پاکستانتازہ ترین

پیر کو عدم اعتماد پر ووٹنگ نہ ہوئی تو دمادم مست قلندر ہوگا، شہباز شریف

اسلام آباد(پاک نیوز)اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی اور ن لیگ کے صدر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اگر پیر کو بھی اسپیکر نےدھاندلی کرائی اورتحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ نہ کرائی تو دما دم مست قلندر ہوگا۔   پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عمران خان کو بھاگنے نہیں دیں گے اسپیکر  قومی اسمبلی عمران خان کے سہولت کار بن گئےہیں۔ اسلام آباد میں قومی اسمبلی کا اجلاس پیر تک ملتوی ہونے  کے بعد  متحدہ اپوزیشن کےرہنماؤں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف ، چئیر مین پاکستان پیپلز پارٹی  بلاول بھٹو، اختر مینگل ، اے این پی کے امیر حیدر ہوتی  اور مولانا اسعد محمود    نے میڈیا سےگفتگو کی ۔  اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ  عدم اعتماد کیا تو ان کے اندر خوف نظر آیا۔ عمران خان سابق وزیراعظم ہوچکے ان کا احتساب کرینگے۔ سندھ ہاؤس کےاندرحملہ کرکےدہشت پھیلانے کی کوشش کی ۔اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی اور ن لیگ کے صدر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اگر پیر کو تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ نہ کرائی تو دما دم مست قلندر ہوگا۔ عدم اعتماد پر  آج قانون کو پیروں تلےروند دیا گیا، تحریک عدم اعتماد پراسپیکر 14دن کےاندراجلاس بلانےکاپابندتھا۔کیا مشکل تھی اسپیکر 21مارچ سے پہلے اجلاس بلاسکتےتھے، اسپیکر آرٹیکل 6 کے مرتکب ہوئےہیں ۔قانون اور آئین روایات سے بالاتر ہیں، روایات اپنی جگہ اسپیکرکوعدم اعتماد پر ووٹنگ کرانی چاہیےتھی اسپیکر نے گھناؤنا کردار ادا کیا ہے ان کاکہنا تھا کہ پوری قوم کی نظر پارلیمان پر لگی ہوئی ہےاسپیکرنےپیرکےروزغیرآئینی عمل کیاتوہرقانونی حربہ استعمال کرینگے۔ جے یو آئی ف کے رکن قومی اسمبلی مولانا اسعد محمود کا کہنا تھا کہ  اسپیکر نے جو بات کی وہ کسٹوڈین نہیں ذاتی نوکر کی حیثیت سے کی ان کاکردار پاکستان کی تاریخ میں سیاہ حروف سے لکھا جائے گا  پارلیمان کے ارکان پر ریاستی دہشت گردی کی جارہی ہے  پارلیمان کے اندر اور باہر بھر پور قوت کا مظاہرہ کرینگے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل  اے این پی کے رہنما امیر حیدر ہوتی کا کہنا تھا کہ اسپیکرنے 14 دن کے اندر اجلاس نہ بلا کر آئین کی خلاف ورزی کی وہ قومی اسمبلی کے اسپیکر کم اور قومی اسمبلی کے چیف وہپ زیادہ لگے ۔ حکومت جلسے نہیں قومی اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کرے ۔ شمالی وزیرستان سے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے بھی میڈیا سے گفتگو کی ۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button