پاکستانتازہ ترین

اقتصادی سروے 2021-22 کے اعدادوشمار جاری

اسلام آباد(پاک نیوز)وفاقی وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ملک کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ ٹل چکا ہے، آئندہ ہفتے چین 2.4 ارب ڈالرز مل جائیں گے۔تفصیلات کے مطابق وزارت خزانہ نے اقتصادی سروے 2021-22 کے اعدادوشمار جاری کردیئے، اعداد شمار کے مطابق جولائی سے مارچ 2017-2018 میں شرح نمو 6.10 فیصد تھی،جولائی سے مارچ 2021-22 میں شرح نمو 5.97 فیصد رہی،جولائی سے مارچ 2017-18مہنگائی کی شرح 4.6 فیصد تھی،جولائی سے مارچ 2021-22 میں مہنگائی کی شرح 10.8 فیصد رہی۔اس موقع پر وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نئے تخمینے کے حساب سے معاشی شرح نمو 5.97 فیصد رہی،ان کا کہناتھا کہ جیسے ہی گروتھ بڑھی کرنٹ اکاو¿نٹ خسارہ آپے سے باہر ہوگیا ،انہوں نے کہا کہ ملکی درآمدات 45 فیصد تک بڑھی ہیں ۔وزیرخزانہ کا مزید کہناتھا کہ متوسط طبقے کو مراعات دے کر ترقی لائیں گے، ہرانڈسٹری کو گیس دے رہے ہیں، امراءکو مراعات دینے سے درآمدی بل بہت بڑھ جاتاہے، سابق حکومت کورونا کے دوران سودے کرلیتی تو شاید مہنگائی نہ آتی، بجلی کے پلانٹس چلانے کیلئے ہمیں ایندھن لینا پڑ رہاہے، سی پیک کے ساتھ سوتیلے پن کا سلوک کیاگیا۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پچھلی حکومت کو کورونا کے دنوں میں تیل کے لمبی مدت کے سودے کرنے چاہیے تھے، کورونا وبا کے بعد تیل گیس سستی ہوئی اور پچھلی حکومت نے اس کو مِس کیا، کورونا کے دوران جی 20 ممالک نے چار ارب ڈالر کی سہولت دی۔انہوں نے کہا کہ گندم بھی آج امپورٹ کرنا پڑرہی ہے، روس سے گندم خریدنے کا فیصلہ کیا ہے، اس سال 30لاکھ ٹن گندم درآمد کررہے ہیں، روس سے حکومتی سطح پر بات ہو گی۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ 2018 میں ہم 1500 ارب روپے کے قرضوں پر ادائیگی کر رہے تھے، رواں مالی سال 3100 ارب روپے قرضوں کی ادائیگی کیلئے دیں گے، اگلے مالی سال 3900 ارب روپے قرضوں کی ادائیگی کیلئے دینے پڑیں گے۔وزیرخزانہ کا کہناتھا کہ بیلنس آف پیمنٹ قابو سے باہر ہوچکا ہے ،زرمبادلہ کے ذخائر 9 ارب ڈالرز تک آچکے ہیں،آئندہ ہفتے چین 2.4 ارب ڈالرز مل جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کی سمت کو سدھارنے کی ضرورت ہے،ان کا کہناتھا کہ برینٹ کی قیمت 120 سے اوپر ہوچکی ہے ،اس کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!