پاکستانتازہ ترین

چاغی کے عوام پانی کی بوندبوند کوترس ر ہے ہیں : محمدناصراقبال خان

لاہور(پریس ریلیز)انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ کے مرکزی چیئرمین محمدناصراقبال خان ،مرکزی سیکرٹری جنرل تنویراحمدخان ، بلوچستان کے صوبائی صدر کامران خان بازئی اوراحسن ایاز کھیتران نے کہا ہے کہ چاغی کے عوام پانی کی بوندبوندکوترس رہے ہیں، کس پلید یذید نے ان سے یہ نعمت چھین لی ہے۔ اہلیان چاغی کیلئے پینے کا صاف پانی کمیاب کیوں ہوگیا۔وہ شب وروز پانی کی تلاش میں مارے مارے پھر نے کے بعدپیاس کی شدت سے صحراﺅں میں بے موت کیوںمارے جاتے ہیں۔کیا ریاست ان کی ماں نہیں،ان کامسیحا کون بنے گا ۔چاغی میںبے رحم پیاس کئی انسانوں کی زندگی نگل گئی ،ان اموات کوقتل عمدقراردیاجائے۔وہاں تپتے صحراﺅں میںمقامی بلوچ پانی جیسی نعمت کیلئے ایڑیاں رگڑ رہے ہیں جبکہ منتخب ایوانوں میں اقتدار کی بندر بانٹ جاری ہے۔ وہ ایک ہنگامی اجلاس سے خطاب کررہے تھے ۔ محمد ناصراقبال خان ،تنویراحمد خان ، کامران خان بازئی اوراحسن ایاز کھیتران نے مزید کہا کہ ریاست چاغی میں انسانوں اورحیوانوں کی بقاءکیلئے فوری صاف پانی کی فراہمی اورفراوانی یقینی بنائے۔وہاں پانی کی عدم دستیابی کے نتیجہ میں قیمتی انسانی جانوں کاضیاع قومی سانحہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 28مئی1998ءکو چاغی کے پہاڑوں میں کامیاب ایٹمی تجربات جبکہ اسی مقام سے قدرت نے ہماری ریاست کو بیش قیمت سونے کے ذخائر عطاءکئے لیکن افسوس مقامی آبادیوں کو پانی جیسی ناگزیر اوربنیادی نعمت میسر نہیں ہے۔تھر میں بھوک سے ہرسال بچوں کی اجتماعی اموات کے بعدچاغی میں پانی نہ ملنے سے جنازے اٹھنا ناقابل برداشت ہیں،ان اموات کے ذمہ داروں کاتعین کیا اورانہیں تختہ دار پرلٹکایاجائے ۔انہوں نے کہا کہ کیا ریاست کے قومی وسائل پرصرف حکمران اشرافیہ اوران کے بچوں کاحق ہے، عام آدمی کو زندگی کی ضروریات اوراس کے بنیادی حقوق کون دے گا۔ شہریوں کی زندگی کودرپیش مختلف خطرات کاسدباب اورانہیں ان کی دہلیز پر جدیدسہولیات فراہم کرنا ارباب اقتدار کافرض منصبی ہے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button