تازہ ترینفن فنکار

ملکہ ترنم نور جہاں کو مداحوں سے بچھڑے 21 برس بیت گئے

لاہور(نمائندہ شوبز)پاکستانی فلم انڈسٹری اور ٹی وی کو درجنوں لازوال گیت دینے والی معروف گلوکارہ و اداکارہ ملکہ ترنم نور جہاں کو مداحوں سے بچھڑے 21 برس بیت گئے۔ملکہ ترنم نورجہاں 21 ستمبر1926 کو قصور میں پیدا ہوئیں۔ان کا اصل نام اللہ وسائی تھا جبکہ وہ فلم کی دنیا میں نورجہاں کے نام سے جانی جاتی تھیں۔نورجہاں نے اپنے فنی کیریئر کا آغاز بطور چائلڈ اسٹار 1935 میں کیا۔ فلم گل بکاو¿لی میں کمال کی اداکاری نے اداکار ہ نورجہاں کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔نور جہاں نے 10000 کے قریب گیت ہندوستان و پاکستان میں اردو، سندھی، بنگالی، پشتو، عربی اور پنجابی زبانوں میں گائے۔ انہیں ہفت زبان گلوکارہ بھی کہاجاتاہے۔ملکہ ترنم نے 1941 میں موسیقار غلام حیدر کی فلم خزانچی میں پہلی بار پلے بیک سنگر کے طور پر کام کیا۔ قیام پاکستان سے پہلے ان کی دیگر معروف فلموں میں، دوست، لال حویلی، بڑی ماں، نادان، نوکر، زینت، انمول گھڑی اور جگنو کے نام سرفہرست ہیں۔بعد ازاں ملکہ ترنم نے اداکاری کو خیرباد کہہ کر اپنے آپ کو گلوکاری تک محدود کردیا۔ ایک ریکارڈ کے مطابق انہوں نے 995 فلموں کے لئے نغمات ریکارڈ کروائے۔ نور جہاں نے صدارتی ایوارڈ، خصوصی نگار ایوارڈ، پرائیڈ آف پرفارمنس، این ٹی ایم لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ، ستارہ امتیاز، پی ٹی وی لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ، ملینیم ایوارڈ حاصل کئے انہیں پاکستان کی ثقافتی سفیر کے طور پر بھی نامزد کیا گیا تھا۔حکومت پاکستان نے بھی نور جہاں کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور نشان امتیاز عطا کیا۔ نورجہاں 23 دسمبر 2000 کو دنیا سے رخصت ہوئیں اور کراچی میں ڈیفنس سوسائٹی کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button