیں کھلیں سندھ کے ضلع جامشورو میں انڈس ہائی وے سے20کلومیٹر دور بدھ پور کے پاس قائم ہے کول سے بجلی پیدا کرنے والا یہ پہلا پاور پلانٹ چین کی مدد سے1995میں آپریشنل ہوا،اسے لاکھڑا کے علاقہ میں موجود کوئلہ کی کانوں سے25کلومیٹر دور سے کوئلہ سپلائی کیا جاتا،لاکھڑا پاور جنریشن کمپنی لمیٹیڈ کی زیر نگرانی اس پاور پلانٹ میں 50۔50میگا واٹ کے تین یونٹ لگائے گئے جو مجموعی طور پر150میگا واٹ بجلی پیدا کرتے ابتدائی تخمینہ میں اس پاور پلانٹ کو 300میگا واٹ پیداوار تک لے جانا تھامگر جلد ہی اس کی پیداوار تنزلی کا شکار ہوتی چلی گئی،ناہلی اورکرپشن کا یہ عالم ہو گیا کہ پیداوار صرف20میگا واٹ تک پہنچ گئی اور سالانہ روپے خسارہ شروع ہو گیا،2007میں اسے مکمل طور پر بند کر دیا گیا، 2018میں سندھ حکومت نے اسے فروخت کرنے کا اعلان کیا اور فتح ٹیکسٹائل گروپ حیدر آباد سے ڈیل کا آغاز کر دیا،سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس لوٹ مار کا از خود نوٹس لیا اب اس کی آئندہ سماعت 31اکتوبر کو ہونے جا رہی ہے،پاکستان کو لوٹ لیا گیا،نیب جیسے ادارے نے کچھ لگامیں کھینچیں مگر مجموعی طور پر ابتداء میں وہ بھی سیاسی آلہ کار ہااب قدرے بہتری ہے مگر اربوں روپے ریکوری کے باوجود یہ ادارہ نقائص سے بھرا پڑا ہے،اس میں تفتیشی افسران کی بھرتی یا ڈیپوٹیشن کے دوران کچھ نہیں دیکھا گیا کہ اس افسر کا بیک گراؤنڈ کیا ہے،اس کا خاندان کس قدر کرپشن اور لوٹ مار میں لتھڑا ہے،ایک تو ان کی نا تجربہ کاری اور دوسری جانب ان کے خاندانی کرپشن کی راہیں مزید کشادہ ہو گئیں،پراسیکیوشن بھی ہر اہم کیس میں اپاہج نظر آئی،اگر کرپشن کیس کئی دہائی لٹک جائیں تو احتساب نہیں بلکہ ملک و قوم کے ساتھ مذاق ہو گا،کسی کو ہوش نہیں آیا کہ ہم نے احتساب کے لئے اچھی پراسیکیوشن دینی ہے،بہترین آفیسرز بھرتی کرنے ہیں،زیادہ عدالتوں کا قیام عمل میں لانا ہے تا کہ احتسابی عمل میں تیزی آئے،شرم کا مقام ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود نئی کورٹس کے قیام اور نیب رولز کی فائلیں وزارت قانون میں دھول سے بھری پڑی ہیں،پاکستان کو لوٹ گیا،بے دریغ اور بے رحمانہ طریقے سے لوٹا گیا اور یہ سلسلہ تب تک نہیں تھمے گا جب تک بے رحمانہ احتساب کا عمل شروع نہیں ہوتا، کرپشن کرنے والے ناسوروں کو عبرت کی مثال بنا دینا چاہئے،کیسا عجب تماشہ ہے یہ کرپشن بھی کرتے ہیں اور دھاڑتے بھی ہیں،کھاتے بھی ہیں اوردھمکاتے بھی ہیں، سپریم کورٹ کی یکے بعد دیگرے تین سماعتوں نے قوم کی آواز مطابق آبزرویشن دی ہے،اب احتساب کیس جلد ا ز جلد منطقی انجام کو پہنچیں گے،بینکوں سے قرضہ لے کر ہڑپ کرنے والے بڑے بڑے مگر مچھ بھی اب نہیں بچ پائیں گے کیونکہ وہ قرضہ لینے کے بعدعدالتوں کا سہارا لے کر سب ہضم کر جاتے تھے،

یہ بھی پڑھیں  دیسی لوگ کوئی بات کریں تو غلامانہ ذہنیت والے مذاق اڑاتے ہیں،عمران خان

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker