تازہ ترینعلاقائی

پھولنگر:محکمہ انہار کے دفاتر سے ملحق کروڑوں کی زمین پر قبضہ گروپ نے قبضہ کرلیا

بھائی پھیرو(نامہ نگار)بھائی پھیرو۔چراغ تلے اندھیرا۔محکمہ انہار کے دفاتر سے ملحق کروڑوں کی زمین پر قبضہ گروپ نے قبضہ کر لیا۔سماجی رہنما کی درخواست پر وزیر اعلی سیکرٹریٹ کے حکم کے باوجود محکمہ انہار کے افسران خاموش تماشائی۔اعلی حکام سے نوٹس کی اپیل۔تفصیلات کے مطابق محکمہ انہار بلوکی کے دفاتر سے ملحق زمین پر محکمہ انہار کے افسران کی ملی بھگت سے کروڑوں روپے کی ایک ایکڑ زمین پر گزشتہ روز با اثر افراد نے ہل چلا کر قبضہ کر لیا۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ محکمہ انہا کے دفاتر کی زمین کا رقبہ پچیس ایکڑ کے قریب ہے جس کی قیمت کروڑوں روپے بنتی ہے مگر اس میں محکمہ کے دفاتر اور ملازمین کے رہائشی کوارٹر ہیں مگر ان تمام کورٹروں میں صرف پانچ چھ گھروں میں ملازمین رہتے ہیں باقی کوارٹروں پر پرائیویٹ قبضہ گروپوں نے قبضہ کر رکھا ہے۔سرائے مغل ہیڈ بلوکی روڈ کے گردا گرد،بی ایس لنک کینال اور ہیڈ بلوکی کے پاس محکمہ انہار کی سینکڑوں ایکڑ اراضی پر با اثر افراد نے قبضہ کرکے مکانات تعمیر کرکے ناجائز قبضے کر لیے ہیں۔جگہ جگہ محکمہ انہار کی نہروں کے ساتھ ساتھ بھی سینکڑوں ایکڑ اراضی پر لوگوں کا قبضہ ہے۔یہ سب کچھ محکمہ انہار کے کرپٹ افسران کی ملی بھگت سے ہو رہا ہے اور کروڑوں روپے کی قیمتی سرکاری اراضی کوڑیوں کے بھاو بیچ بیچ کر افسران نے اپنی تجوریاں بھر لیں۔دلچسپ امر یہ ہے کہ ہیڈ بلوکی پر بڑے بڑے افسران کے دفاتر قائم ہیں اور یہ سب کچھ انکی نظروں کے سامنے ہو رہا ہے۔گزشتہ دنوں بلوکی کے سماجی رہنما رانا محمد اقبال خاں نے وزیر اعلی ہاوس کو اس فراڈ کے بارے مطللع کیا جس پر وزیر اعلی سیکرٹڑیٹ نے محکمہ انہار کے افسران کو یہ قبضہ چھڑوانے کا تحریری حکم دیا مگر اس کے باوجود محکمہ انہا ر نے قبضہ گروپوں کیخلاف کوئی کاروائی نہ کر کے اعلی حکام کے احکامات ہوا میں اڑا دیے۔بلوکی کے رانا اقبال اور اہالیان دیہ نے اعلی حکام سے محکمہ انہار کی کروڑوں کی کرپشن کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔محکمہ انہار کے ایس ڈی اوررانا طارق سے ٹیلی فون پر موقف پو چھا تو انہوں نے قبضہ کی گئی زمین کے بارے لا علمی کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں  اٹارنی جنرل کے جواب پر پرویز مشرف نے اعتراضات داخل کرادیے

یہ بھی پڑھیے :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker