پاکستانتازہ ترین

کوئٹہ: مقتول ایس ایچ او کی نماز جنازہ میں خودکش حملہ، ڈی آئی جی آپریشنز سمیت 7 افراد جاں بحق

quettablast-ap543کوئٹہ(بیوروچیف)پولیس لائنز کے علاقے میں مقتول ایس ایچ او محب اللہ کی نماز جنازہ کے دوران خودکش حملے کے نتیجے میں ڈی آئی جی  آپریشنز فیاض سنبل سمیت 7 افراد جاں بحق اور پولیس اہلکاروں سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ دھماکا آج صبح فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے ایس ایچ او محب اللہ کی نماز جنازہ کے دوران ہوا جس کے نتیجے میں ڈی آئی جی آپریشنز سمیت 7 افراد جاں بحق اور پولیس اہلکاروں سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے، نماز جنازہ میں آئی جی بلوچستان سمیت 300 سے 400 افراد شریک تھے۔ دھماکا انتہائی زور دار تھا جس کی آواز دور در تک سنی گئی، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر امدادی کارروائیوں کا آغاز کردیا ہے جبکہ زخمیوں کو سی ایم ایچ اور سول اسپتال منتقل کیا جارہا ہے، اسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا بھی خدشہ ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے خودکش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں  شارجہ ٹیسٹ: پاکستان کا ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

  1. کوئٹہ میں رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں دہشت گردی وخودکش
    دھماکوں سے معصوم اور بے گناہ قیمتی جانوں کا ضیاع انتہائی قابل مذمت اور افسوسناک
    ہے ۔ دہشت
    گردی اس وقت ہمارے ملک کا سب سے بڑا اور سنگین مسئلہ ہے اور یہ ملک کی معاشی ترقی
    کی سب سے بڑی رکاوٹ بھی ہے۔ دہشتگرد ملک کو اقتصادی اور دفاعی طور پر غیر مستحکم اور تباہ
    کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ملک اور قوم کی دشمنی میں اندہے ہو گئے ہیں اور غیروں کے
    اشاروں پر چل رہے ہیں۔ دہشت گردی
    ایک ناسور ہے نیز دہشت گرد نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان ، دہشت گرد انسانیت
    کے سب سے بڑےد شمن ہیں۔ دہشت گردوں کا ایجنڈا اسلام
    اور پاکستان دشمنی ہے۔

    خودکش حملے اور بم دھماکے
    اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار
    دیتا ہے اور سینکڑوں ہزاروں بار پوری انسانیت کاقتل کرنے والے اسلام کو ماننے والے
    کیسے ہو سکتے ہیں؟ دہشت گرد خود ساختہ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں اور پاکستانی
    عوام پر اپنا سیاسی ایجنڈا مسلط کرنا چاہتے ہیں جس کی دہشت گردوں کو اجازت نہ دی
    جا سکتی ہے۔معصوم شہریوں، عورتوں اور بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ
    بنانا، قتل و غارت کرنا، خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا اورپرائیوٹ، ملکی و قومی
    املاک کو نقصان پہنچانا، تعلیمی اداروں ،طالبعلموںاور اساتذہ اور مسجدوں پر حملے کرنا اور نمازیوں کو شہید
    کرنا ، عورتوں اور بچوں کو شہید کرنا اور جنازوں پر حملے کرناخلاف شریعہ ہے اور
    جہاد نہ ہے۔۔ کسی بھی مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا
    اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت
    نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے،اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی
    قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے. دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر
    اسلامی و خلاف شریعہ حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں اور اس طرح اسلام کو بدنام کر رہے
    ہیں۔ بے گناہ انسانوں کو سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کے
    لیے قتل کرنا بدترین جرم ہے اور ناقابل معافی گناہ ہے.

    پاکستانیوں کا عبادت کے لئے مساجد میں جانا ،دہشت
    گردوں کے حملوں کے خوف کی وجہ سے پہلے ہی بندہوچکا ،اب لوگ جنازوں میں شرکت کرنےسے
    بھی کتارنے لگیں گے۔ جنازوں میں شرکت کرنے کا مقصد ، مرحوم کے لئے دعائے مغفرت
    کرنا اور موت کو یاد رکنا ہوتا ہے۔ مرحوم کے لواحقین و اعزا و اقارب سے تؑعزیت کر
    نا ہوتا ہے اور ہمدردی کا اظہار کر نا ہوتا ہے۔یہ فرض کفایہ اور سنت رسول ہے۔
    آنحضرت صلعم خود بھی لوگوں کے ہاں جا کر تؑعزیت فرمایا کرتے تھےاور ان کو صبر کی
    تلقین کرتے تھے۔ فقہاء کے نزدیک فرض نماز جماعت سے ادا کر نا سنت موکدہ ہے تاہم
    متعداد احادیث میں نماز با جماعت کی تاکید اور فضیلت کے بیان اندازہ ہو تا ہے کہ
    یہ ایسی سنت ہے جسے بلاعذر ترک کر نا بد نصیبی ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی
    ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حق المسلم علی المسلم خمس:رد
    السلام،وعیادۃ المریض،واتباع الجنائز، وإجابۃ الدعوۃ، وتشمیت العاطس (صحیح بخاری: ۱۲۴۰)

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker