تازہ ترینعلاقائی

پھولنگر:اوسس کلب کے سوئمنگ پول میں چار بچہ ڈوب کر ہلاک

بھائی پھیرو(نامہ نگار)بھائی پھیرو۔پنجاب کی معروف کلب کی انتظامیہ کی غفلت سے رانا عثمان غنی ایڈووکیٹ کاچار سالہ پھول سا بچہ سومنگ پول میں ڈوب کر ہلاک۔بچے کے ڈوبنے کے متعلق پوچھنے پر کلب کی فرعون صفت انتظامیہ کی بد نصیب خاندان کو دھمکیاں۔اس کلب کی پر اسرار سرگرمیوں کی وجہ سے ارد گرد کے مکین اس کلب میں ہونے والی سرگرمیوں کے بارے طرح طرح کی چہ میگوئیاں کرتے اور کلب سے شدید نفرت کرتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق بھائی پھیرو کے نواحی گاوں چاہ کلالانوالہ کے قریب واقع پنجاب کی معروف کلب اوسس میں رانا عثمان غنی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ اپنے خاندان کے ہمراہ کلب میں سیرکرنے کے لیے آیا اور اپنے چار سالہ پھول سے بچے کو عمر حیدر کو سومنگ پول کے قریب چھوڑ دیاجب تھوڑی دیر بعد اچانک اس کا بچہ نظر نہ آیا تو اس نے بچے کے بارے انتظامیہ سے پو چھا تو انتظامیہ نے اسے دھمکیاں دیں۔بالآخر تھوڑی دیر بعد کلب کا ایک نامعلوم ملازم بچے کو بے ہوش حالت میں اٹھا کر باپ کے پاس لے آیا۔بچے کے باپ نے جب فسٹ ایڈ کیلیے پوچھا تو کلب میں فسٹ ایڈ کا کوئی انتظام نہ تھا اور نہ ہی وہاں کوئی ایمبو لینس موجود تھی۔غمزدہ باپ اپنے بے ہوش بچے کو اپنی کار پر ڈال کر لاہور پرائیویٹ کلینک اقرا میڈیکل کمپلکس اللہ ہو چوک پہنچا مگر بچہ اوسس کی انتظامیہ کی غفلت،لاپروائی اور سے پہلے ہی دم توڑ چکا تھا۔اس طرح والدین کا پھول چار سالہ بچہ عمر حیدر کلب انتظامیہ کی سفاکیت کی بھینٹ چڑھ گیا۔متوفی کے باپ رانا عثمان غنی نے تحریری درخواست تھانہ صدر بھائی پھیرو میں کلب انتظامیہ کے ceo دانش احمد،علیم احمد،آصف احمد،کاشف احمد اور دیگر کے خلاف قدام قتل کے تحت مقدمہ درج کرنے کی درخواست جمع کروادی جس کا ڈائری نمبر 3345/3-7-2022 ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ بچہ اوسس انتظامیہ کی غفلت،لاپروائی اور مناسب علاج کی سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے ہلاک ہوا اور یہ صریحا قتل کے زمرے میں آتا ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس کلب کا دروازہ ہر وقت بند رہتا ہے اور اس میں ہونے والی پر اسرار سرگرمیوں کے بارے نواحی آبادی اور شریف لوگوں میں طرح طرح کی چہ میگوئیاں کی جاتی ہیں اور عوام اس کلب سے شدید نفرت کرتے ہیں۔عوامی سماجی حلقوں نے اس کلب کی پر اسرار سرگرمیوں اور بچے کی موت کے بارے اعلی سطح کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button