تازہ ترینکالمنسیم الحق زیدی

”طالبان کی سر دمہری اورپاکستان میں حالیہ دہشت گردی“

بھارت نے گزشتہ دو دہائیوں سے افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی خاطر امریکی آشیر باد پر خطے میں تخریب کاری کو ہی پروان نہیں چڑھایا بلکہ طالبان اور افغان فورسز کے درمیان جھڑپوں میں ہمیشہ ڈبل گیم کا ڈررامہ رچایا۔ایک طرف طالبان سے مذاکرات جبکہ دوسری جانب سابق صدر اشرف غنی انتظامیہ کو اسلحہ کی فراہمی اس کے مذموم مقاصد کا پردہ چاک کرتی ہے۔مودی کو خطے کی سلامتی ایک آنکھ نہیں بھاتی اس لئے افغان ا یجنسی”این ڈی ایس“کے ساتھ مل کر امن کو برباد کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جا رہا
جارح انڈیا کی جانب سے ایل او سی پر دہشت گردی، بلوچستان، فاٹا میں دہشت گردانہ حملوں میں ملوث ہونے کے مقاصد پاکستان کو کشمیریوں کے استصواب رائے سے دستبرداری اور سی پیک کو ثبو تاز کر نا ہے۔ حالیہ دنوں میں لکی مروت میں پولیس اہلکاروں پر جان لیوا حملے سمیت خیبر کے پی کے میں کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کی دہشت گردی کی کارروائیوں کو یوں صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔کابل میں طالبان حکومت کی واپسی امریکہ اور ہندوستان کی شکست عظیم تھی جس کی خفت مٹانے کیلئے ان دونوں ممالک نے باہمی گٹھ جوڑ کر کے پاکستان اور طالبان حکومت کے مابین سازشوں کا آغاز کر دیا ہے۔نائن الیون سانحہ کے بعد افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ شروع کرکے20 برس کے دوران کھربوں ڈالرز جھونک دئیے گئے لیکن واشنگٹن 3 لاکھ سے زائد افغانیوں کو تربیت دے کر مسلح کرنے کے باوجود اپنے مذموم عزائم حاصل نہ کر سکا۔امریکہ کی یہ خواہش تھی کہ بھارت کو استعمال کرکے جنوبی ایشیاء میں اپنی اجارہ داری قائم کی جائے تاکہ چین کی عالمی افق پر بڑھتی ہوئی مقبولیت کے آگے ایک مضبوط دیوار کھڑی کی جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام اور سی پیک منصوبے کے خاتمے کیلئے امریکی سامراج مسلسل سرگرم ہے۔حالانکہ پاکستان شروع دن سے ہی عالمی طاقتوں پر زور دے رہا ہے کہ امن عمل پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے حالات کو اس نہج پر نہ پہنچایا جائے جس سے خطے کی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہو جائیں۔پاکستان کی طرف سے افغانستان میں امن و استحکام کے قیام کے لئے کاوشیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور دنیا اس امر کی معترف بھی ہے لہٰذا دشمن عناصر اپنی تخریبی کارروائیوں کے ذریعے قیامِ امن کے راستے میں روڑے اٹکانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے۔دوسری جانب طالبان کا پاکستان کے حوالے سے مخمصانہ رویے سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں رہا کہ وہ اپنے محسن کی قربانیوں کو فراموش کرنے کی روش پر عمل پیرا ہے۔ اس کے باوجود پاکستان ا فغانستان کے ساتھ ہر ممکن مدد میں پیش پیش ہے، اس کے لاکھوں مہاجرین کا بوجھ بھی خوشدلی اورفرخدلی سے سہہ رہا ہے مگر افسوس افغانستان نے ہمیشہ سرد مہری کا ہی مظاہرہ کیا ہے۔ معاشی بحران پر قابو پانے اور نئی افغان حکومت کو تسلیم کرنے کیلئے دنیا پر زور دے رہا ہے لیکن مغربی سازشوں کی وجہ سے طالبان کی جانب سے بھی مثبت رویہ دیکھنے کو نہیں مل رہا۔پاکستان نے افغانستان کا ہر ممکن ساتھ دیا۔پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف20برس تک جاری رہنے والی نام نہاد جنگ کے دوران خراب حالات سے شدیدمتاثر ہونے کے باوجود امن،مصالحت، تعمیر نو اور اقتصادی ترقی کے تمام اقدامات کی حمایت جاری رکھتے ہوئے پاکستان نے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور سابق افغان ا نتظامیہ کے لگائے گئے بے سروپا الزامات اورکارروائیوں سے ”امن عمل“کوشدید دھچکا لگا جس کا اندازہ اس امر سے بھی بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کو دہشت گردی کیخلاف نام نہاد جنگ میں ناکامی کے بعد پاکستان کے اس بیان کو تسلیم کر نا پڑا کہ افغان مسئلے کا حل عسکری نہیں مذاکرات ہی تھالیکن بی جے پی انتظامیہ جس نے افغانستان میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے آج بھی وہ نہیں چاہتی کہ خطے میں امن قائم ہو۔بھارت اور سابق کابل انتظامیہ نے افغانستان میں امریکہ کو الجھا کر اس کی کمزوری کاخوب فائدہ اٹھایاہے،بھارت ایک طرف ورکنگ باؤنڈری اور کنٹرول لائن پر فائرنگ اور گولہ باری کر کے پاکستان کے لئے مشکلات جبکہ دوسری جانب افغانستان اور ایران کے راستے خطے میں دہشت گردانہ کارروائیوں کی حوصلہ افزائی کر رہاہے۔ درحقیقت علاقے میں دہشت گردی کا اصل منبع بھارت ہے۔واشنگٹن دوہرے کردار کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل میں اسے مکمل سپورٹ فراہم کر رہا ہے۔امریکی مذمو م مقاصد اور مفادات کے حصول کیلئے جنگجویانہ پالیسیاں عالمی امن و امان اور معیشت کیلئے زہر قاتل ثابت ہوئی ہیں۔کیونکہ دہشت گردی کی نام نہاد جنگ نے پوری دنیا کو بربادی وتباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔افغانستان میں انسانی بحران اور بھوک کے سائے منڈلارہے ہیں، یہاں غربت، افلاس اور خوراک کی کمی نے صورتحال کو اور بھی تشویش ناک بنادیا ہے۔طالبان کی بھرپور مزاحمت سے امریکی کٹھ پتلی حکومت کا تو خاتمہ ہوگیا لیکن وطن عزیز کوہنوز دہشت گردانہ کارروائیوں کا خمیازہ بھگتنا پڑرہاہے۔حالانکہ امارات اسلامیہ نے اپنی سر زمین پر دہشت گردی کیلئے نہ استعمال ہونے کی یقین دہانی کروائی تھی۔لیکن ٹی ٹی پی جیسی تنظیمیں افغانستان کی سرزمین کا آزادانہ استعمال کر کے پاکستان میں بدستور تخریبی سر گرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔اور اسے دہشت گردی میں افغان و بھارتی خفیہ ایجنسیوں کا مکمل تعاون بھی حاصل ہے۔پاکستان کی عسکری قیادت اور سول حکومت نے بے لگام دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے ”ضرب عضب“ اور ”رد الفساد“کے نام سے آپریش کئے جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی تھی۔ تاہم اس جنگ میں پاکستان کو بھی اربوں ڈالرز اور 80 ہزار سے زائد قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرنا پڑا۔ مودی کاایرانی بندرگاہ ”چاہ بہار“میں اربوں ڈالرز مالیت کے دیگر منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے کا مقصد صرف اور صرف پاکستان کی ترقی وخوشحالی اورخطے میں چین کی بالادستی کو نقصان سے دوچار کرنا تھاکیونکہ بیجنگ جہاں ایک طرف سرمایہ کاری، تجارت اورسفارتکاری کے ذریعے دنیا بھر میں ذرائع آمدو رفت اور اداروں کا ایک ایسا جال بچھارہا ہے کہ جس سے ہر ایک پالیسی ہر آنے والے منصوبے کو اس طرح تقویت دے کہ پورا خطہ اس کی بانہوں میں سمٹ آئے تو وہیں دوسری طرف وہ علاقے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے زریعے افغانستان وسطی اور جنوبی ایشیاء کے درمیان پل کا کردار ادا کرسکتا ہے لیکن اس حقیقت سے بھی کوئی انکاری نہیں کہ مزید بدامنی کی صورت میں دنیا کا تقریباً کوئی بھی ملک محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ پاکستان کی سلامتی کے درپے مودی حکومت عالمی دہشت گرد تنظیم ”داعش“کی بھی اسی مقصد کے تحت سرپرستی کررہی ہے ایسے میں عالمی برادری کو محض بیانات پر ہی اکتفا نہ کرکرتے ہوئے بروقت اقدامات اٹھانے ہوں گے وگرنہ افغانستان کا عدم استحکام صرف پاکستان کے لئے ہی مسائل کا باعث نہیں بنے گا بلکہ اس سے خطے کے تمام ممالک متاثر ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button