پاکستانتازہ ترین

عمران نیوٹرل پر معافی اور دھمکیاں دیکر پیٹ پیچھے بھیک مانگ رہے ہیں: بلاول

پاراچنار(پاک نیوز) چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ کھلاڑی کو زبردستی وزیراعظم بنا کر ملک پر ظلم نہیں کرنا چاہیے تھا۔پارا چنار میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ یہ مدینے کی ریاست نہیں اس ریاست کے نام کی توہین ہے، وہی وزیر جو مدینے کی ریاست کا درس دیتے ہیں اسی منہ سے اگلے جملے میں گالی دیتے ہیں، یہ کیسی ریاست مدینہ ہے جس میں امیر کے لیے ریلیف اور غریب کے لیے مہنگائی ہے۔چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ معاشی ناکامی اور بحران کی وجہ سے تاریخی مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں، عمران خان کہتے تھے کہ ایک کروڑ نوکریاں دوں گا اور آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاؤں گا لیکن آئی ایم ایف کے پاس جاکر ملک کی معاشی خود مختاری کا سودا کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی معاشی ناکامی کا بوجھ ملک کے غریب عوام بجلی کے بلوں کی مد میں ادا کر رہے ہیں، پی ٹی آئی ایم ایف حکومت نے بجٹ میں پسندیدہ لوگوں کو ریلیف دیا، آخری بجٹ میں ہر چیز پر ٹیکس لگایا گیا، یہ سونامی نہیں تباہی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ کوئی اپنی غلط تسلیم کرنے پر تیار نہیں لیکن وقت آ گیا ہے کہ مل کر پاکستان کو ڈوبنے سے بچائیں، وقت کے فرعون کے خلاف جدوجہد کرنی چاہیے اور وقت کے یزید کے خلاف آج ہم کھڑے ہیں، ہم تعداد میں تیسری لیکن کردار میں پہلی جماعت ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے چند چیزیں دکھا کر ثابت کر دیا کہ عمران خان کی حکومت ختم، کٹھ پتلی کی حکومت ختم، ہم نے دکھا دیا کہ عمران خان اکثریت کھو چکے ہیں لہذا اب وہ وزیراعظم نہیں رہے، اگر 172 ممبرز لا سکتے ہو تو کل لے آؤ ہم تمھیں وزیراعظم مان لیں گے لیکن آپ نہیں لا سکتے۔ان کا کہنا تھا کہ پہلے عمران خان کہتے تھے کہ اگر تحریک عدم اعتماد ہے تو لے آؤ، ہم تو 8 مارچ سے انتظار میں ہیں لیکن یہ کیسا کپتان ہے کہ پچ چھوڑ کر بھاگ رہا ہے، عمران خان تھوڑا سی اسپورٹس مین اسپرٹ دکھاؤ، کھلاڑی بنو، ہمت اور بہادر ہو تو مقابلہ کرو، غیرت ہے تو سامنے آؤ۔چیئرمین پیپلز پارٹی کا وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہنا تھا یہ شخص کہتا تھا کہ میں کشمیر کا سفیر بنوں گا، کشمیر کا سفیر بنتے بنتے یہ شخص کلبھوشن جادھو کا وکیل بن گیا ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ دوسروں کو بوٹ پالش کہنے والے کے بارے میں بھی ہمیں اچھی طرح یاد ہے، اب انہوں بوٹ پالش ختم کر دیا ہے تو بوٹ چاٹنے پر اتر آئے ہیں، بوٹ کو ایسے پکڑ رہے ہیں کہ پاکستانی تاریخ میں کسی نے ایسے نہیں کیا، اب بوٹ پالش بھی عمران خان کے کام نہیں آئے گی، یہ دھمکیاں دیکر پیٹ پیچھے بھیک مانگ رہے ہیں، وزیراعظم پہلے نیوٹرل پر تنقید کرتے تھے اور اب نیوٹرل پر معافی مانگ رہے ہیں۔وزیراعظم کو مزید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ جب یہ اپوزیشن میں تھے اس وقت بھی ان کی نیپی تبدیل ہوتی تھی اور وزیراعظم بننے کے بعد بھی ان کی نیپی تبدیل ہوتی رہی۔چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا وزیراعظم میری اردو پر تنقید کرتے ہیں، میں اعتراف کرتا ہوں کہ میری اردو ٹھیک نہیں ہے، میری تو 30 سال کی عمر میں اردو کمزور ہے لیکن آپ کی تو 70 برس کی عمر میں بھی اردو ٹھیک نہیں ہے، میری اردو ٹھیک کرنے سے پہلے اپنے 3 بچوں کو تو اردو سکھا دو۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button