تازہ ترینفن فنکار

اشفاق احمد کی نویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔

ashfaq ahmadلاہور (نامہ نگار) اردو ادب ، صداکاری اور ڈرامہ نگاری میں اشفاق احمد مرحوم کو منفرد مقام حاصل ہے۔ لوگوں کو جینے کے ڈھنگ سکھانا، ان کی ایسی خوبی تھی جو کسی اور ادیب کے حصے میں نہیں آئی۔ ملک بھر میں اس عظیم شخص کی نویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔ نثرنگاری ہو يا ڈرامے کی کہانی، ريڈيو کی صداکاری ہو يا ٹيلی ويژن کا پروگرام اشفاق احمد نے جس  ميدان ميں بھی طبع آزمائی کی، کاميابی نے ان کے قدم چومے۔  اشفاق احمد کا شمار ان اديبوں ميں ہوتا ہے جو قيام پاکستان کے فورا بعد ادب کے افق پر چھا گئے۔ انيس سو اٹھاون ميں تلقين شاہ کے نام سے ان کی آواز پہلی بار ريڈيو پاکستان سے ہوا کے دوش پر گئی اور اس پروگرام کو ايسی پذيرائی حاصل ہوئی کہ يہ سلسلہ چھيالس برس تک چلتا رہا۔ اپنے طويل کيرئير ميں اشفاق احمد نے ٹيلی ويژن کے لئے ڈرامے لکھے جن کو بے حد سراہا گيا۔  گڈريا، توتا کہانی اور ايک محبت سو افسانہ لکھنے والے اس ہمہ جہت شخصيت نے اپنے طويل کيرئير ميں دھوپ اور سائے کے نام سے ايک فيچر فلم بھی بنائی۔ عمر کے آخری حصے ميں اشفاق احمد صوفی ازم کی جانب مائل ہوگئے ليکن ان کے اندر کے داستان گو نے اس ميدان ميں بھی جدت تلاش کرلی اور ان کے گرد چاہنے والوں کا جمگھٹا سا رہنے لگا۔  چار ستمبر دو ہزار چار کو داستان سرائے کا يہ مسافر اپنی ابدی منزل کو روانہ ہوگيا ليکن ان کی ياديں اور باتيں آج بھی لوگوں کو دوسروں کے لئے آسانياں پيدا کرنے کی تلقين کررہی ہيں۔

یہ بھی پڑھیں  وفاقی حکومت نے شوگر ملوں کو چینی کی برآمد کی اجازت دے دی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker