تازہ ترینعلاقائی

بہاول نگر:بچوں پرجنسی تشددایک قبیح فعل ہے،چائلڈرائٹس کمیٹی

downloadبہاول نگر( رانا فیصل رحمن سے) بچوں پر جنسی تشددایک قبیح فعل ہے جو ہمیشہ سے ایک گمنام مسئلہ رہا ہے سال 2012 میں بچوں پر جنسی تشدد کی 2788 خبریں میڈیا پر آئیں یعنی پا کستان میں روزانہ 7 سے8 بچوں کو کسی نہ کسی حو الے سے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔تشدد کا شکار ہونے والے بچوں میں ہر طبقے کے بچے شامل تھے لیکن کم وسائل والے خاندانوں کے بچوں کی خبریں زیادہ رپورٹ ہوئیں سب سے زیادہ خبریں پنجاب سے آئیں جو کل واقعات کا 68 فیصد بنتے ہیں چائلڈ رائٹس کمیٹی بہاولنگر۔اس سارے پس منظر میں ہمیں پنجاب حکومت کا کردار بڑا مبہم نظر آتا ہے پچھلے پانچ سال سے پنجاب میں بچوں کے حقوق یا ان کے تحفظ کے لئے ایک بھی قانون نہیں بنایا گیا جب بھی کوئی ایسا واقع ہوتا ہے تو لوگ یہ توقع کر رہے ہوتے ہیں کہ اس کا نوٹس یا تو وزیراعلیٰ لیں یا پھر چیف جسٹس ۔قانون نافذ کرنے والے ادارے اور اس مسئلے سے منسلک دیگر محکمے اس مسئلے سے نبٹنے کی پوری استطا عت نہیں رکھتے ادارے عام طور پر حرکت میں تب آتے ہیں جب بڑی بڑی خبریں چھپتی ہیں اوراعلٰی حکا م ان کو ہدایات جاری کرتے ہیں دوسری صورت میں معاملات وہیں کے وہیں لٹکے رہتے ہیں ۔یہ چیزظاہر کرتی ہے کہ اداروں کے پاس پہلے سے طے شدہ پالیسی گائیڈ لائنز واضح نہیں ہیں ۔کہ یہ بھی ایک حقیت ہے کہ پنجا ب میں صوبے کی سطح پر چائلڈ پروٹیکشن پا لیسی موجود ہی نہیں ہے۔13ستمبر2013کو لاہور میں5سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کا واقعہ پیش آیا جس کا مجرم وزیر اعلٰی کے نوٹس لینے کے باوجود آج تک نہیں پکڑا گیا ۔13ستمبر سے آج تک بچوں پر جنسی تشدد کے 50سے زیادہ مزید واقعات میڈیا پر رپورٹ ہوئے جن میں سے چند ایک کا ہی نوٹس لیا جاسکا۔بچوں پر جنسی تشدد کا مسئلہ اعلیٰ حکام کے محض نوٹس لے لینے سے حل نہیں ہوگا بلکہ اس کے لئے ہمیں ایک مربوط پالیسی چاہیے تاکہ ادارے ایسے واقعات کے رونما ہونے پر خود کار طریقے سے حرکت میں آجائیں چائلڈ رائٹس کمیٹی مطالبہ کرتی ہے کہ بچوں پر تشدد کے واقعات کی روک تھا م کے لئے صوبائی حکومت جنگی بنیادوں پر جامع چائلڈ پروٹیشن پالیسی بنائے جس میں متعین وقت میں تمام اداروں کا کردار واضح ہو اور عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں ذمہ دارافراد کی تادیب بھی کی جاسکے ڈسٹرکٹ کوارڈینیٹرچائلڈ رائٹس کمیٹی ڈاکٹر ظفر عباس بْھٹہ ساتھیوں کے ساتھ پر یس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھانے میں بچوں پر جنسی تشدد کے واقعات کا اندراج ان ہی قانوتی دفعات کے تحت ہورہا ہے جو بڑوں کے لئے ہیں چائلڈ رائٹس کمیٹی چاہتی ہے بچوں کے لئے خصوصی قانون سازی کی جائے جن میں مرکزی حیثیت بچوں کے خلاف جنسی تشدد دہشت گردی کے زمرے میں لایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں  ’’اقتصادی راہداری کا روٹ‘‘

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker