تازہ ترینعلاقائی

بھائی پھیرو:میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے خلاف سیاسی، صحافتی اورسول سوسائٹی کی تنظیموں کا مزاحمت کا اعلان

بھائی پھیرو(نامہ نگار)بھائی پھیرو۔میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے خلاف سیاسی، صحافتی اورسول سوسائٹی کی تنظیموں کا مزاحمت کا اعلان۔ حکومت اس بل کو پاس کرنے سے باز رہے بصورت دیگر سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تفصیلات کے مطابق بھائی پھیرو اور گردونواح کی صحافتی،سیاسی اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کا ایک مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جس میں آر یو جے صوبہ پنجاب کے جنرل سیکرٹری تنویر اسلم خاں،صدر منیر احمد خاں ساقی،چئیر مین حاجی محمد رمضان،بھائی پھیرو پریس کلب کے صدر میاں خالد رفیق،سرائے مغل پریس کلب کے صدر کرامت علی،جنرل سیکرٹری حکیم محمد بوٹا،مانگا پریس کلب کے صدر میاں عامر احمد شیخ،جماعت اسلامی ضلع قصور کے امیر راو اختر علی،جے آئی یوتھ ضلع قصور کے صدر احمد جمال ایڈووکیٹ،کسان بورڈ پاکستان کے میڈیا سیکرٹری ایچ ایم رمضان اور دیگر نے شرکت کی۔اجلاس میں تمام رہنماوں نے کہا کہ اس بل کا مقصد اختلافی آوازوں کو دباناہے تاکہ ملک میں آزادی اظہار رائے پر قدغن لگائی جا سکے، جس کی صحافتی برادری بھرپور مزاحمت کرے گی۔ اس کے علاوہ سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں نے بھی حکومت پر یہ بات واضح کی ہے کہ وہ اس بل کی کسی بھی صورت میں حمایت نہیں کریں گے اور ہر محاذ پر مخالفت کریں گے۔اس بل کے حوالے سے جماعت اسلامی کے امیر راو اختر علی نے پہلے اپنا موقف واضح کردیا ہے کہ، ”یہ بل پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی کے لیے مارشل لا ہے اور یہ بالکل غیر آئینی ہے جس کی ہم ہر سطح پر مخالفت کریں گے۔پریس کلب سرائے مغل،مانگا اور سرائے مغل کے صدور نے کہا ہم ایسی کسی بھی قانون سازی کی ڈٹ کر مخالفت کر یں گے بلکہ ایسی صحافت دشمن سوچ کی مذمت بھی کرتے ہیں۔ یہ اتھارٹی صحافیوں سے ان کا قلم، ضمیر کی آواز کو قتل کرنے کے لیے، جرمانے اور لالچ سے لیس شقوں پر مشتمل ہے۔”آر یو جے صوبہ پنجاب کے سیکریٹری جنرل تنویر اسلم خاں نے کہا کہ، ”اس بل کا مقصد حکومتی کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ اس بل کے ذریعے اخبارات کی کلیکشن کو مشکل بنایا جارہا ہے، صحافیوں کو سزا دی جا رہی ہے اور یوٹیوب چینلز کے قیام کو بھی نا ممکن بنایا جا رہا ہے۔”کسان بورڈ پاکستان کے سیکرٹری اطلاعات حاجی محمد رمضان کا کہنا تھا کہ پورے ملک کی صحافتی برادری اس مجوزہ بل پر سیخ پا ہے اور اسے غیر قانونی اور غیر آئینی سمجھتی ہے۔ ملک بھر کے کروڑوں کسان ملک بھر کی صحافتی تنظیموں کے ساتھ ہوں گے اورسول سوسائٹی بھی ہمارے ساتھ ہوگی۔ اجلاس میں شامل رہنماوں کے بقول ”اس قانون کے ذریعے پوری میڈیا انڈسٹری کو ایک 21 گریڈ کا آفیسر کنٹرول کرے گا اور پوری میڈیا انڈسٹری سرکار کے دیے گئے احکامات پر عمل کرے اور ان کی گائیڈ لائنز کو تسلیم کرے۔

یہ بھی پڑھیں  جماعت اسلامی کو ووٹ کیوں دیں؟

یہ بھی پڑھیے :

جواب دیں

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker