تازہ ترینعلاقائی

کپاس کی قیمتوں میں مندی کا رجحان بھاؤ 2850 روپئے فی من تک گر گیا، کاشتکار سخت پریشان۔

sanjhoroسنجھورو(نامہ نگار) سنجھورو میں کپاس کی قیمتوں میں ایک ہفتہ سے مسلسل مندی کے رجحان سے کاشتکار پریشان ہوگئے ہیں۔ گذشتہ ہفتہ کپاس کا ریٹ فی من 3200 تک پہنچ گیا تھا لیکن ایک ہفتہ سے مقامی مارکیٹ میں کپاس کا بھاؤ مسلسل گراوٹ کا شکار ہے۔کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ فیکٹری مالکان آل پاکستان کاٹن جنرسز ایسوسی ایشن کی ملی بھگت سے کپاس کم قیمتوں میں خرید رہے ہیں۔ رمضان المبارک میں اکثر مزدوروں کی جانب سے کپاس کی چنائی نہ کرنے کے باعث مارکیٹ میں کپاس کم آرہی ہے جس کی سپلائی میں عید الفطر کے بعد اضافہ ہوگا ۔فیکٹری مالکان کی ملی بھگت اگر اسی طرح جاری رہی تو کاشتکاروں کو ان کی چھ ماہ کی فصل کا صحیح ریٹ نہیں مل سکے گا جبکہ آڑھتی بھی کاشتکاروں کو لوٹنے میں مصروف ہیں۔آڑھتی کپاس میں کچرے کا بہانہ لگا کر فی من پردو کلو کنتا اور ایک کلو چال( کاٹ) کاٹ رہے ہیں جبکہ فی گٹھڑی ایک کلو کپڑے کی کاٹ اس کے علاوہ ہے۔اس طرح کاشتکاروں کو فی چالیس کلو گرام پر تقریبا چار کلو کاٹ دینا پڑ رہی ہے۔مقامی کاشتکاروں کے مطابق اکثر آڑھتیوں کے ترازو اور باٹ بھی درست نہیں ہیں جبکہ ملازمین رشوت لیکر کانٹے اور باٹ پاس کر دیتے ہیں۔ دوسری جانب مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ ابھی تک بہت سے کپاس کے کارخانے شروع نہیں ہوئے اورمحکمہ موسمیات کی جانب سے 3 8, اور 9 اگست کو بارشوں کی پیشن گوئی اور عید سر پر آنے کی وجہ سے بھی کپاس کی نقل و حمل سست روی کا شکار ہے اور فیکٹری مالکان کپاس کی خرید اری میں عدم دلچسپی ظاہر کرہے ہیں جس کی وجہ سے کپاس کے نرخوں میں کمی آگئی ہے

یہ بھی پڑھیں  بھائی پھیرو:15مسلح ڈاکوئوں نے مزارعین کو یرغمال بنا کرلاکھوں کا سامان لوٹ لیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker