تازہ ترینعلاقائی

ینگ ڈاکٹرزکی دھنائی،پولیس کی پی پی رہنماشوکت بسراکی تھپڑوں سےتواضع

lahore-Policeلاہور (ڈیسک رپورٹر) لاہور میں پنجاب کے ڈپٹی اپوزیشن لیڈر شوکت بسرا کو ینگ ڈاکٹرز سے اظہار یکجہتی بھاری پڑگئی، لاہور میں ینگ ڈاکٹرز سے اظہار یکجہتی کے لیے آنے والے پیپلزپارٹی کے رہ نما شوکت بسرا بھی پولیس کی کارروائی کا نشانہ بن گئے۔  ڈاکٹرز کی حمایت میں بولنے اور لاٹھی چارج سے روکنے پر پولیس اہل کاروں نے شوکت بسرا پر لاٹھیاں برسا دیں، جس سے شوکت بسرا زخمی ہوگئے اور ان کے ہاتھ اور چہرہ سے خون بہنے لگا۔
دوسری جانب ایس پی ماڈل ٹاؤن کا کہنا ہے کہ شوکت بسرا مظاہرین کو غیرقانونی کام پر اکسا رہے تھے، جس پر ان کو روکنے کی کوشش کی گئی اور وہ زد میں آگئے۔  ینگ ڈاکٹرز اور پی پی ورکز کا کہنا تھا کہ پنجاب کے ڈپٹی اپوزیشن لیڈر پر پولیس نے بے جا تشدد کیا۔ پولیس کے ہاتھوں دھنائی کے بعد شوکت بسرا نے شہباز شریف کے خلاف مقدمہ درج کرانے کا اعلان کیا ہے۔ بعد ازاں شوکت بسرا ینگ ڈاکٹرز کو لے جانی والی پولیس وین پر چڑھ گئے اور ان کی رہائی کا مطالبہ کرنے لگے۔ آخری اطلاعات آنے تک پولیس،حکام اور شوکت بسرا کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ جاری تھا۔
واضح رہے کہ پولیس نے ینگ ڈاکٹروں کو میٹرو بس سروس کے گھیراؤ سے روکنے کے لیے ہڑتالی کیمپ کو گھیر رکھا تھا کہ اس دوران دونوں جانب سے پتھراؤ شروع ہوا تو پولیس نے ڈاکٹروں کے ہڑتالی کیمپ اکھاڑ پھینکے اور ان کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ ڈاکٹروں سے اظہار تکجہتی کے لیے آنے والے پیپلز پارٹی پنجاب کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر شوکت بسرا کی ایس پی ماڈل ٹاؤن سے تلخ کلامی ہوئی تو پولیس اہل کاروں نے شوکت بسرا پر بھی تھپٹر برسا دیئے۔ شوکت بسرا نے موقف اختیار کیا کہ پولیس نے وزیراعلیٰ پنجاب کی ایما پر تشدد کا نشانہ بنایا، وہ شہباز شریف کے خلاف ایف آئی آر درج کرائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں  دنیا کا بلندترین پرچم سعودی عرب میں لہرادیاگیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker