تازہ ترینعلاقائی

بھائی پھیرو:واپڈا سب ڈویثرن ریڈنگ سیکشن کا عملہ شہریوں سے جگا وصول کرنے لگا

wapdaبھائی پھیرو(نامہ نگار) واپڈا سب ڈویثرن بھائی پھیرو ریڈنگ سیکشن کا عملہ شہریوں سے جگا وصول کرنے لگا،جگا ٹیکس نہ دینے والے صارفین بجلی کو ہر ماہ ذائد یونٹ کا جھٹکا، کوڑی کوڑی کو ترسنے والے میٹر ریڈر رشوت کے بل بوتے پر لاکھوں میں کھیلنے نئی نئی گاڑیوں میں گھومنے لگے ۔ بجلی چوری کے مقدمات درج کرانے کی دھمکیاں دے کر واپڈا ملازمین غریب صارفین سے ہزاروں روپے بٹورنے لگے ۔ جگا ٹیکس دینے والے صارفین بجلی محمد رمضان ،محمد اشرف ودیگر کا اعلیٰ حکام سے فوری طور پر نوٹس لیکر کارروئی کرنے کا مطالبہ۔تفصیلات کے مطابق۔واپڈا سب ڈویثرن بھائی پھیرو کے ایریا میں جہاں پر واپڈا ملازمین کی ملی بھگت سے بجلی چوری ہورہی ہے وہیں پر ریڈنگ سیکشن کا عملہ بھی صارفین بجلی کا خون چوس رہا ہے بتایا جاتا ہے کہ ریڈنگ سیکشن کے راشی میٹر ریڈر اپنے چہیتے عملہ کے ذریعے صارفین بجلی کو ہر ماہ استعمال شدہ یونٹ سے ذائد یونٹ ڈال کر لوگوں کو پریشان کرتے ہیں اور پھر بل درست کروانے کے لیے آنے والے صارفین بجلی سے بل درست کرنے کے لیے رشوت کا مطالبہ کرتے ہیں۔واپڈا عملہ صارفین کو بجلی چوری کرنے کے مقدمات درج کروانے کی دھمکی دے کر ہزاروں روپے رشوت بٹورتے ہیں ۔ اس طرح واپڈا ملازمین نے حکومت کی بجلی چوروں کے خلاف مہم کو ناکام بنا کر اپنی جیبیں بھرنے کا ذریعہ بنا لیا ہے ۔ گزشتہ روز صارفین بجلی محمد رمضان نے صحافیوں کو بتایا کہ میں غریب آدمی ہوں اور میری چھوٹی سی دوکان ہے اور محنت مزدوری کرکے اپنے بال بچوں کا پیٹ پال رہا ہوں جبکہ گزشتہ ماہ میٹر ریڈر میرے میٹر کی ریڈنگ نوٹ کرنے کے لیے آیا تو اُس نے ریڈنگ نوٹ کرنے بعد مجھ سے کہا کہ آپ مجھ سے ماہانہ طے کر لیں اور جتنی مرضی بجلی استعمال کرلیا کریں میرے انکار پر وہ مجھے کہنے لگا کہ ٹھیک ہے اگر آپ نے بجلی چوری نہیں کرنی تو مجھے پانچ سو روپے دے دیں ورنہ آپ کو ذائد یونٹ ڈال کر بل بجلی بھیج دیں گے جس پر میں نے ذائد یونٹ ڈالے جانے کے ڈر سے اُسے پانچ سو روپے دے دیے مگر چند دن بعد مذکورہ میٹر دوبارہ آدھمکا اور کہنے لگا کہ جو پیسے آپ نے دیے ہیں وہ کم ہیں اس لیے پانچ سو روپے اور دو ۔جس پر میں نے انکار کردیا تو میٹر ریڈر نے مجھے ذائد یونٹ کا بل بجلی بھیج دیا جوکہ ادا کرنا میری پہنچ سے دور تھا جسے میں درست کروانے کے لیے مسلسل سات دن سے واپڈا سب ڈویثرن بھائی پھیرو اور کبھی ایکسیئن دفتر کی خاک چھان رہا ہوں مگر ابھی تک میرا بل درست نہیں کیا گیااسی طر ح ایک اور صارف بجلی محمد اشرف نے بتایا کہ رشوت خوروں کو رشوت نہ دینے پر مجھے بھی ذائد یونٹ ڈال کر بل بجلی بھیج دیا گیا اور اُسی بل کو درست کروانے لیے میں کئی ماہ سے ایس ڈی او دفتر اور ایکسیئن دفتر کے درمیان فٹ بال بنا ہوا ہوں مگر آج تک میرا بل درست نہیں کیا گیاجبکہ دیگر صارفین بجلی نے بھی میٹر ریڈروں کی طرف سے کئے جانے والے مظالم کی داستانیں سناتے ہوئے کہا کہ ہم لوگ بھی ان ظالموں کے ظلم کا شکار ہوچکے ہیں اور ہماری بھی کہیں سنوائی نہیں ہورہی آخر میں ریڈنگ سیکشن عملہ کے ظلم کا شکار ہونے والے صارفین بجلی نے حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت وقت کو چاہیے کہ محکمہ میں موجود ایسی کالی بھیڑوں کو محکمہ سے فوری طور پر باہر نکال پھینکے تاکہ غریب عوام محکمہ میں موجود ان جیسی کالی بھیڑوں کے ظلم سے محفوظ رہ اور سکھ کا سانس لے سکے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button