تازہ ترینعلاقائی

بھائی پھیرو:نوجوانوں نے روزگار سکیم کے قرضوں کو بلاسود دینے کامطالبہ کردیا

bhai pheruبھائی پھیرو(نامہ نگار) نوجوانوں نے روزگار سکیم کے قرضوں کو بلاسود دینے کامطالبہ کردیا،علما نے سودی قرضوں کو اللہ سے جنگ قرار دے دیا۔سرائے مغل کے ارد گرد کے سینکڑوں بے روزگار نوجوانوں اور مذہبی،سیاسی حلقوں نے نواز شریف کی بے روزگار سکیم کو ایک ڈھونگ اور سیاسی چالبازی قرار دیکر اس پر اپنے تحفظات کا اظہارکردیا۔معروف عالم دین قاری مشتاق احمد ،اور جماعت اسلامی کے رہنما سردار نور احمد ڈوگرنے اپنے اپنے بیان میں کہا کہ سود پر قرضے دیکر نوجوانوں کو اللہ سے جنگ کرنے کیلیے تیار کیا جارہاہے۔پہلے بھی شر یعت کورٹ نے جب سود کو حرام قرار دیکر اسے اسلام اور ملکی آئین کے خلاف قرار دیا تھا تو نواز حکومت نے ہی اس اسلامی فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کر کے خدائی قانون کا مزاق اڑایا تھا ااور اب بھی نوا ز شریف نے سود پر قرضے دیکر اللہ کے قانون کا مزاق اڑایا ہے۔نواحی گاؤں میگہ کے نوجوان رحمت اللہ،نوید احمد اور دیگر نے مطالبہ کیا کہ نوجوانوں کو بلاسود قرضے دیے جائیں اور ضمانت کی شرط ختم کرکے قرضے کی شرائط نرم کی جائیں کیونکہ غریب اور بے روزگار نوجوان کی لاکھوں روپے کی ضمانت کوئی نہیں دے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ قرضے مسلم لیگ ،،ن،،کے متوالوں کو ہی ملیں گے کیونکہ اس قرضے کیلیے کڑی شرائط کو پورا کرنا کسی عام غریب آدمی کے بس کا روگ نہیں۔ایک ایم اے پاس بے روزگار نوجوان عرفان احمدنے مطالبہ کیا کہ بے روزگار نوجوانوں کو اختیار دیا جائے کہ وہ بینکوں کے ڈوبے اور ہڑپ کئے گئے کھربوں روپے لٹیروں سے واپس لیں اور حکومت ان واگزار رقوم سے نوجوانوں کو بلاسود قرضے دے اس طرح ایک طرف تو قوم کے ڈوبے اربوں روپے واپس قومی خزانے میں آجائیں گے اور دوسری طرف بے روزگار نوجوانوں کو روزگار مل جائیگا۔ایک سیاسی رہنما حاجی محمد رمضان نے کہا کہ اس سکیم کے اربوں روپے حکمران ٹولہ کے متوالے اور جیالے ہڑپ کر لیں گے اصل حقداروں کو دھکوں کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔یہ سکیم آئندہ بلدیاتی الیکشن میں نوجوانوں کے ووٹ لینے کیلیے ایک دھوکہ اور فراڈ ہے کیونکہ پہلے بھی ،،بے نظیر انکم سپورٹ سکیم ،،اور ،،فوڈ سٹیمپ سکیم ،، میں اصل حقداروں کی بجائے حکمران ٹولے کے جیالوں اور متوالوں نے موجیں اڑائیں۔ان تمام شہری رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ قرضے بلاسود دیے جائیں،شرائط نرم کی جائیں اور تمام درخواستوں کو آن لائن ویب سائٹ پر دیکر تمام عمل کو صاف اور شفاف بنایا جائے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button