تازہ ترینعلاقائی

بھائی پھیرو: ڈکیتی اور چوری کی پے درپے چاروارداتوں میں شہری کروڑوں روپوں سے محروم

phool-negarبھائی پھیرو(نامہ نگار) تھانہ بھائی پھیرو صدر میں ڈکیتی اور چوری کی پے در پے چار وارداتوں میں شہری کروڑوں روپے سے محروم ،لوگوں میں خوف و ہراس،پولیس ڈکیتی کی وارداتوں کا سراغ لگانے میں ناکام۔شہریوں کی طرف سے ڈکیتی کی بڑھتی وارداتوں پر روڈ بلاک کر کے احتجاج کی دھمکی۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ چند روز میں بھائی شہرتھانہ صدر کے علاقے میں ڈاکو راج اور چور راج ہے ۔دن دیہاڑے ڈکیتی کی وارداتوں اور راتوں کو چوری کی وارداتوں سے لوگ سر شام گھروں میں دبک کر بیٹھ جاتے ہیں ۔گلیاں اور سڑکیں سنسان ہو جاتی ہیں ۔دوسری طرف پولیس نے ابھی تک کسی بھی ڈکیتی کا کوئی سراغ نہیں لگایا ۔ گزشتہ روز بائیس مسلح نامعلوم ڈاکوموضع جلیکی کے قریبabc کنسٹرکشن کمپنی کے سٹور میں آگھسے سے اور گن پوائینٹ پر وہاں پر موجود دو سیکورٹی دارڈوں کو یرغمال بنا کر اور تشدد کا نشانہ بنا کر ایک کمرے میں بند کردیا۔تقریبن چھبیس لاکھ 2600000) (روپے کے تین پیٹر انجن ،جنریٹر،شٹرنگ کا سامان،اور قیمتی سامان تین ٹرکوں میں لاد لیا۔گارڈوں سے پچیس ہزار نقدی،اورموبائل چھین کر فرار ہو گئے ۔ڈکیتی کی دوسری واردات میں بارہ مسلح ڈاکوؤں نے نواحی گاؤں دیو کے میں ایک فیکٹری میں گھس آئے اور لاکھوں روپے کا قیمتی سامان اور نقدی ٹرکوں میں لاد کر فرار ہوگئے ۔تیسری واردات میں نواحی گاؤں گھمن کا رہائشی شہزاد قمر ملازمت کے سلسلے بیرون ملک گیا ہوا تھا کہ گزشتہ روز پیچھے سے دن دیہاڑے سات مسلح ڈاکوؤں نے اسکے گھر سے بارہ لاکھ ستر ہزار روپے نقدی، پندرہ لاکھ روپے کے پچیس تولے کے سونے کے زیورات ،اور گھر کا تمام قیمتی سامان کل مالیتی تینتیس لاکھ(3300000) ٹرکوں میں ڈالکر فرار ہوگئے ۔چوری کی چوتھی واردات میں نواحی گاؤں بہرام کے میں غریب محنت کش مزدوری کیلیے گھر سے باہر گیا ہوا تھا کہ دو چوروں نے اس کے گھر سے سایہ دار درخت اکھاڑ لیا اور قیمتی پائپ چرا کر فرار ہوگئے۔ محمد عباس ،محمد عثمان ،زین العابدین سمیت درجنوں شہریوں نے ڈکیتی کی بڑھتی وارداتوں پر تشویش کا اظہار کر تے کہا ہے کہ اگر ان ڈکیتوں کا سراغ نہ لگایا گیا تو وہ روڈ بلاک کر کے شدید احتجاج کریں گے ۔ شہریوں نے اعلی پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلیے بھائی پھیرو پولیس کا کڑا احتساب کریں۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button