پاکستانتازہ ترین

شمالی وزیرستان میزائل حملے میں حکیم اللہ محسود مارا گیا،غیر ملکی نیوز ایجنسی

hakeem ul mehsudکراچی (ڈیسک رپورٹر)غیر ملکی نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی وزیرستان میں میزائل حملے کے دوران تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود ہلاک ہوگئے ہیں، سرکاری ذرائع اور طالبان کی جانب سے حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کی تاحال تصدیق نہیں کی گئی۔غیر ملکی نیوز ایجنسی کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے درپہ خیل میں ایک گاڑی اور مکان پر میزائل حملے کئے گئے جس میں تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود ہلاک ہوگئے ہیں، ہلاک ہونے والوں میں ان کے قریبی ساتھی طارق محسود اور عبداللہ بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب ترجمان وزارت داخلہ اور تحریک طالبان پاکستان نے حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کی خبروں کی تاحال تصدیق نہیں کی۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کرسکتے، اس حوالے سے معلومات اکٹھی کی جارہی ہیں، مکمل اطلاعات ملنے پر ہی سربراہ تحریک طالبان کے مرنے یا نہ مرنے کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ : اوکاڑہ مسلم لیگ(ن) کا گڑھ ہے جہاں بسنے والے لوگ مسلم لیگ(ن) سے بے حد لگاؤ رکھتے ہیں. میاں محمد منیر

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

  1. ہزاروں بے گناہ پاکستانی مردوں ،عورتوں اور بچوں کا یہ
    سفاک،ظالم اور بے رحم قاتل اور ایک انتہائی مطلوب دہشتگرد بالآخر اپنے انجام کو پہنچا۔ اللہ کی لاٹھی بے
    آواز ہوتی ہے ، مظلوم کی بد دعا
    اور اللہ کے عرش کے درمیان کوئی پردہ اور حجاب نہیں. مظلوموں کی بد دعائیں ظالم حکیم اللہ کو لے ڈوبیں ۔ جو اقوام ظلم وجبر ،انتہا پسندی
    و دہشتگردی کے خلاف آواز بلند نہیں کرتیں تو ان کا بھی شمار یزیدی لشکر میں ہی
    ہوتا ہے ۔ظلم کیخلاف آواز
    بلند نہ کرنا ظالم کی حوصلہ افزائی ہے اوراس سے دنیا میں ظلم کو فروغ حاصل ہوتا ہے .

    مبصرین کے خیال میں حکیم اللہ محسود کے چلے
    جانے سے طالبان کی جدو جہد فوری طور پر کمزور پڑ جائے گی۔ تنظیم کے اندر مختلف گروپ ،جانشینی
    پر ،آپس میں لڑائی جھگڑا شروع کر دیں گے جس سے تنظیم کمزور پڑ جائے گی اور اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کے قابل نہیں رہے گی۔ مزید ٹکروں
    میں بٹ جانے کی وجہ سے طالبان کے پاکستان کو مزید نقصان پہنچانے کی صلاحیت کو
    ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ حکیم اللہ محسود انتہائی
    بدترین دہشتگرد اور پاکستان کا دشمن تھا جس نے پاکستانی سیکورٹی فورسز کے خلاف ،نام نہاد ،اعلان جہاد کیا تھا۔ بلا شبہ حکیم
    اللہ محسود کا مارا جانا طالبان کے لیے
    بہت بڑا دھچکا ہے.

  2. ہزاروں بے گناہ پاکستانی مردوں ،عورتوں اور بچوں کا یہ
    سفاک،ظالم اور بے رحم قاتل اور ایک انتہائی مطلوب دہشتگرد بالآخر اپنے انجام کو پہنچا۔ اللہ کی لاٹھی بے
    آواز ہوتی ہے ، مظلوم کی بد دعا
    اور اللہ کے عرش کے درمیان کوئی پردہ اور حجاب نہیں. مظلوموں کی بد دعائیں ظالم حکیم اللہ کو لے ڈوبیں ۔ جو اقوام ظلم وجبر ،انتہا پسندی
    و دہشتگردی کے خلاف آواز بلند نہیں کرتیں تو ان کا بھی شمار یزیدی لشکر میں ہی
    ہوتا ہے ۔ظلم کیخلاف آواز
    بلند نہ کرنا ظالم کی حوصلہ افزائی ہے اوراس سے دنیا میں ظلم کو فروغ حاصل ہوتا ہے .

    مبصرین کے خیال میں حکیم اللہ محسود کے چلے
    جانے سے طالبان کی جدو جہد فوری طور پر کمزور پڑ جائے گی۔ تنظیم کے اندر مختلف گروپ ،جانشینی
    پر ،آپس میں لڑائی جھگڑا شروع کر دیں گے جس سے تنظیم کمزور پڑ جائے گی اور اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کے قابل نہیں رہے گی۔ مزید ٹکروں
    میں بٹ جانے کی وجہ سے طالبان کے پاکستان کو مزید نقصان پہنچانے کی صلاحیت کو
    ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ حکیم اللہ محسود انتہائی
    بدترین دہشتگرد اور پاکستان کا دشمن تھا جس نے پاکستانی سیکورٹی فورسز کے خلاف ،نام نہاد ،اعلان جہاد کیا تھا۔ بلا شبہ حکیم
    اللہ محسود کا مارا جانا طالبان کے لیے
    بہت بڑا دھچکا ہے.

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker