پاکستانتازہ ترین

راولپنڈی کے داخلی اور خارجی راستے بند، سیکیورٹی سخت

اسلام آباد(پاک نیوز)کالعدم تنظیم کے مارچ کے باعث شہرکی متعدد سڑکیں بند جبکہ سیکیورٹیسخت کر دی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق راولپنڈی میں سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے جبکہ داخلی اور خارجہ راستے بند ہیں، مری روڈ پر ٹریفک معطل ہے۔ذرائع کے مطابق سکستھ روڈ، چاندنی چوک، لیاقت باغ، مری چوک اور کمیٹی چوک پر مزید کنٹینرز کھڑے کردیے گئے ہیں۔ راولپنڈی کے تمام داخلی اور خارجی راستے بدستور کنٹینرز اور رکاوٹوں سے بند ہیں۔ آئی جے پی روڈ اسٹیڈیم روڈ اور فیض آباد کی طرف نائنتھ ایونیو سگنل پر بند ہے، متبادل طور پر ٹریفک کو نائنتھ ایونیو اور آئی جے پی روڈ کی طرف موڑا جا رہا ہے۔مری روڈ، فیض الاسلام اسٹاپ سے راول ڈیم چوک تک دونوں اطراف کے لیے بند ہے، متبادل طور پر، راول ڈیم چوک سے ٹریفک کو سری نگر ہائی وے کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق مزید نائنتھ ایونیو اور آئی جے پی روڈ کے ذریعے راولپنڈی جانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لہتراڑ روڈ اسلام آباد ایکسپریس وے تک پہنچنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق اس کے علاوہ شہر کی تمام شاہراہیں کھلی ہوئی ہیں۔واضح رہےکہ کالعدم تنظیم کے احتجاج کے معاملے پرپنجاب حکومت کا بڑا فیصلہ بھی سامنے آگیا ہے۔ پاکستان رینجرزکی پنجاب میں تعیناتی کے معاملے پر پنجاب حکومت نے رولز آف انگیجمنٹ طے کر لیے ہیں، محکمہ داخلہ پنجاب رینجرزکی پنجاب میں تعیناتی کا مکمل ذمہ دار ہو گا۔ذرائع کے مطابق پنجاب پولیس کو پاکستان رینجرز کے ماتحت کر دیا گیا ہے، رینجرز اور پولیس کو شر پسند مظاہرین کے خلاف فائر اور متناسب طاقت کے استعمال کے اختیارات دے دیے گئے ہیں۔حکومت نے فیصلہ کیا ہےکہ رینجرزاورپولیس کو شر پسند عناصر، پُر تشدد ہجوم یا مظاہرین کی جانب سے حملے یا حملے کے خطرے کی صورت میں طاقت اور فائرنگ کے اختیارات ہونگے۔ذرائع کے مطابق کالعدم تنظیم کے مظاہرین گوجرانوالہ کی حدود میں داخل ہوگئے ہیں جبکہ ان کا قافلہ گوجرانوالہ ٹول پلازہ کے قریب پہنچ گیا ہے۔احتجاجی مظاہرین نے اپنا سفر آج صبح کامونکی سے شروع کیا ،اسلام آباد کی طرف جانیوالے احتجاجی مارچ کا سفر جاری ہے۔ذرائع کے مطابق کارکنان نے علی الصبح دھرنے کے مقام سے ناشتے کے بعد تازہ دم ہوکر سفر کا آغاز کیا۔واضح رہےکہ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے راستہ روکنے والوں سے سختی سے نمٹنے کی ہدایت کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button