پاکستانتازہ ترین

آرمی پبلک اسکول کیس،سپریم کورٹ حکم دے ہم ایکشن لیں گے، وزیراعظم

اسلام آباد(پاک نیوز) وزیراعظم نے کہا کہ والدین نے جو نام دیے ہیں، ان میں سے کوئی مقدس گائے نہیں۔ سپریم کورٹ حکم دے ہم ایکشن لیں گے۔ چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے آرمی پبلک اسکول پر حملے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں وزیراعظم سے پوچھا کہ سانحہ اے پی ایس کے بعد بچوں کے والدین کو انصاف دلانے کے لیے آپ نے کیا کیا؟وزیراعظم نے عدالت کو بتایا کہ ہماری اُس وقت صوبے میں حکومت تھی۔ اس وقت جو اقدامات ہوسکتے تھے ہم نےکیے۔ جب یہ واقعہ ہوا تو میں فورا پشاورپہنچا۔چیف جسٹس نے وزیراعظم سے کہا کہ ہمیں آپ کی پالیسی فیصلوں سے کوئی سروکارنہیں۔ ہم یہ پوچھ رہے ہیں کہ اتنے سال گزرنے کے بعد بھی مجرموں کا سراغ کیوں نہ لگایا جا سکا؟ چوکیدار اور سپاہیوں کیخلاف کارروائی کی لیکن اصل میں تو کارروائی اوپر سے شروع ہونی چاہیے تھی۔جسٹس قاضی امین نے وزیراعظم سے پوچھا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق آپ تو ان لوگوں سے مذاکرات کررہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ آپ مجھے بات کرنے کا موقع دیں، میں ایک ایک کرکے وضاحت کرتا ہوں۔جسٹس اعجازالاحسن نےکہا کہ والدین کو تسلی دینا ضروری ہے، والدین چاہتے ہیں اس وقت کے اعلیٰ حکام کے خلاف کارروائی ہو۔وزیراعظم نے عدالت کو یقین دلایا کہ سپریم کورٹ حکم دے ہم ایکشن لیں گے۔ والدین نے جو نام دیے ہیں، ان میں سے کوئی مقدس گائے نہیں۔سانحہ آرمی پبلک اسکول پر حملے سے متعلق کیس کی سماعت 4 ہفتوں کے لیےملتوی کر دی گئی جس کے بعد وزیراعظم عمران خان سپریم کورٹ سے روانہ ہوگئے۔کیس کی سماعت کے ابتدا می عدالت نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو حکم دیا تھا کہ اس کیس میں وزیراعظم کوآج ہی بلایں۔ یہ واقعہ سیکیورٹی کی ناکامی تھا،حکومت کو اس کی ذمے داری قبول کرنی چاہیے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ دہشتگردوں کو اندرسے سپورٹ نہ ملی ہو۔ آپریشن ضربِ عضب جاری تھا اور اس کے ردِ عمل پر یہ سانحہ پیش آیا۔ حکومتی اداروں کو سیکیورٹی سے متعلق ٹھوس اقدامات کرنے چاہیے تھے۔جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم اپنی تمام غلطیاں قبول کرتے ہیں۔ اعلی حکام کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہو سکتی۔ دفترچھوڑ دوں گا لیکن کسی کا دفاع نہیں کرونگا۔

یہ بھی پڑھیں  حجرہ شاہ مقیم : چوری ڈکیتی کی مختلف وارداتوں میں لاکھوں کا نقصان

یہ بھی پڑھیے :

جواب دیں

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker