تازہ ترینصابرمغلکالم

آندھی وطوفان نے ایک ہی خاندان کے 8افراد کو نگل لیا

یکم جون کو دوپہر ایک بجے شمس آباد راولپنڈی میں دوست کے ہوٹل سے نکل کر کمرے کی جانب گیاارادہ تھا کہ شدید گرمی کی وجہ سے چند گھنٹوں بعد نیشنل پریس کلب اسلام آباد جاؤں گا تقریباً دو بجے کے قریب اچانک بادل چھا گئے،تیز ہوا اور بجلی کی ہیبت ناک کڑک نے سب کچھ ہی بدل ڈالا تب کہیں نہ جانے کا ارادہ کر لیا مگر ایک انتہائی ضروری کام کی وجہ سے چند قدم دور مارکیٹ جانا پڑا،اس وقت بوندا باندی اور تیز ہواچل رہی تھی کہ اچانک اس قدر خوفناک آواز سے آسمانی بجلی کڑکی کہ میں کیا وہاں کھڑا ہر شخص دہل کر رہ گیا تب میری سوچ میں یہ بات آئی کہ نہ جانے ایسی صورتحال کہاں قیامت صغریٰ برپا کرے گی مگر وہی اندیشہ اس وقت درست ثابت ہوا جب مغرب کے بعدوہاں سے 5سو کلومیٹر دور طوفان نے ایک پورے خاندان کو نگل لیا،یہ طوفان راولپنڈی اسلام آباد سے مغرب جانب ٹیکسلا سائیڈ سے گذرا اور تباہی مچاتا ہوا ضلع اوکاڑہ میں میرے شہر تاریخی قصبہ صدر گوگیرہ میں جا پہنچا یہاں طوفان کی شدت کئی گنا مزید بڑھ چکی تھی میرے آبائی گھر سے محض دس منٹ کی مسافت پرمقصود احمد نامی محنت کش کے گھر میں ایک ہی خاندان کے بڑے چھوٹے کھیل رہے تھے کچھ عورتیں چھت پر تندوری میں روٹیاں لگانے میں مصروف تھیں کہ اس دوران تیز رفتار طوفان نے پورے علاقے کیا ضلع اوکاڑہ و دیگر ملحقہ اضلاع کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ساتھ ہی بارش بھی برسنے لگی،طوفان کی وجہ سے بد قسمت خاندان کے کچھ افراد جلدی جلدی میں چھت سے نیچے اترے،چھت سے نیچے اترتے وقت ایک لڑکی سیڑھیوں سے گر گئی تب بارش اور زخمی لڑکی وجہ سے سبھی افراد ایک ہی کمرے میں داخل ہو گئے،بس یہ وہ چند لمحے ہی تھے جس کا فرشتہ موت کو انتظار تھا،قسمت کی بد نصیبی دیکھیں کی چند روز قبل اس گھر کے پڑوسی نے اپنا گھر گرایا تو ان کی چھت سے ملحقہ دیوار بھی وہ گرانے لگا تو لقمعہ اجل بن جانے والے خاندان کے سربراہ نے نہ صرف پڑوسی کو دیوار نہ گرانے پر راضی کر لیا بلکہ اس دیوار میں لگنے والی اینٹوں کی رقم تک ادا کر دی اس کا ذہن تھا کہ یہ دیوار ایسے کھڑی رہے تاکہ میں او پر کمرہ بنا لوں گا، حالانکہ وہ رہائشی نہیں بلکہ ابدی کمرے کا سودا کر رہا تھا،طوفان کی شدت وہی دیوار برداشت نہ کر سکی اور اس کمرے کی چھت پر جا گری جس میں اس وقت خاندان ڈرا بیٹھا تھا،چھت پر دیوار گرنے کے ساتھ ہی چھت بھی زمین بوس ہو گئی،یہ چھوٹا سا کمرہ تب موت کی وادی کی شکل اختیار کر گیا،چھت گرنے سے کمرے میں ہر چیز تہس نہس ہو گئی سوائے سامان رکھنے والی اس پیٹی کے جس پر خدا عظیم کی عظیم کتاب قران مجید پڑا تھا نہ صرف وہ پیٹی محفوظ رہی بلکہ ایک معصوم سی بچی کسی طرح اس کے نیچے چلی گئی جسے خراش تک نہ آئی الراقم نے خود اس محفوظ پیٹی کو دیکھا اور بچی کو ملااس کمرے میں اس وقت صرف وہی دو چیزیں تھیں جو ہر لحاظ سے محفوظ رہیں،طوفان کی شدت اوربارش کے باعث ہر فرد ڈرا،سہما اور خدا کے حضور دعا گو تھاساتھ والوں کو بھی فوری پتہ نہیں چلا کہ ساتھ کس عفریت نے پورے خاندان کو دبوچ لیا ہے،اس دوران آواز دھماکے آواز آنے پر ایک نوجوان نے ہمت کی اور دیکھا تو وہاں سب قیامت صغریٰ برپا ہو چکی تھی اسی نوجوان نے دوڑتے ہوئے چیخ چیخ کر لوگوں کو اس بہت بڑے سانحہ سے متعلق بتایا،لوگ وہاں پہنچے تو وہاں لاشوں کا ڈھیر لگ چکاتھا،کل بارہ چھوٹے بڑے افراد میں سے 8افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے قران مجید کے سائے تلے بچنے والی بچی کے سوا دیگر بچنے والوں میں سے کسی کا بازوکسی کی ٹانگ ٹوٹ گئی،چھت پرسے گرنے والے لوہے کے گاڈر Uکی شکل اختیار کر گئے،یہ خبرلمحہ بھر میں پورے شہر میں پھیل گئی،طوفان کے باعث اورسڑکوں پر درخت گرنے کے باعث ریسکیو ٹیمیں بمشکل وہاں پہنچیں،،تیز ہوا،بارش اور اندھیرے کی وجہ سے یہ ریکسیو آپریشن تین گھنٹے تک جاری رہاجس میں مقامی اور اوکاڑہ سے آنے والی ٹیموں نے حصہ لیا، یہ سانحہ مقصود کے گھر پیش آیا جس میں اس کی والدہ عالاں بی بی اور بھابھی رانی بی بی،پڑوسی محمد سلیم کے تین بچوں میں دو بیٹے وارث علی،حارث علی اور بیٹی تنزیلہ،محمد مشتاق کی بیٹی اور ندیم احمدکی بیوی شگفتہ،نذیر احمد ولد شریف کی بیوی ظہراں بی بی اور بیٹا ضامن رضا لقمعہ اجل بن گئے جبکہ عظمیٰ،اقراء اور افشاں زخمی ہوئے اور قرآن مجید کی برکت سے بچنے والی مقصود احمد کی بیٹی کرن بی بی جسے خراش نہ آئی،اس نوعیت کا یہ کربناک سانحہ علاقہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پیش آیا،صبع جب ایک ہی جگہ سے اکٹھی 8میتوں کو اٹھایا گیا تووہ منظر اس قدر رقت آمیز کہ ہر شخص اشکبار تھا،جنازہ میں شرکت کرنے والوں کی تعداد اس قدر زیادہ تھی کہ اوکاڑہ فیصل آباد مین روڈ پر ایک کم از کم ایک کلومیٹر فاصلہ تک صفیں بن گئیں،ہمارے شہر کا قبرستان شہر کے شمال مشرق میں ہے اور کسی بھی میت کی تدفین کے لئے اسے شہر میں سے گذارانا پڑتا ہے جب یہ آٹھ لاشے ایک ساتھ قبرستان لے جائے گئے تو پورے راستے میں چھتوں پر،نیچے عورتوں،بچوں اور بڑوں کی بکاہ کا وہ ناقابل فراموش تھی جنہوں نے دیکھا وہ اپنی نسلوں کو بھی بتائیں گے کہ ہم نے کیسی قیامت دیکھی،میں تعزیت کے لئے ان کے پاس گیا تو الفاظ بھی ساتھ چھوڑ گئے انہیں کیا کہوں ان سے کیسے تعزیت کروں اور وہ سب بھی اس وقت تک سکتے کے عالم میں تھے کہ یہ آنے والاطوفان کیسے موت کا لشکر بن کر ان تک پہنچا انہیں یہی کہا کہ بچھڑنے والے سب شہداء تھے ان کے درجات کی بلندی کے لئے دعا کرتے ہیں، سوچتا ہوں وہ لمحہ کیسا ہو گاجب وہ نہ بھاگ سکے،نہ مدد کے لئے پکار سکے،نہ کوئی مدد کے لئے ان تک پہنچا،جانے والے لمحہ بھر میں سب کوچھوڑ کر،خاندان سمیت سارے شہر کو رلا کر چلتے بنے،یہ بہت بڑا سانحہ ہے اسی طوفان کی نذر میرے ہی شہر کا ایک اور نوجوان یوسف بھی درخت گرنے سے جاں بحق ہو گیا جو طوفان سے بچنے کے لئے اسی درخت کا سہارا لے کر کھڑا تھا،میں اس سانحہ کے تین دن بعدتک اسلام آباد راولپنڈی رہاکیونکہ صرف زیادہ ہونے پر بر وقت نہیں پہنچ سکتا تھامگر وہاں جدھر بھی گیا جہاں بھی کوئی بات ہوئی اسی سانحہ سے متعلق ہی بات ہوئی،جس خاندان کے افراد اس طوفان کی وجہ سے شہید ہوئے ہیں وہ ایک محنت کش خاندان ہے محنت مزدوری یا دیگرکام کر کے روزی کمانے والا،یہ انتہائی ضروری تھاکہ اس واقعہ کے بعدضلعی انتظامیہ یا پنجاب سے کوئی حکومتی عہدیدار، ان کی نمازہ جنازہمیں شامل ہوتاغموں سے چور اس خاندان کی ڈھارس بندھاتامگر ایسا نہیں ہواٹھنڈے ٹھاڑ کمروں میں بیٹھنے والے بھلا ہم جیسوں کے لئے کب نکلتے ہیں چاہے اس سے بڑھ کر ہی قیامت ہی کیوں نہ برپا ہو جائے،ساری حکومتی مشینری نے اس کربنانی میں سفاکیت کی انتہا کر دی ہے ان کا رویہ شرمناک اور انسانی اقدار کے برعکس ہے،کچھ بڑے لوگ وہاں ضرورجوحکومت کو جھنجوڑ سکتے تھے،کئی مخیر حضرات نے بھی باتوں کے کار خیر میں حصہ ڈالاوہاں پہنچے دعا کی،وعدے وعید کئے،یہ تحریر لکھتے وقت ایک دوست نے بتایا کہ اوکاڑہ کے صنعتکار و سابق امیدوار قومی اسمبلی چوہدری خلیل الرحمان نے ان کو گھر بنوا کر دینے کا کام شروع کروایا ہے،پی ٹی آئی کی ضلعی قیادت نے بھی وہاں پہنچ کر مدد کا وعدہ کیا،ڈپٹی سپکیر قومی اسمبلی قاسم سوری کے بھائی عزیز احمد خان اتفاق سے کسی نجی مصروفیت کی بنا پر اوکاڑہ آئے ہوئے تھے وہ بھی وہاں پہنچے جنہوں نے گوگیرہ پریس کلب رجسٹرڈ صدر گوگیرہ سے تعلق رکھنے والے صحافیوں سے وعدہ کیا کہ وہ غم سے چکنا چور اس خاندان کی ہر ممکن مدد کریں گے،کسی نے مکان بنا کر دینے کی بات کسی نے کچھ کہا کسی نے کچھ،آج کے دن بھی وہ خاندان باہر اپنی گلی میں رات گذاراتا ہے،گذشتہ دسمبر میں ہمارے شہر کے اصل مسیحااسلام آباد گروپ آف کمپنیز کے مینجنگ ڈائریکٹر و سابق مرکزی چیرمین پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن ڈاکٹر محمد اسلم جو نہ صرف اپنے آبائی شہر،پورے ضلع اوکاڑہ بلکہ راولپنڈی اسلام آباد میں بھی کبھی کسی فلاحی کام ے پیچھے نہیں ہٹے تھے وہ بھی ہمیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھوڑ گئے ورنہ اس خاندان کو نہ کسی حکومتی امداد کی ضرورت ہوتی نہ کسی اور شخص کے وعدوں کی،سب سے پہلے ضلعی انتظامیہ کا کردار قابل مذمت ہے اور پنجاب حکومت کابھی جو اس اہم ترین واقعہ جو قومی میڈیا پر پل پل کی خبریں دیتا رہا سے غافل رہی،کسی بڑے کا تو ایک بھی فرد کسی واقعہ میں جان سے چلا جائے تو پوری حکومتی مشینری خلائی جہاز کی طرح حرکت میں آ جاتی ہے،گر یہ غریب لوگ تھے،محنت کش تھے،بے سہارا تھے،ان کا معاشرے میں کوئی اعلیٰ مقام نہیں تھے مگر تھے وہ بھی انسان اور مسلمانیت سب سے پہلے ہمیں انسانیت کاہی درس دیتی ہے مگر یہاں بے حسی اور بے غیرتی اقتدار کے حامل کرداروں کی نس نس میں بھری پڑی ہے، طوفان کی زد میں آکر ایک ہی خاندان کے8کی ہلاکت پر ان کی آنکھیں اندھی،کان بہرے اور انسانیت ختم،کاش ہمارے ضلع کا ڈپٹی کمشنر ہی وہاں پہنچ کر متاثرہ خاندان کو دلاسہ دیتا آگے صوبائی حکومت کو ہی رپورٹ کر دیتا ممکن ہے اس نے دفتر بیٹھ کر ہی کرپورٹ کی بھی ہو مگر کیا ضلع کے بادشاہ سلامت کا صرف یہی کام ہے کہ وہ اے سی میں بیٹھ کر سب کام کرے بس آفس تک ہی محدود ہے؟ہمارے صوبائی وزراء بھی بے حد مصروف ہوتے ہیں کوئی غریب مر جائیں ان کا سارا خاندان موت کی وادی تلے چلا جائے،لٹ پٹ جائیں مگر وہ بے خبر ہی رہتے ہیں،اپنوں کومنوں مٹی تلے دبانے والے ورثاء کی ذہنی کیفیت کیا ہو گی؟وہ کس اذیت سے دوچار ہوں گیان کی باقی زندگی اپنوں کے بغیر کتنی بے معنی ہو گی،ذراتصور تو کریں؟مگر ایسا تصور بھی کوئی انسان ہی کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  ایس ایچ او تھانہ مصطفی آباد کی کاروائی، چار منشیات فروش گرفتار

یہ بھی پڑھیے :

5 Comments

  1. I was just seeking this information for some time. After 6 hours of continuous Googleing, finally I got it in your site. I wonder what is the lack of Google strategy that don’t rank this type of informative websites in top of the list. Usually the top web sites are full of garbage.

جواب دیں

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker