تازہ ترینعلاقائی

بھائی پھیرو:حفاظتی بند ٹوٹ جانے سےہزاروں ایکڑ فصلیں سیلابی پانی میں ڈوبنے سے تباہ

بھائی پھیرو(نامہ نگار)بھائی پھیرو۔حفاظتی بند ٹوٹ جانے سے درجنوں دیہات کی ہزاروں ایکڑ فصلیں سیلابی پانی میں ڈوبنے سے تباہ، چارہ ختم ہونے سے مویشی مرنے لگے۔ضلع قصور اور ننکانہ کی بے حس انتظامیہ ٹوٹنے والے حفاظتی بند کی حدود تعین کرنے میں مصروف۔ پانی میں ڈوبے حکومتی پارٹی کے شہری بھی سراپا احتجاج اور حکومت کی امداد کے منتظر۔تفصیلات کے مطابق نواحی گاوں نٹھے جاگیر اور لکھن کے بھنگور کے قریب گوہڑ کوکیاں والا کے قریب دریائے راوی کے سیلابی پانی کو روکنے کیلیے بنایا گیا حفاظتی بند ٹوٹ جانے سے درجنوں دیہات کا ہزاروں ایکڑ رقبہ زیر آب آجانے سے اس پر کھڑی فصلیں تباہ و گئیں اور کسان کنگال ہو گئے۔اس علاقے کے کسانوں نے ضلع قصور کی انتظامیہ سے رابطہ کیا یہ ٹوٹا بند باندھنے کی اپیل کی تو جواب ملا کہ یہ بند ضلع ننکانہ کی حدود میں آتا ہے اور جب متاثرہ کسانوں نے ضلع ننکانہ سے رابطہ کیا تو جواب ملا کہ یہ علاقہ ضلع قصور کا ہے۔د سیلاب کی وجہ سے مواضعات نٹھے جاگیر،لکھن کے بھنگور،نتھے خالصہ،کامونگل، گگہ سرائے،مانگا ہٹھاڑ،سندر،ڈھانہ کھوکھراں،چاہ کلالانوالہ سمیت دیگر کئی دیہاتوں کا ہزاروں ایکڑ رقبہ کئی روز سے پانی میں ڈوبا ھوا ہے۔چارہ ختم ہو چکا ہے جبکہ مویشیوں کیلیے رکھا گیا بھوسہ بھی دریا کے پانی کی نزر ہو چکا ہے جس کی وجہ سے چارہ ختم ہونے کی وجہ سے مویشی مرنا شروع ہو چکے ہیں۔۔ دریا کے کنارے واقع آبادیوں کے لوگ پانی میں گھرے حکومت کی امداد کے منتظر ہیں۔ مگر حکومتی امداد کا دور دور تک نام و نشان نہیں ہے۔ ان مواضعات کے درجنوں کسانوں نے گزشتہ روز نتھے جاگیر کے سابق امیدوار چئیر مین اور تحریک انصاف یوتھ ونگ ضلع قصور کے نائب صدر رانا بلال اسلم،رانا عرفان انصاری،منظور احمد انصاری،رانا اختر،راناعابدکی سربراہی میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور انتطامیہ کی بے حسی کے خلاف نعرے بازی کی۔مظاہرے میں درجنوں افراد نے شرکت کی،مظاہرین سے خطاب کرتے رانا بلال اسلم نے وزیر اعظم پاکستان،وزیر اعلی پنجاب اور ضلعی انتظامیہ سے مطابہ کیا کہ فوری طور پر گوہڑ کوکیاں والا کے قریب ٹوٹے بند کا شگاف بند کیا جائے اور ہیڈ بلوکی کے دروازے کھولے جائیں اور متاثرہ کسانوں کی مالی امداد کی جائے۔۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کے ہونے والے نقصان کے ذمہ دار مقامی انتظامیہ اور محکمہ نہر کے افسران ہیں۔ جنہوں نے ہیڈ بلوکی کے دروازے جان بوجھ کر بند رکھے ہیں انہوں نے مطالبہ کیا ہیڈ بلوکی اور گردو نواح میں ہونے والے کروڑوں روپے کے نقصان کی تحقیقات کرائی جائے اور متاثرہ لوگوں کی امداد کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں  مصطفی آباد:ویرانے کا منظر پیش کرنے والی 31کنال اراضی پر پارک بنایا جائے، اہلیان مصطفی آباد

یہ بھی پڑھیے :

جواب دیں

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker