تازہ ترینعلاقائی

حجرہ شاہ مقیم:بھٹہ مزدوروں کی جان ومال اور عزت تک محفوظ نہیں،حاجی اکرم

downloadحجرہ شاہ مقیم ( نامہ نگار)مرکزی سیکرٹری اطلاعات و نشریات آل پاکستان بھٹہ مزدور محاذ حاجی محمد اکرم نے کہا ہے کہ محکمہ لیبر میں موجود کالی بھیڑوں سے ملی بھگت کر کے بھٹہ خشت مالکان انسانی خریدو فروخت کا کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں ،پیشگی کے نام پر جبری مشقت اور مزدوروں کا استحصال کیا جا رہا ہے ،بھٹہ مزدوروں کی جان ومال اور عزت تک محفوظ نہیں،انسانی حقوق کی تنظیمیں اور صوبائی حکومت خاموش تماشائی بن گئیں ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے حجرہ پریس کلب رجسٹرڈ میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ بھٹہ خشت کا کاروبار ملکی سطح پر ایک بڑی صنعت کی شکل اختیار کر گیا ہے مگر حالیہ دور میں بھی بھٹہ مزدور کا استحصال جاری ہے ،بھٹہ خشت مالکان نام نہاد خود ساختہ تنظیمیں ظاہر کر کے اپنے ظالمانہ کاروبار کو تحفظ فراہم کرتے ہیں جبکہ محکمہ لیبر میں موجود کالی بھیڑوں نے بھٹہ جات سے باقاعدہ بھاری منتھلیاں لیکر مالکان کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے فرضی اجلاس منعقد کروا کر اعلیٰ حکام کو سب اچھا کی رپورٹ فراہم کی جاتی ہے ،حاجی محمد اکرم نے دل دہلا دینے والے انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 1988 ؁ء پیشگی نظام کے خاتمہ کا حکم جاری کر رکھا ہے مگر 25سال گزرنے کے با وجود پنجا ب و ضلعی انتظامیہ اس پر عمل درآمد نہیں کروا سکی ،انہوں نے کہا صوبائی حکومت کے نوٹیفیکیشن کے تحت جہاں دس مزدور کام کرتے ہوں وہاں فیکٹری ایکٹ لاگو ہوتا ہے جبکہ بھٹہ خشت مزدوروں کی با قاعدہ اجر ت بھی مقرر کی گئی ہے مگر با اثر بھٹہ مالکان عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی نفی کرتے ہوئے پیشگی کا نظام جاری رکھے ہوئے ہیں ،بھٹہ مزدور کو مقررہ سرکاری اجرت سے محروم رکھا جا رہا ہے اور من مرضی سے چند ٹکے دیئے جاتے ہیں جن سے دو وقت کی روٹی بھی پوری نہیں ہو تی ،بیشتر بھٹہ خشت رجسٹرڈ نہیں کروائے جا تے جہاں انسانیت کی تذلیل اور انسانی خریدو فروخت کا کاروبار جاری ہے انھوں نے کہا کہ بھٹہ مالکان کے ظلم و بربریت کا شکار مزدور کی جان و مال اور عزت تک محفوظ نہیں ،حاجی محمد اکرم نے واضع کیا کہ بھٹہ خشت پر ہونیوالے مظالم پر انسانی حقوق کی تنظیمیں اور خود صوبائی حکومت و ضلعی انتظامیہ نے معنی خیز خاموشی اختیار کر رکھی ہے،انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری سے از خود نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button