تازہ ترینعلاقائی

مانسہرہ:یونائیٹڈ بنک میں ڈکیتی ،افغان ڈکیت گروہ کی اندھا دھند فائرنگ سے ایس ایچ تھانہ سٹی شہید

mansehraمانسہرہ(قاضی بلال سے)مانسہرہ شہر کی اہم اور مصروف ترین شاہراہ شنکیاری روڈ مانسہرہ پرواقع یونائیٹڈ بنک لمیٹڈمیں ڈکیتی کی واردات کے دوران افغان ڈکیت گروہ کی اندھا دھند فائرنگ سے ایس ایچ تھانہ سٹی شہید جبکہ ایڈیشنل ایس ایچ او سمیت تین افراد شدید زخمی ہو گئے۔افغان ڈکیت گروہ کے دو ساتھی پولیس کی جوابی فائرنگ کے نتیجے میں موقع پر جاں بحق۔ جبکہ ڈکیت گروہ کے پانچ ارکان اپنے زخمی ساتھیوں سمیت پولیس کے سامنے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ایس ایچ او کی شہادت کے بعد علاقہ بھر کے داخلی خارجی راستے سیل کرتے ہوئے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ آخری اطلاعات ملنے تک ڈکیت گروہ کی گرفتاری اور ان کی ہلاکت کی نسبت مختلف چہ مگوئیاں گردش کرتی رہی۔ تاہم پولیس نے کسی بھی قسم کی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی۔ بنک منیجر اور عملے کے ایک کروڑ روپے ڈکیتی کے موقف کو پولیس نے مسترد کر تے ہوئے بنک منیجر اور عملہ کو شامل تفتیش کرنے کے لئے باریک بینی سے تفتیش شروع کر دی۔ تفصیلات کے مطابق رمضان المبارک کے تیسرے عشرے میں عید کی شاپنگ کے اعتبار سے معروف اور مصروف ترین اور اہم شاہراہ شنکیاری روڈ مانسہرہ پر واقع یونائیٹڈ بنک لمیٹڈمیں دن دیہاڑے 1 بجے کے قریب 7 نامعلوم نقاب پوش افراد دو موٹر سائیکلوں اور ایک ٹیکسی نمبر4498 میں سوار ہو کر پہنچے ۔نامعلوم ڈکیتوں نے موٹر سائیکل اور ٹیکسی یونائیٹڈ بنک لمیٹڈ سے تھوڑے فاصلے پر کھڑی کی اور بنک میں جدید اسلحہ اور گرینٹس سے لیس ہو کر ڈکیتی کی غرض سے حملہ آور ہوئے۔ بنک میں داخل ہوتے وقت ڈکیتوں کے بنک کے مرکزی دروازے کو دستی بم سے اڑا دیا اور اندھادھند فائرنگ شروع کر دی۔ جس کے نتیجے میں بنک سیکورٹی گارڈ عبدالستار شدید زخمی ہو گیا۔ چند منٹ تک بنک میں ڈکیتی کی واردات میں مصروف ڈکیت گروہ نے بنک عملہ کو یرغمال بناتے ہوئے بنک سے جملہ رقم مختلف تھیلوں میں جمع کرنا شروع کر دی۔ اسی دوران پولیس نے اطلاع ملنے پر بنک کی عمارت اور پلازہ کو گھیرے میں لے لیا ۔بنک سے چند گز کے فاصلے پر واقع ناڑی مسجد میں جمعہ کی تیاری کی غرض سے موجود ایس ایچ او تھانہ سٹی مبارک خان ڈکیتی کی اطلاع پر فوراً جائے وقوعہ پہنچے اوریکدم بلڈنگ میں داخل ہو گئے۔ایس ایچ اومبارک خان کے بلڈنگ میں داخل ہوتے ہی نامعلوم ڈکیتوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ جس سے ایس ایچ او مبارک خان تین گولیاں لگنے سے موقع پر ہی دم توڑ گئے ۔ جبکہ فائرنگ کی زد میں آ کر ایڈیشنل ایس ایچ او کیڈٹ فاروق اور ٹریفک اہلکار امجد شدید زخمی ہو گئے۔پولیس کے جوانوں کی جوابی فائرنگ پر ڈکیٹ گروہ کے دو ساتھی شدید زخمی حالت میں بنک سے باہر نکل آئے اور اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور تین بار ہاتھ اٹھا کر گرفتاری دینے کی پیشکش کی۔ مگر پولیس نے ڈکیت گروہ کے دو نوجوانوں کی پولیس کے حوالے کرنے کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے فائرنگ شروع کر کے دونوں نوجوان العمر افراد کو گولیوں سے چھلنی کر دیا۔ جس سے دونوں موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ پولیس کی فائرنگ سے ڈکیتوں کے دو ساتھی بھی شدید زخمی ہو گئے۔ جنہیں ڈکیت گروہ کے دیگر ارکان اپنے ہمراہ زخمی حالت میں لے جانے میں کامیاب ہو گئے۔ واقع کی اطلاع پر مانسہرہ پولیس کے علاوہ عوام کی کثیر تعداد موقع پر پہنچ گئی اور عوام نے پولیس کے ساتھ کاروائی میں بھرپور تعاون کرتے ہوئے اپنا کردار ادا کیا۔ جبکہ ڈی پی او مانسہرہ کی سربراہی میں پولیس کی بھاری نفری نے علاقہ بھر کے داخلی اور خارجی راستوں پر سخت سیکورٹی تعینات کرتے ہوئے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ ایس ایچ او تھانہ سٹی مبارک خان کو پوسٹمارٹم جبکہ زخمی ایڈیشنل ایس ایچ او کیڈٹ فاروق سمیت دیگر زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے کنگ عبداللہ ہسپتال مانسہرہ لے جایا گیا۔ جہاں زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کی غرض سے داخل کرتے ہوئے ایس ایچ او مبارک خان کی میت پوسٹمارٹم کے بعدپولیس سربراہان اور ان کے ورثاء کے حوالے کر دی گئی۔شہید ہونے والے ایس ایچ او مبارک خان کی میت بعد ازاں پولیس لائن مانسہرہ لے جائی گئی۔جہاں پولیس اعزاز کے ساتھ ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ جس میں پولیس افسران، سیاسی شخصیات، سماجی و مذہبی شخصیات کے علاوہ کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ جہاں نماز جنارہ کی ادائیگی کے بعد نعش ان کے ورثاء کے حوالے کر دی گئی۔ڈکیتی کی واردات کے دوران بنک سے ڈکیتی کی نسبت مختلف چہ مگوئیاں گردش کرتی رہیں تاہم بنک منیجر اور عملہ نے ایک کروڑ روپے ڈکیتی کا مؤقف بیان کرنا شروع کر دیا۔ جسے بنک کے ذیلی عملہ کے علاوہ موقع پر موجود گواہان ، عوام اور پولیس نے مسترد کرتے ہوئے اصل حقائق تک رسائی کے لئے بنک کے عملے کو شامل تفتیش کرتے ہوئے باریک بینی سے کاروائی شروع کر دی ہے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button