پاکستانتازہ ترین

مِنی بجٹ پیش: ریسٹورنٹ کا کھانا، بیکری آئٹمز، موبائل فون، بچوں کا دودھ مہنگا ہوگا

اسلام آباد(پاک نیوز)حکومت نے ضمنی مالیاتی بل 2021 (منی بجٹ) اور  اسٹیٹ بینک آف پاکستان 2021ء بل قومی اسمبلی میں پیش کردیا اور اس دوران اپوزیشن جماعتوں نے شدید احتجاج کیا۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کے مشیر  برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے ایوان میں رولز معطل کرنے کی قرارداد پیش کردی، رولز  معطل کرنے کی قرارداد منظور ہوئی جس کے بعد وزیر خزانہ شوکت ترین نے ضمنی مالیاتی بل 2021 (منی بجٹ) قومی اسمبلی میں پیش کردیا۔اسپیکر  نے رولنگ دی کہ قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط و طریقہ کار کے قاعدہ 122 کے تحت یہ بل قومی اسمبلی کی فنانس کمیٹی کے سپرد نہیں ہوگا۔اپوزیشن کی جانب سے اس موقع پر شدید احتجاج کیا گیا اور حکومت کیخلاف نعرے لگائے گئے۔پیپلز پارٹی کی شگفتہ جمانی نے پی ٹی آئی کی غزالہ سیفی کو تھپڑ دے مارا۔ غزالہ سیفی کارروائی چھوڑ کر چلی گئیں ، جیو نیوز کو  بتایا کہ شگفتہ نے ان کا ہاتھ مروڑا، انگلی فریکچر ہوگئی ، پرچہ کرائیں گی۔اس معاملے پر شگفتہ جمانی بولیں کہ حملہ پہلے غزالہ نے کیا،  وہ سینیئر ہیں، کوئی ہاتھ لگائے گا تو جواب تو دینا پڑے گا۔ اس سارے معاملے کی فواد چوہدری بیچ بچاؤ کے بجائے مووی بناتے رہے۔اہم دن پر  آصف زرداری، شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری ایوان میں نہیں آئے۔ اپوزیشن ارکان نے حکومتی بینچز  پر جا کر شوکت ترین کو گھیر لیا۔ نوید قمر ، کھیل داس کوہستانی ، عبدالقادر مندوخیل اور مریم اورنگزیب نے وزیر خزانہ کے خوب لتے لیے۔اس موقع پر  شیریں مزاری نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا ۔ شوکت ترین یا تو خاموش رہے یا ہاتھ کے اشارے سے اپوزیشن ارکان کو جانے کا کہتے رہے۔اسی شور شور شرابے میں قوانین محصولات (ترمیم سوئم) آرڈیننس 2021ء، فوڈ سیکیورٹی فلو اینڈ انفارمیشن آرڈیننس 2021ء، تحقیقاتی کونسل برائے آبی وسائل (ترمیمی) آرڈیننس 2021، سرکاری نجی شراکتی اتھارٹی (ترمیمی) آرڈیننس 2021، انتخابات (ترمیم سوئم) آرڈیننس 2021، وفاقی حکومت املاک ، انتظام اتھارٹی آرڈیننس 2021، سرکاری املاک (تجاوزات کا خاتمہ) آرڈیننس 2021، برقی توانائی کی پیداوار، ترسیل و تقسیم کے انضباط (ترمیمی) آرڈیننس 2021 میں 120 دن کی توسیع کی قراردادیں بھی منظور کرلی گئیں۔قومی اسمبلی میں پیش گئے گئے ضمنی مالیاتی بل 2021ء اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان 2021ء بل پر بحث آنے والے دنوں میں ہوگی۔مِنی بجٹ میں تقریباً 150 اشیاء پر سیلز ٹیکس بڑھانے کی تجویز ہے جن سے 343 ارب روپے سے زیادہ اضافی ریونیو حاصل ہوسکے گا۔ گاڑیاں، دوائیں، ڈبل روٹی، ریسٹورنٹ کا کھانا منہگا ہوگا، بیکری آئٹمز، موبائل فون، بچوں کے دودھ، ڈبے والی دہی، پنیر، مکھن، کریم، دیسی گھی، مٹھائی اور مسالا جات کی قیمتیں بھی بڑھ جائیں گی۔اس کے علاوہ  درآمدی نیوز پرنٹ، اخبارات، جرائد، کاسمیٹکس، کتابیں، سلائی مشین، امپورٹڈ زندہ جانور اور مرغی پر مزید ٹیکس لگے گا۔کپاس کے بیج،  پولٹری سے متعلق مشینری، اسٹیشنری، سونا، چاندی، کمپیوٹرز اور لیپ ٹاپ بھی اس منی بجٹ کے بعد مہنگے ہوجائیں گے۔مِنی بجٹ میں تقریباً 150 اشیا پر سیلز ٹیکس بڑھانے کی تجویز ہے، موبائل فونز پر ٹیکس 10 سے بڑھا کر 15 فیصد کرکے 7 ارب روپے اضافی حاصل کیے جائیں گے۔الیکٹرک کاروں پر ٹیکس 5 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کیا جائے گا۔تندور پر تیار ہونے والے نان، روٹی اور شیر مال، مقامی طور پر فروخت ہونے والے چاول ، گندم اور آٹے پر بھی کوئی ٹیکس نہیں ہوگا۔موبائل فون کمپنیوں کی سروسز  پر ایڈوانس ٹیکس 10 فیصد سے 15 فیصدکرنےکی تجویز ہے۔ ڈیوٹی فری شاپس پر  پہلی بار 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔پولٹری کے شعبے سے متعلقہ مشینری پر ٹیکس 7 فیصد سے بڑھاکر 17 فیصد کرنے جبکہ چاندی اور سونے پر ٹیکس کی شرح 1 سے بڑھاکر 17 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔اس کے علاوہ بیکری، ریسٹورنٹس، فوڈ چینز  پر بریڈ کی تیاری پر 17فیصد جی ایس ٹی کی تجویز ہے جب کہ عام تندوروں پر روٹی اور چپاتی پر ٹیکس استثنیٰ برقرار رہے گا۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button