تازہ ترینعلاقائی

بھائی پھیرو:تھرمیں لا تعدادمعصوم بچوں کی ہلاکت حکومت سندھ کی غفلت کانتیجہ ہے،عثمان غنی

بھائی پھیرو(نامہ نگار) تھر میں لا تعدادمعصوم بچوں کی ہلاکت حکومت سندھ کی غفلت کانتیجہ ہے۔قحط سے سندھ کے2650دیہات اورسوا دولاکھ خاندان متاثر ہوئے۔پیپلز پارٹی ناچ گانے دیکھنے میں مصروف رہی انسانیت سسکتی رہی۔تفصیلات کے مطابق نواحی گاؤں بلیرمیں چوہدری ظفر بشیر کے ڈیرے پر کسانوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ا میر جماعت اسلامی ضلع قصور عثمان غنی نے تھر میں قحط کے باعث سینکڑوں بچوں کی ہلاکت پر شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے سندھ حکومت کی مجرمانہ غفلت قرار دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ قحط سے سوا دو لاکھ لاکھ خاندان متاثراور150کے قریب بچے جاں بحق ہوئے جبکہ 26سو نئے مریض ہسپتالوں میں داخل کیے گئے ہیں۔کروڑوں روپے ’’سندھ کلچر کے تحفظ‘‘کے نام پر خرچ کرنے والے قوم کو بتائیں کہ تھر میں محکمہ خوراک کے گودامو ں پر تالے کس نے لگائے۔انہوں نے کہاکہ70ہزار گندم کی بوریوں کو ذخیرہ کرنے والے قومی مجرم ہیں اس گھناؤنے جرم میں ملوث افراد کو عبرت ناک انجام تک پہنچایاجاناچاہئے۔بھوک پیاس سے نڈھال تھر کی عوام کی مشکلات برقرار ہیں۔2650دیہات میں نہ امداد پہنچی اور نہ ہی میڈیکل ٹیمیں۔ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوچکے ہیں۔کسان بورڈ پاکستان کے سیکرٹری اطلاعات نے وزیراعلیٰ سندھ کے بیان پرکہ’’قحط ہر سال آتا ہے اس بار میڈیا نے معاملہ بڑھادیا‘‘ شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ اپنی نااہلی چھپانے کے لئے اوچھے ہتھکنڈوں پر اترآئی ہے اور اپنا غصہ میڈیاپراتاررہی ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں معصوم بچوں کی ہلاکت کتنابڑاسانحہ ہے لیکن سینکڑوں دیہات میں امدادی کاروائیاں تاحال شروع نہیں ہوسکیںیہی وجہ ہے کہ ڈیپلو،چھاچھرو اور ننگرپار کرسمیت دیگر علاقوں سے ہزاروں افراد بدین،ٹنڈو باگو،نوکوٹ اورسانگھڑ کارخ کررہے ہیں۔بچے غذائی قلت کاشکار ہوکر نمونیا،بخار،دست وقے،خون اوروزن کی کمی اور ہیپاٹائٹس جیسے موزی امراض کاشکار ہورہے ہیں۔فصلیں تباہ ہوچکی ہیں اور ہزاروں مویشی بھی مرچکے ہیں وزیر اعلیٰ سندھ کے لئے یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ہسپتال انتظامیہ زمین پر بستر لگاکر بچوں کاعلاج کرنے پر مجبور ہے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!