پاکستانتازہ ترین

غیر قانونی سمیں بند نہ کرنیوالی کمپنیاں بند کرنے کا حکم

simپشاور(نمائندہ خصوصی) پشاورہائی کورٹ نے غيرقانوني سموں کا استعمال نہ روکنے والي کمپنيوں کوبند کرنے کا حکم ديتے ہوئے فيصلہ سنايا ہے کہ اگر دہشت گردي کي کاروائیوں ميں کسي کمپني کي سم استعمال ہوئي تو وہ متاثرين کوديت ادا کريں گي ۔ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس دوست محمد خان کی سربراہی میں ڈویژن بنچ نے غیر قانونی فون سمز کے حوالے سے از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ پی ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل عبدالصمد عدالت میں پیش ہوئے اور بتا یا کہ غیر قانونی سم پر پابندی کے لئے نادرا کے تعاون سے نیا نظام متعارف کرایا جارہا ہے۔ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ نادراکی نااہلی کی وجہ سے پندرہ لاکھ افغانی غیر قانونی طور پر رجسٹرڈ ہیں۔ جبکہ خيبرپختونخوا اورفاٹا ميں دس لاکھ افغانی سم بھي استعمال ہورہي ہيں عدالت کومطمئن نہ کرنے پر چيف جسٹس پشاورہائيکورٹ ڈي جي پي ٹي اے کي سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ کام اپ کا ہے اوربتاہم رہے ہيں غيرقانوني سم آرمي، پوليس اورديگرسکيورٹي اداروں کےلئے بھي سنگين خطرہ بنتي جارہي ہيں ۔۔۔ کيس کے حوالے سے عدالت نے اپنے فيصلے ميں کہا کہ کسي کمپني کي سم کا استعمال دھماکے ميں ثابت ہوا توجاں بحق افراد کوديت ادا کريں گے، جبکہ زخميوں اورپراپرٹي کے نقصانات کا ازالہ بھي متعلقہ کمپني کرے گي ۔۔۔۔ چيف جسٹس ہائيکورٹ نے صوبائي حکومت اورتمام سکيورٹي اداروں کوغيرقانوني سمزکي روک تھام کےلئے لائحہ عمل طے کرنے اوروفاقي حکومت کے ساتھ بيٹھ کرقانون سازي کي ہدايت کي ۔۔۔۔۔ اورکيس کي سماعت دو اکتوبرتک ملتوي کردي ۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button