تازہ ترینعلاقائی

ٹیکسلا:مرغیوں کی انتڑیوں سے کوکنگ آئیل تیار کرنے کے گھناؤنے کاروبار میں ملوث تین فیکٹریاں پکڑی گئیں

ٹیکسلا(ڈاکٹر سید صابر علی / نا مہ نگار)حطار انڈسٹری میں مرغیوں کی انتڑیوں سے مضر صحت کوکنگ آئیل تیار کرنے کے گھناؤنے کاروبار میں ملوث تین فیکٹریاں پکڑی گئیں،اسسٹنٹ کمشنر نے تینوں فیکٹریوں کے مالکان اور عملہ کے خلاف پرچے درج کروا دیئے، دوران تفتیش سنسنی خیز انکشافات کی توقع،مذکورہ کارخانے فیڈ بنانے کی آڑ میں مرغیوں کی انتڑیوں اور دیگر مردہ جانوروں کی آلائشوں سے مضر صحت کوکنگ آئیل تیار کرنے کے گھناؤنے دھندے میں ملوث تھے ، سیل کی گئی فیکٹریوں کے مالکان اور عملہ نے پرچے درج ہونے کے بعد عدالت سے عبوری ضمانتیں کروانی شروع کردیں تفصیلات کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر ہری پور ارشاد خان نے عوامی شکایات پر حطار انڈسٹری میں مرغیوں کی انتڑیوں سے مضر صحت کوکنگ آئیل کی تیاری میں ملوث تین فیکڑیوں پر چھاپے مار کر انکے خلاف مقدمات درج کر دیئے، بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات اے سی ہری پور نے ڈی ایس پی سرکل خانپور محمد ایاز،ایس ایچ او تھانہ حطار اور ایس ایچ او تھانہ کوٹ نجیب اللہ کی قیادت میں بھاری پولیس نفری کے ہمراہ حطار انڈسٹری میں فیڈ بنانے کے تین کارخانوں جن میں فازن آئیل ٹریڈنگ ، اسلام آباد پولٹری اور حطار ریزنڈنگ پر چھاپے مارے، ان چھاپوں کے دوران انتظامیہ نے ان فیکٹریوں میں مرغیوں کی انتڑیوں اور دیگر مردہ جانوروں کی آلائشوں سے مضر صحت کوکنگ آئیل کی تیاری کے متعلق اہم ثبوت حاصل کرلئے تاہم چھاپہ کے وقت ان فیکٹریوں کا عملہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا اے سی کی ہدایت پر پولیس نے تینوں فیکٹریوں کے مالکان اور منیجروں کے خلاف مقدمات درج کردیئے، ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ یہ چھاپے عوامی شکایات پر مارے گئے اور ان چھاپوں سے قبل انتظامیہ نے خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے ذریعے ان فیکٹریوں میں تیار کیا جانے والا مضر صحت کوکنگ آئیل خریدکر اپنی تسلی کی تھی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ان فیکٹریوں میں تیار کیا جانے والا مضر صحت آئیل ملک کے مختلف علاقوں میں فروخت کے لئے بھیجاجاتا تھا ذرائع کے مطابق دوران تفتیش اس معاملہ میں سنسنی خیز انکشافات منظر عام پر آنے کی توقع ہے دریں اثناء مرغیوں کی انٹریوں سے مضر صحت کوکنگ آئیل تیار کرنے والی فیکٹریوں کے مالکان اور عملہ میں سے متعدد افراد نے گزشتہ روز عبوری ضمانتیں کروا لی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button