تازہ ترینعلاقائی

سنجھورور: پوسٹ آفیس سنجھورو میں رشوت کا بازار گرم

سنجھورو(نامہ نگار) سنجھوروپوسٹ آفیس میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت غریب اور نادار عورتوں کی قسط فی کس 3000روپے دیئے جا رہیں ہیں اس تقسیم میں بے ضابطگیوں کا انکشاف ہو اہے جس کے تحت ہر فارم پر 500 روپئے رشوت لی جارہی ہے اور مقامی عملے نے فارم تقسیم کرنے کے لئے پرائیویٹ ایجنٹ مقرر کر رکھے ہیں اورBISPکے فارم علاقے کے حساب سے آپس میں تقسیم کر لئے ہیں اور غریب اور بے سہارا عورتوں کو غیر قانونی طور پر لوٹاجارہا ہے ۔انتہائی با وثوق زرائع سے معلوم ہو ہے کہ گذشتہ سال کی تباہ کن برساتوں کی وجہ سے کچھ متاثرین اپنا گھر بار چھوڑ کر عارضی طور پر دوسری جگہ منتقل ہو گئے ہیں ان کی رقم بھی ایجنٹوں کی مدد سے ملی بھگت کر کے جاری کی جارہی ہے۔دری اثناء جن عورتوں کا اس عرصہ میں انتقال ہو گیا ہے اُن خواتین کی رقم بھی ملی بھگت کر کے نکال کر ہڑپ کر لی گئی۔ واضع رہے کی حکومت کی جانب سے پاکستان پوسٹ کو یہ رقم حقداروں کو ان کے گھر پر مہیا کرنی ہیں لیکن سنجھورو پوسٹ آفیس کا عملہ افسران کی ملی بھگت سے یہ رقم پوسٹ آفیس سنجھورو میں ان افراد کوگھر کے بجائے کاؤنٹر پر دی جا رہی ہے۔کے جب یہ معاملہ میڈیا کی نوٹس میں آیا تو پوسٹ ماسٹر سنجھورو رسول بخش رند سے رابطہ کیا گیا رسول بخش رند کا موقف تھا کہ ہم یہ رقم بالا افسران کی ہدایت پر وصول کر رہے ہیں اور ہمیں باقائدہ رقم بالا افسران کو دینی پڑتی ہے اس لئے ہم مجبور ہو کر اضافی رقم لے رہیں ہیں۔دوسری طرف جب متاثرین سے رابطہ کیا گیا تو متاثرین نے بتایا کہ پوسٹ آفیس کے عملے نے کرپشن کا بازار گرم کر رکھا ہے اور مقامی عملے نے آپس میں ملی بھگت کر رکھی ہے اور جو بھی رقم دینے ے انکار کرتا ہے تو اس کو آفیس کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں اور مختلف بہانے بنا کر رقم دینے سے انکار کیا جاتا ہے۔ جس وقت سے حکومت کی جانب سے اس اسکیم کا اعلان کیا گیا ہے پوسٹ آفیس عملے کی چاندی ہو گئی ہے اور عملے کا چھوٹے سے چھوٹا اہلکار رشوت لے کر گاڑیوں کے مالک بن گئے ہیں۔BISP پروگرام کے تحت ملنے والی رقم کے متاثرین نے چیئرمین BISP محترمہ فرزانہ راجہ اور وزیر اعظم پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ پوسٹ آفیس کے کرپٹ عملے کے خلاف سخت کاروائی کی جائے اور رشوت کے بازار کو فوری طور پر بند کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں  سانگلا ہل:بجلی چوروں کیخلاف مقدمات درج

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker