تازہ ترینکالمنسیم الحق زیدی

”خوش آمدید۔۔سپہ سالارجنرل سید عاصم منیر“

الحمد اللہ! پاکستان کے نئے سپہ سالارر جنرل سیدعاصم منیر کی تعیناتی نے ملک دشمن عناصر کے مذموم عزائم خاک میں ملا دئیے ہیں اور ان سیاسی مخالفین کے منہ بھی بند کردئیے ہیں جنہوں نے 7 اپریل کے بعد سے ملک کو اپنے سیاسی مفادات کی خاطر تختہء مشق بنا یا ہوا تھا اور پاک افواج کا مورال ڈاؤن کرنے کیلئے الزام تراشی،فیک و من گھڑت خبروں کی ایک گھناؤنی مہم شروع کر رکھی تھی،جس کیلئے مجبورا ًسربراہ آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کو پریس کانفرنس کرنا پڑی جس کے بعد پی ٹی آئی چیئرمین و سابق وزیرا عظم عمران خان کا سازشی بیانیہ زمین دوز ہو گیا۔ تحریک انصاف کے جلسوں، احتجاجی لانگ مارچ نے ملک کے اعلیٰ ترین عہدے کو متنازعہ بنانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی اور دنیا بھر میں وطن عزیز کی جگ ہنسائی کا موقع ضائع نہیں کیا۔ سوال تو یہ ہے کہ کیا عمران خان نے آرمی چیف کی تعیناتی پر واویلا مچانے، اعتراضات اٹھانے کے پس پردہ مقاصد حاصل کر لئے ہیں، یقینا ان کی بلیم گیم کا خاتمہ ہو گیا ہے۔سیاسی رہنماؤں و قیادت کو چاہئے کہ ملکی سلامتی کو مقدم رکھتے ہوئے تمام تر اختلافات کو یکسر بھلا کر نئی عسکری قیادت کو خوش آمدید کہیں اور پاکستان کے دفاع کو مستحکم کرنے پر زور دیں مگر یہاں مفاد پرست سیاست دانوں نے اس وقت ملک میں فوج مخالف فضاء پیدا کی ہوئی ہے جس کا مقصد فوج کی ملک وقوم کی خاطر دی ہوئی بے بہا قربانیوں کو یکسر فراموش کرکے فوج کے کردار کو قوم کے سامنے مشکوک بناناہے ”ایڈولف ہٹلر“کہتا ہے کہ کسی بھی قوم پر کاری ضرب لگانے کا پہلا طریقہ یہ ہے کہ اس ملک کی فوج کو اس قوم کی نظروں میں اتنا مشکوک بنادو کہ وہ اپنے محافظوں کو اپنا دشمن سمجھنے لگے،آج چند اقتدار کے پجاری ہوس پرست سیاست دان،حکمران اسی ملک وقوم دشمن ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کا ہر وہ حاکم نہ اپنی سلطنت کا تحفظ کرسکا اور نہ اپنی قوم یا رعایا کا جس نے فوج رکھنے کے باوجود اپنی سپاہ کی ترقی اور برتری وافزونی پر توجہ نہ دی علاوہ ازیں ایسی متعدد سلطنتیں وریاستیں بھی تباہی وبربادی کا شکار ہوگئیں جن کے حکمرانوں نے فوج کو جانثاروں وجانبازوں کادرجہ دینے بجائے اسے غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے کی نہ صرف کوشش کی بلکہ قوم کو بھی فوج کے خلاف باغیانہ رویہ اختیار کرنے پر اکسایا،اس کی زندہ اور تازہ مثال مشرقی پاکستان کی صورت میں دی جاسکتی ہے آج بھی چند ناعاقبت اندیش سیاست دانوں،حکمرانوں نے تاریخ سے سبق سیکھنے کی بجائے ماضی کو دہرانے پر تلے ہوئے ہیں۔قدرت کا انصاف دیکھیے کہ سیاست دان اور حکمران جو ذلت،ذلالت پاک فوج کے کھاتے میں ڈالنا چاہتے تھے،آج وہ خود ان کے حصے میں آچکی ہے۔چند سالوں میں پاک فوج کے خلاف جس قسم کا زہر یلااور پرفتن پراپیگنڈہ کیا گیا ہے اور جس طرح کی فتنہ خیز زبان استعمال کی گئی ہے کوئی محب وطن ایسی زبان کا استعمال تو کجا،اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ایسے رویے اور ایسی زبان کے استعمال پر جہاں ایک طرف شدید دکھ پہنچا وہاں قوم کے کروڑوں محب وطن افراد کا پاک فوج کے حق میں نہایت مثبت وجانداراندازوطریق اور شاندار الفاظ میں خراج تحسین دل کی تسکین وتشفی کا باعث بھی بنا۔ یاد رہے کہ ہمارا دشمن ہماری تاک میں ہے وہ ہر لمحہ ہماری سا لمیت پر گھات لگائے بیٹھا ہے یہی وجہ ہے کہ نئے آرمی چیف کی تقرری پر بھارت میں سوگ کا سماں ہے، ہندوتوا بھارتی میڈیا نے آئی ایس آئی سربراہ کی بطور آرمی چیف تقرری پر آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے۔ کیونکہ نئے آرمی سربراہ ملٹری انٹیلی جنس،اور دنیا کی بہترین انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کے بھی سربراہی کر چکے ہیں۔ جنرل عاصم منیر کی پیشہ وارانہ مہارت کا دشمن بھی اعتراف کرتا ہے اور وہ ان کی پاک فوج کی قیادت سنبھالنے پر خوفزدہ ہے۔بلاشبہ ہمارے جرنیل و جانباز ملکی سرحدوں کے دفاع کے ذمہ دار ہیں۔جس طرح ایک انسانی جسم کے بہتر مدافعتی سسٹم کا دارومدار اس کی قوت مدافعت پر ہوتا ہے اسی طرح ملکی سلامتی اور اس کے دفاع کا انحصار اس ملک کی مضبوط فوج پر ہوتا ہے۔افواج پاکستان کی مضبوطی اور قوت جس قدر زیادہ ہو گی ہمارا دشمن پر رعب و دبدبہ قائم ہو گا اور وہ کبھی تر نوالہ سمجھتے ہوئے نگلنے کی جرات نہیں دکھائے گا۔ جیسا کہ ہندوستان،جس نے پاکستان پر فوجی دھاگ بٹھانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا، اپنی عوام کو بھوکوں رکھتے ہوئے کھربوں ڈالرز کے اسلحہ کا انبار لگا رکھا ہے لیکن بے سود، اس کی تمام تر جنگی تیاریاں، جدید ہتھیار،عساکر پاک کے جذبہ ایمانی، سر فروشی کی طاقت کے آگے ڈھیر ہیں۔ بلاشبہ ہماری پاک افواج بدرو حنین کی جانشین ہیں، نئے سپہ سالار پاکستانی نہیں اسلامی فوج کے سربراہ ہیں پورے عالم اسلام کے عسکری نمائندہ ہیں جو جونبی کریم ﷺ کی سالاری اورجنگی مہارت کے امین ہیں۔ہمارے نبی پاک ﷺ عظیم سپہ سالار تھے۔ آپ ﷺ لشکر کشی، فوجی تربیت، عسکری نظام اور میدان جنگ میں فوج کی قیادت اور سالاری کے اصولوں سے خوب واقف تھے۔جس طرح غزوہ بدر میں مقام بدر کو میدان جنگ بنا کر بہترین جنگی مہارت کا ثبوت دیا اور پانی کے کنویں پر قبضہ کرکے دشمنوں کی تمام تدبیروں کو خاک میں ملا دیاتھا۔خاتم النبیین ﷺہمیشہ اپنی ذات سے بے نیاز ہوکر میدان جنگ میں فوج کی رہنمائی فرماتے آپ ﷺہمیشہ اپنی جان پر کھیل جانے کے لیے تیار نظر آتے۔آپ ﷺکا یہ دستور تھا کہ اپنے لشکر کی صفوں میں گھوم پھر کر اپنے بہادر سپاہیوں کو ہمت اور جرات دلاتے۔ ثابت قدمی اور بہادری پرقائم رہنے کی ہدایت کرتے۔ ا ٓپ ﷺکی بہادری اور جوانمردی کو دیکھ کر آپ ﷺکے ساتھی بھی نڈر ہوکر لڑتے تھے۔جنرل سید عاصم منیرپاک فوج کی تاریخ میں پہلے آرمی چیف ہیں جو حافظ قرآن بھی ہیں۔انہوں نے بطور لیفٹیننٹ کرنل مدینہ منورہ میں تعیناتی کے دوران 38 سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کیاً ان کے حفظ قرآن کی برکت سے پاک فوج مزید مضبوط ہو گی۔ہمارے نئے فوجی سربراہ پاک فوج کے سینئر ترین تھری سٹار آفیسر ہیں جو پاکستان ملٹری اکیڈمی کے فارغ التحصیل نہیں ہیں بلکہ انہوں نے آفیسرز ٹریننگ سکول منگلا سے فوج کی تربیت مکمل کر کے پاک فوج میں شمولیت اختیار کی۔ دوران تربیت انہیں بہترین کارکردگی پر اعزازی شمشیر سے نوازا گیا، اور کمانڈاینڈ سٹاف کالج میں معلم کے فرائض بھی سرانجام دے چکے ہیں۔ جنرل عاصم منیر سب سے سینئر لیفٹیننٹ جنرل ہیں، ستمبر 2018 ء میں انہیں دو سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی لیکن دو ماہ بعد چارج سنبھالا۔ وہ اس وقت سے موجودہ چیف آف آرمی سٹاف کے قریبی ساتھی رہے ہیں جب سے انہوں نے جنرل قمر باجوہ کے ماتحت بریگیڈیئر کے طور پر فورس کمانڈ ناردرن ایریاز میں فوجیوں کی کمان سنبھالی تھی جہاں اس وقت جنرل قمر جاوید باجوہ کمانڈر ایکس کور تھے۔ جنرل عاصم منیر 2014ء میں کمانڈر فورس کمانڈ ناردرن ایریا خدمات انجام دینے کے بعد 2017ء میں ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اکتوبر 2018ء میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی پانے کے بعد انہیں ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کیا گیا، جہاں کچھ عرصہ خدمات کی انجام دہی کے بعد انہیں جون 2019ء میں کور کمانڈر گوجرانوالہ کے عہدے پر تعینات کر دیا گیا۔ جنرل عاصم اکتوبر 2021ء سے جی ایچ کیو میں بطور کوارٹر ماسٹر جنرل فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ جی ایچ کیو میں کوارٹر ماسٹر جنرل کے طور پر منتقلی سے قبل انہیں گوجرانوالہ کور کمانڈر کے طور پر تعینات کیا گیا تھا جہاں وہ اس عہدے پر دو سال تک فائز رہے تھے۔ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر نے ہلالِ امتیاز بھی حاصل کر رکھا ہے۔ عام طور پر آرمی چیف آف آرمی سٹاف لانگ کورس سے آنے والے جنرل بنتے ہیں، مگر جنرل عاصم منیر لانگ کورس سے نہیں بلکہ او ٹی ایس سے آئے ہیں۔ لانگ کورس سے مراد پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں منعقد ہونے والے دو سالہ کورس ہے جس سے تربیت پا کر پاکستانی فوج کے افسران فوج کا حصہ بنتے ہیں۔ یہ لانگ کورس ایبٹ آباد کی کاکول اکیڈمی میں ہوتا ہے۔ مقابلے پر ایک اور ادارہ او ٹی ایس یا آفیسرز ٹریننگ سکول کہلاتا ہے جو پہلے کوہاٹ میں ہوا کرتا تھا بعد میں منگلا منتقل ہو گیا۔ جنرل عاصم منیر منگلا میں آفیسرز ٹریننگ سکول سے پاس آوٹ ہوئے جس کے بعد انہوں نے فوج میں فرنٹئیر فورس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق جنرل ضیاء الحق کے دور میں او ٹی ایس سے پاس آوٹ ہونے والے جنرل عارف بھی فور سٹار جنرل بنے تھے لیکن آرمی چیف نہیں۔ جنرل عاصم منیر پاکستان کے وہ واحد آرمی چیف ہوں گے جو چیف بننے سے قبل دو مختلف انٹیلی جنس اداروں کے سربراہ رہے ہیں۔ جنرل عاصم منیر وہ پہلے آرمی چیف ہوں گے جو کوارٹر ماسٹر کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔ جنرل عاصم منیر، سید زادے ہیں اور سید سرور منیر شاہ کے صاحب زادے ہیں۔ سید عاصم منیر شاہ ڈھیری حسن آباد راولپنڈی کینٹ کے رہائشی تھے۔ان کے والد درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ تھے۔نئے سپہ سالار نے اس وقت اپنا عہدہ سنبھالا ہے جب ملک داخلی اور خارجی محاذوں پر کئی چلی سے دوچار ہے، لہٰذا یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ان کی آزمائش کا بھی آغاز ہوچکا ہے۔مشرق میں بھارت کی شر انگیزیاں جاری ہیں، مغرب میں افغان سرحدی تنازعہ چیلنج بن کر سامنے آیا ہے، خطے میں داعش ایک نئے خطرے کے روپ میں سر اٹھا رہی ہے۔ اندورن ملک کالعدم تنظیموں نے ایک بار پھر دہشت گردانہ کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے ان کے قلع قمع کیلئے بھر پور فوجی حکمت عملی بروئے کار لانا ہو گی۔مقبوضہ کشمیر کواس کا سابق خصوصی درجہ واپس دلوانا اور کشمیریوں کی آزادی سمیت تمام چیلنجز سے نبرد آزما ہو نگے۔اس میں کوئی دو رائے نہیں قومی نئی عسکری قیادت اپنی پیشہ وارانہ مہارت، جنگی صلاحیتوں کی بناء پر دشمن کے عزائم کو ناپاک بنانے کیلئے فوج کو مزید مضبوط تیار کرنے میں کامیاب ہوگی جس سے پاکستان سیاسی، معاشی و دفاعی طور پر مزید مستحکم ہوگا۔انشاء اللہ۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button