تازہ ترینعلاقائی

راولپنڈی:سانحہ پشاور پراگر آسمان بھی خون کے آنسو روئے تو کم ہے۔مریم اونگ زیب

راولپنڈی (ڈپٹی بیورو چیف)داخلہ امور کی وفاقی پارلیمانی سیکریٹری محترمہ مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ سانحہ پشاور پراگر آسمان بھی خون کے آنسو روئے تو کم ہے۔ شہدا پشاور کے معصوم خون سے جو دھرتی رنگین ہوئی ہے اس کی پہلے کوئی مثال موجود نہیں۔پاک فوج کا ساتھ نہ دینے اوردہشت گروں کے ساتھ نرم گوشہ رکھنے والی جماعتوں اورشخصیات سے لاتعلقی اور ان کا محاسبہ کرنا ہوگا وگرنہ قوم ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مسلم لیگ یوتھ ونگ کے زیراہتمام مسلم لیگ ہاؤس میں سانحہ پشاور کے حوالے سے منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،تقریب سے راجہ ناصر محفوظ،تنویر اختر شیخ،سردار نذیر کشمیری،ثاقب ظفر ،چوہدری عاصم،چوہدری اکرم،شایان لقی،ملک آصف ،تنویر بنارس،حافظ اکرم ،راجہ وقاص،چوہدری ثاقب اور چوہدری انعام سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا،پارلیمانی سیکریٹری مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف صدق دل اور نیک نیتی سے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے اقدامات کررہے ہیں اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی انہیں مکمل سپورٹ اور حمائیت حاصل ہے،پاک فوج کے افسران اور جوان اس ملک کیلئے قربانیاں دے رہے ہیں اور اپنی جانوں ک نذرانے پیش کررہے ہیں وقت آگیا ہے کہ فوج کی کھل کر حمائیت کی جائے یا پھر دہشت گردوں کی صف میں کھڑاہونا پڑے گا،انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور جنونیت جس کا امت مسلمہ اور باالخصوص پاکستان شکار ہے اسے ختم کرنے کے لیے چار اطراف سے بیک وقت یلغار کی ضرورت ہے۔ ایک حکومتی اقدامات جو ایک مربوط پالیسی اور عزم مصمم کے ساتھ ہوں، دوسرا قوت بازو کا استعمال کرتے ہوئے مسلح افواج اور سیکورٹی کے ادارے ایسے زہریلے سانپوں کا سر کچل کر رکھ دیں۔ تیسری سطح پر موثر اور فوری عدالتی نظام کے تحت مجرموں کے مقدمات کا فیصلہ اور ان پر بلاتاخیر عمل۔ چوتھا اور سب سے اہم فکری محاذ پر جنگ ہے جس میں ہر ایک کو شریک ہونا پڑے گا۔ اس سوچ کے خلاف لڑنا ہوگا جو دہشت گرد پیدا کرتی ہے۔ دہشت گروں کے ساتھ نرم گوشہ رکھنے والی جماعتوں اورشخصیات ،دہشت گردوں کے حامیوں ، ہمدردوں اور نرم گوشہ رکھنے والوں سے لاتعلقی اور ان کا محاسبہ کرنا ہوگا۔ دہشت گردی کے خلاف جہاد میں ہمیں اپنی نوجوان نسل کو اسلام کی اصل تعبیرو تشریح سے روشناس کروانا ہوگا جو انسانیت کے نام اللہ کی آخری وحی میں موجود ہے۔ ہمیں فکر اقبال کو عام کرنا ہوگا اور علامہ جو پیامبر قران اور دور حاضر کے مسائل کا حل اسلام کی روشنی میں دے گئے ہیں اسے اجاگر کرنا ہوگا۔ ہر تعلیم یافتہ طبقہ تک خطبات اقبال کا پیغام پھیلانا ہوگا۔ مذہبی انتہا پسندی کے خلاف قرانی تعلیمات سے نوجوان نسل کو آگاہ کرنا ہوگا۔اسلام نے اعتدال کا جو درس دیا ہے اسے عام کرنا ہوگا۔ قرآنی تعلیمات اور اقبالیات کو تعلیم نصاب کا حصہ بنانا ہوگا۔ پہلے خو د فہم قرآن حاصل کرنا ہوگا اور پھر اپنے بچوں کو بھی تعلیم دینا ہوگی۔اگر ہم اپنے بچوں کو اسلام نہیں سکھائیں گے تو پھر کوئی اور سکھائے گا اور یہ نہ ہو کہ موقع ہاتھ سے نکل جائے اور وہ انہی دہشت گروں کے ہتھے چڑھ جائیں۔ اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔ ہر کام حکومت پر ہی نہیں چھوڑنا چاہیے بلکہ یہ عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ دہشت گروں کے خلاف فکری جنگ میں فعال کردار ادا کرے اور ایسے اداروں جہاں سے ایسے ظالم لوگ پروان چڑھتے ہیں ان پر نظر رکھیں۔ دہشت گروں کو کا مارنے کے ساتھ ساتھ ان نرسریوں کو بھی ختم کرنا ہوگا جہاں سے یہ پیدا ہوتے ہیں۔ پنجابی کی کہاوت ہے کہ برے کی ماں کو مارو تاکہ براپیداہی نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں  پنجاب کو مثالی صوبہ بنانے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں،شہباز شریف

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker