پاکستانتازہ ترین

آج کے دن 3نومبر کوایمرجنسی لگاکر آزاد عدلیہ اورمیڈیا پرکاری ضرب لگائی گئی تھی

mushrafکراچی(نمائندہ خصوصی) 3نومبر 2007ء کو اس وقت کے فوجی سربراہ نے ملک میں ایمرجنسی لگا کر آزاد عدلیہ اور میڈیا پر کاری ضرب لگائی۔ اس کو اب 6سال گذر چکے ہیں۔ ملک کی سول سوسائٹی اور ذرائع ابلاغ کو حق اور سچ کہنے سے روکنے کے اس اقدام کو سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔ جمہوری وزیر اعظم کو جیل بھیج کر اقتدار سنبھالنے والے سابق فوجی حکمران پرویز مشرف نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے 3نومبر 2007ء کو دوسری بار آئین معطل کیا۔ ملک میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کو گھروں میں نظر بند کر دیا گیا۔ جیو نیوز سمیت کئی ٹی وی چینلز کو بند کر کے عوام تک اطلاعات کی رسائی کو روکنے کی کوشش کی گئی۔طاقت کے زور پر اقتدار میں آنے والے حکمران کے اس غیر آئینی اقدام کے سامنے وکلاء ، میڈیا اور سول سوسائٹی ڈٹ گئی۔ ملک بھر میں احتجاج شروع ہوگیا۔ایمرجنسی کے خلاف جدوجہد میں ملک کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہوگئی۔ اور طالع آزما حکمران کے سامنے ڈٹ کھڑے ہوئے۔پرویز مشرف کی جانب سے لگائی گئی ایمرجنسی 42 روز جاری رہی لیکن ملک گیر احتجاج نے اقتدار کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ ملک کی سیاسی قیادت اور عوامی ردعمل پر سابق صدر پرویز مشرف کو نہ صرف وردی اتارنی پڑی۔ بلکہ فروری 2008ء میں ہونے والے عام انتخابات میں عوام نے سابق صدر کا ساتھ دینے والی سیاسی جماعتوں کو بھی بری طرح رد کر دیا۔ اور پاکستان میں جمہوریت کی گاڑی ایک بار پھر پٹری پر چل پڑی۔ عوامی حلقے آج بھی توقع کرتے ہیں کہ سابق صدر پرویز مشرف کے غیر آئینی اقدامات پر ان کا اور ان کا ساتھ دینے والوں کا احتساب کیا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!