تازہ ترینعلاقائی

کسانوں کا استحصال ختم نہ ہواتو لٹیروں کوگلی کوچوں میں عبرت کا نشان بنا دیں گے۔ سردار ظفرحسین

sardar zafarلاہور (پریس ریلیز)کسان بورڈ کے مرکزی صدر سردار ظفر حسین نے اپنے دفتر میں صوبائی صدور اور میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے کہا کہ 20نومبر 2013 بروز بدھ خیبر سے کراچی اور لاہور سے کوئٹہ تک کسانوں کا تاریخی احتجاج ہوگا۔ کسان اپنے مطالبات منوانے کیلیے سڑکوں، پریس کلبوں، ضلعی صوبائی انتظامیہ کے دفاتر، شوگرملوں کے باہر احتجاجی مظاہرے کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے گنے کی کرشنگ اور گندم کی بوائی کاسیزن شروع ہونے کے باوجود گنے اور گندم کی امدادی قیمتوں کا اعلان نہ کر کے کاشت کاروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے جب کہ تیل ،بجلی،کھاد،مشینری ،زرعی ادویات کی قیمتوں میں پچاس فی صد اضافہ ہو چکا ہے اور وعدے کے باوجود زرعی ٹیوب ویلوں کیلیے بجلی سستی کرکے فلیٹ ریٹ ابھی تک مقرر نہیں کیا۔ ہمارے دریاؤں کے پانی پر انڈیا نے بند باندھ کر نہروں اور دریاؤں کو خشک کر دیا ہے رہی سہی کسر با اثر پانی چوروں اور مہنگائی نے نکال دی ہے زراعت گھاٹے کا سودا بن چکی ہے ۔ بار بار حکومت سے کسانوں کے جائز مطالبات ماننے کا کہا گیا مگر حکمرانوں کو صرف اپنی شوگر ملوں، فلور ملوں،رائس ملوں اور کاٹن ملوں کے ذریعے کسانوں کی لوٹ مار کرکے ناجائز منافع خوری کرنے کی عادت پڑ چکی ہے اور قریب المرگ زراعت دم توڑ گئی تو ملک ایتھوپیا اور صومالیہ بن جائے گا۔کسان بورڈ حکومت سے مطالبہ کرتاہے کہ وہ گنے کی قیمت 230 روپے فی من ،اور گندم کی امدادی قیمت 1500 روپے فی من مقرر کرے، زراعت کیلیے بجلی سستی کرے ،کسانوں کو تھانہ اور پٹوار کلچر سے نجات دلائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پر امن احتجاج کے بعد بھی ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو پھر جلد ہی صوبائی اور مرکزی دارالحکومتوں میں دھرنوں کی کال دی جائے گی اور کسانوں کو لوٹنے والوں کو عبرت کا نشان بنا کر دم لیں گے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button