تازہ ترینعلاقائی

سنجھورو:پولیس کی جانب سے ڈاکوؤں کی پشت پناہی کرنے پرشہریوں کاتھانہ کا گھیراؤاوردھرنا

downloadسنجھورو(نامہ نگار) تفصیلات: سنجھورو کے قریب جعفر خان لغاری کے مقام پر چار مسلح ڈاکو، شہریوں اسد لغاری، نظر لغاری اور شوکت لغاری سے تین عدد موٹر سائیکل چھین کر فرار ہوئے جن کا علاقہ مکینوں نے پیچھا کیا۔ ڈاکوؤں اور شہریوں کے درمیان مقابلہ کے دوران پانچ شہری غلام مصطفیٰ لغاری، اعجاز لغاری، شوکت لغاری ، غلام نبی لغاری اور دستگیر لغاری زخمی ہو گئے۔ شہریوں نے مقابلے کے بعد گدروماچھی کے مقام پر چاروں ڈاکوؤں محمد یامین چانگ، عمران برڑو، سرور رند(عرف سرو رند) اور ایک نامعلوم ڈاکو کو چھینی گئی موٹر سائیکل سمیت پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا۔ پولیس نے مبینہ طور پر دو ڈاکوؤں سرور رند اور ایک نامعلوم ڈاکو مفرور کرادیا ۔سنجھورو پولیس نے ڈاکوؤں کو بچانے کے لئے ناجائز اسلحہ رکھنے اور ڈکیتی کی دفعات لگانے کی بجائے ہلکا پھلکا مقدمہ درج کرلیا اور پولیس اسٹیشن کے ایک کمرے میں مہمان بناکر بٹھالیا۔ سنجھورو پولیس نے ڈاکوؤں سے برآمد ہونے والا اسلحہ ایک عدد کلاشنکوف ،ایک عدد ریپیٹر، دو عدد ٹی ٹی پستول اور گولیاں اور مسروقہ موٹر سائیکلیں چھپر کردیں(ظاہر نہیں کیں)۔پکڑے گئے ڈاکو پولیس کو متعدد مقدمات میں مطلوب ہیں۔ سنجھورو پولیس کی جانب سے جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کرنے کے خلاف یونین کونسل جعفر خان لغاری سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں شہریوں نے سنجھورو تھانہ کا گھیراؤ کیا اور تھانہ کے سامنے کھڈرو روڈ پر دھرنا دیا۔مظاہرین نے تھانہ کے باہر پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کی ۔احتجاج کرنے والوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ایس ایچ اور سنجھورو زاہد حسین بروہی سمیت سنجھورو پولیس اسٹیشن کے متعدد افسران اور اہلکار جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کر رہے ہیں۔سنجھورو پولیس باقاعدگی سے منشیات فروشوں ، جوے کے اڈے چلانے والوں اور ڈکیتی اور چوری جیسے جرائم کرنے والے جرائم پیشہ افراد سے منتھلیاں وصول کرتی ہے۔ مفرور ڈاکو شہریوں کو فون کر کے سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ احتجاج کرنے والوں نے چیف جسٹس آف پاکستان ، آئی جی سندھ، وزیر اعلیٰ سندھ اور دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی کرنے والے پولیس افسران کے خلاف سخت کاروائی کی جائے اور شہریوں کے جان و مال کی حفاظت یقینی بنائی جائے۔صحافیوں کی جانب سے ایس ایچ او کا موقف جاننے کی کوشش کی گئی لیکن ایس ایچ او اپنا موقف دینے کی بجائے غائب ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button